مشرق وسطیٰ: ایران کا دعویٰ — امریکہ دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہا ہے؛ قطر مذاکرات کی کوشش میں
ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اطلاعات ملی ہیں کہ امریکہ ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ انتباہ اس وقت آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر ‘فیصلے کے موڈ’ میں ہیں، اور قطر دونوں فریقوں کے درمیان مختصر معاہدے کے ذریعے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الجزیرہ نے 21 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز — جو ایرانی مسلح افواج کی نگرانی کرتا ہے — نے اتوار کو یہ انتباہ جاری کیا۔ تہران نے کہا کہ امریکی حملوں کی تجدید پر مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور مفادات کے خلاف جوابی کارروائی ہوگی، اور علاقائی ممالک کو واشنگٹن کی مدد سے گریز کی تلقین کی۔ فوجی کمانڈ کے مطابق جو ریاستیں اپنا علاقہ یا سہولیات امریکی حملوں کے لیے مہیا کریں گی انہیں ‘شریک جرم’ سمجھا جا سکتا ہے اور ایرانی ردعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز پر کہا کہ ان کے اختیارات میں مزید فوجی کارروائی، معاشی دباؤ یا معاہدہ شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر نیو یارک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے کھلے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کی شام کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے لیے روانہ ہوئے اور قطر میں مختصر وقوف کر رہے ہیں۔
اسپیکرِ پارلیمان محمد باقر قالیباف نے قانون سازوں سے کہا کہ تہران کو سفارتی فوائد سے پہلے مخالفین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ تہران نے قطری اور پاکستانی ثالثوں سے کہا ہے کہ مذاکرات کی شرائط میں جنگ اور امریکی حملوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی، اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہیں۔ قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک واشنگٹن ایران کے بقول سابقہ معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے نہ کرے۔
قطر کے وزارت خارجہ ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوہا کو امریکی حکام سے یقین دہانی ملی ہے کہ واشنگٹن معاہدہ چاہتا ہے۔ قطری ثالث دارالحکومتوں کے درمیان تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ تصادم آبنائے ہرمز — خلیج کو عربی سمندر سے جوڑنے والا اہم توانائی راستہ — کو متاثر کر رہا ہے۔ شپنگ ڈیٹا نے دکھایا کہ ویک اینڈ پر 12 مال بردار جہاز آبنائے سے گزرے، جو پچھلے ویک اینڈ کے 35 سے کم ہیں۔ جنگ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ جون کا 60 روزہ میمورنڈم گزشتہ ماہ ختم ہوا، جس کے بعد ہرمز کے گرد حملے بڑھے۔
متوازی طور پر رائٹرز اور دیگر ذرائع نے یمن میں حوثی پیش قدمی اور توانائی راستوں پر دباؤ کی خبر دی ہے؛ تاہم اس رپورٹ کا مرکزی پیگ ایرانی فوجی دعویٰ، امریکی فیصلے کا موڈ، اور قطری ثالثی ہے۔ دونوں فریق دباؤ بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ ہفتے کے گرد ممکنہ سفارتکاری کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔
اگلے دنوں میں نیو یارک میں ممکنہ ملاقات یا رابطے، آبنائے ہرمز کی آمدورفت، اور کسی نئے فوجی واقعے کی تصدیق اس بحران کی سمت طے کریں گے۔ دعووں اور تصدیق شدہ واقعات کو الگ رکھنا ضروری ہے: ایرانی فوجی انتباہ ایک دعویٰ ہے؛ ٹرمپ کے بیانات اور قطری ثالثی کی کوششیں رپورٹ شدہ موقف ہیں۔


















