امریکی ریاست ٹینیسی میں 200 سال کے طویل عرصے کے بعد ایک خاتون کو سزائے موت دی جا رہی ہے۔ کرسٹا پائیک نامی 50 سالہ خاتون کو بدھ کے روز مہلک انجیکشن کے ذریعے موت کی سزا دی جائے گی۔ یہ سزا 1995 میں ایک ہم جماعت کے قتل کے جرم میں سنائی گئی تھی۔
کرسٹا پائیک کا جرم اور سزا
کرسٹا پائیک کو 18 سال کی عمر میں ہم جماعت کالین سلمر کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق، پائیک کو شک تھا کہ سلمر اس کے بوائے فرینڈ کی جانب مائل ہے، جس پر اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر سلمر کو اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا۔ اس جرم کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب مقتولہ کے جسم پر شیطانی علامت بنائی گئی۔
- کرسٹا پائیک کو 1995 میں کالین سلمر کے قتل کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔
- اس وقت پائیک کی عمر صرف 18 سال تھی۔
- یہ قتل ایک حسد کی آگ میں کیا گیا تھا۔
- مقتولہ کے جسم پر شیطانی علامت بنائی گئی تھی۔
سزائے موت کی تاریخ اور تنازعہ
کرسٹا پائیک کی سزائے موت کی تاریخ 29 ستمبر 2026 مقرر کی گئی تھی۔ یہ ٹینیسی کی تاریخ میں کسی خاتون کے لیے 200 سال بعد پہلی موت کی سزا ہوگی۔ پائیک کے وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس سزا کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پائیک نے یہ جرم کم عمری میں اور شدید ذہنی دباؤ کے تحت کیا تھا۔
دفاعی دلائل اور جذباتی پس منظر
کرسٹا پائیک کے وکلاء نے عدالت میں پیش کی گئی درخواستوں میں بتایا ہے کہ پائیک نے بچپن میں شدید جنسی تشدد اور نظر اندازی کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق، پائیک کو بچپن سے ہی جنسی ہراساں کیا گیا اور 11 سال کی عمر میں اسے ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیک کو بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) جیسے ذہنی امراض لاحق ہیں۔
ذہنی صحت اور کم عمری کا معاملہ
پائیک کے وکلاء نے عدالت میں یہ دلیل دی کہ جرم کے وقت پائیک کی عمر کم تھی اور وہ شدید ذہنی امراض کا شکار تھی۔ ان کے مطابق، پائیک کے وکلاء نے مقدمے کے دوران اس کے بچپن کے ان حالات کو مناسب طور پر پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس کی کم عمری کو سزا میں رعایت کے لیے استعمال کیا۔
- پائیک کے بچپن میں جنسی تشدد اور نظر اندازی کے واقعات ہوئے۔
- 11 سال کی عمر میں ریپ کا شکار ہوئیں۔
- بائی پولر ڈس آرڈر اور PTSD کا شکار ہیں۔
- وکلاء نے کم عمری اور ذہنی حالت کو مقدمے میں مؤثر طریقے سے پیش نہیں کیا۔
مقتولہ کے خاندان کا مؤقف
کالین سلمر کی والدہ جینیٹ سلمر نے کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دہائیوں سے اس دن کا انتظار کیا ہے جب ان کی بیٹی کے قاتل کو سزا ملے گی۔ انہوں نے پائیک کی جانب سے رحم کی اپیل کو مسترد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ٹینیسی گورنر کا فیصلہ
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے اور عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا۔ پائیک کے وکلاء نے سپریم کورٹ سے سزائے موت پر حکم امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
امریکا میں سزائے موت کی صورتحال
امریکہ میں سزائے موت کا سلسلہ جاری ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2026 میں امریکہ میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کرسٹا پائیک کا معاملہ ایک بار پھر ملک میں موت کی سزا کے جواز اور انسانی حقوق کے حوالے سے بحث کو ہوا دے رہا ہے۔
نتیجہ
کرسٹا پائیک کا کیس امریکا میں سزائے موت کے نظام پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف مقتولہ کا خاندان انصاف کا متقاضی ہے، تو دوسری طرف پائیک کے وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان اس کی کم عمری، ذہنی حالت اور بچپن کے تشدد کو سزائے موت کے خلاف دلائل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ امریکا میں عدالتی نظام، انسانی حقوق اور سزائے موت کے اخلاقیات پر ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کرسٹا پائیک کو کس جرم میں سزا سنائی گئی ہے؟
کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی 18 سالہ ہم جماعت کالین سلمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔
یہ سزا ٹینیسی کی تاریخ میں کتنی اہم ہے؟
یہ سزا 200 سال کے عرصے میں ٹینیسی میں کسی خاتون کو دی جانے والی پہلی سزائے موت ہے۔
کرسٹا پائیک کے وکلاء کے مطابق، ان کے دفاع کی بنیاد کیا ہے؟
ان کے وکلاء کے مطابق، پائیک نے جرم کم عمری میں اور شدید ذہنی امراض اور بچپن میں تشدد کے باعث کیا تھا۔
مقتولہ کالین سلمر کے خاندان کا اس معاملے پر کیا مؤقف ہے؟
مقتولہ کی والدہ جینیٹ سلمر نے کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کی خواہش ظاہر کی ہے اور رحم کی اپیل مسترد کرنے کا کہا ہے۔
















