آذربائیجان کے کوپ29 کی میزبانی والے سال کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ باکو اور مشرقی شراکت داری کے دوسرے ملکوں کے رپورٹرز کانفرنس کے دوران حاصل ہونے والی میڈیا صلاحیت کو توانائی، جنگلات اور موسمیاتی انصاف پر طویل تحقیقات میں بدل رہے ہیں۔ اس کام کو ایک سرحد پار صحافتی پروگرام کی مدد حاصل ہے، جو مشرقی شراکت داری کے نیوز رومز کو یورپی یونین کے ساتھیوں سے جوڑتا ہے۔
سربراہی اجلاس کی کوریج سے تحقیقاتی تسلسل تک
باکو میں 11 سے 22 نومبر 2024 کو ہونے والے کوپ29 نے آذربائیجانی میڈیا کو شدید بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا تھا۔ اجلاس سے پہلے کوپ29 کی صدارت اور اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے باکو میں ابلاغی حکمت عملی، ایکریڈیٹیشن اور بلیو و گرین زون کے میڈیا انتظامات پر ورکشاپس منعقد کیں۔ مقصد یہ تھا کہ مقامی ادارے تخفیفِ اثرات، موافقت اور موسمیاتی مالیات پر ہونے والی بحث کو زیادہ درستگی سے کور کر سکیں۔
پروگرام نے کیا فراہم کیا
یہ سربراہی اجلاس ختم ہونے کے بعد موسمیاتی رپورٹنگ کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ 2025-2026 میں برلن میں قائم نیٹ ورک این-اوست نے جرنلزم فنڈ یورپ کے ارتھ انویسٹی گیشنز پروگرام کی مدد سے ’’ڈیگنگ مور ڈیپلی: کلائمیٹ انویسٹی گیشنز اِن ای اے پی کنٹریز‘‘ شروع کیا۔ اس منصوبے میں آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، جارجیا، مالدووا اور یوکرین کے صحافی یورپی ساتھیوں کے ساتھ تربیت، رہنمائی اور اشاعت کے مرحلے میں شریک ہوئے۔ موضوعات میں توانائی کی خود مختاری، جنگلات، سبز منتقلی اور موسمیاتی انصاف شامل تھے۔
گرین جرنلزم کو اب بھی سہارا کیوں درکار ہے
این-اوست کے منصوبہ جاتی خلاصے کے مطابق مالدووا میں ہونے والی ایک بالمشافہ ورکشاپ میں مشرقی شراکت داری کے 11 اور یورپی یونین کے 5 ملکوں سے منتخب شرکا، یعنی کل 16 افراد، نے اعداد و شمار سنبھالنے اور تحقیقاتی زاویے بہتر بنانے پر کام کیا۔ بعد میں ورکشاپ کے سابق شرکا تک محدود اشاعتی دعوت جاری کی گئی۔ اندرونی جیوری نے آٹھ تجاویز منتخب کیں: دو سرحد پار ٹیم منصوبے اور چار انفرادی منصوبے، جبکہ خلاصے میں باقی پیکجوں کی تفصیل الگ انداز میں دی گئی ہے۔ تیار شدہ کہانیاں منصوبے کے نمایاں مضامین کے حصے میں شائع کی گئی ہیں۔
اہم احتیاطیں اور آئندہ نظر
باکو اور آذربائیجان پر رپورٹ کرنے والے صحافیوں کے لیے یہ ترتیب اہم ہے۔ کوپ29 نے مختصر دورانیے والی سربراہی اجلاس کی کوریج کی سمجھ پیدا کی، جبکہ مشرقی شراکت داری کا تحقیقاتی سلسلہ ایسے شواہد پر مبنی کام کی طرف لے جاتا ہے جو کانفرنس کی خبروں سے زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے۔ توانائی پر انحصار، زمین کے استعمال یا صنعتی آلودگی جیسے موضوعات سیاسی طور پر حساس بھی ہو سکتے ہیں۔
چھوٹے نیوز رومز کے موسمیاتی ڈیسک کے پاس کئی ماہ چلنے والی تحقیقات کے لیے اکثر وقت، ڈیٹا کی مہارت اور قانونی مدد کم ہوتی ہے۔ سرحد پار رہنمائی سے رپورٹر طریقۂ کار کا موازنہ، ڈیٹا سیٹ کا تبادلہ اور مشترکہ اشاعت کر سکتے ہیں۔ اس سے ان سامعین تک بھی آذربائیجان کی موسمیاتی کہانی پہنچتی ہے جو اسے عموماً تیل اور گیس کی سرخیوں سے آگے نہیں دیکھ پاتے۔ این-اوست اس کوشش کو صرف الگ الگ کہانیاں مکمل کرنے کے بجائے ایک پیشہ ور نیٹ ورک بنانے کا عمل قرار دیتا ہے۔
این-اوست کا عوامی خلاصہ آٹھ معاونت یافتہ پیکجوں میں آذربائیجان سے متعلق ہر بائی لائن کی فہرست نہیں دیتا، اس لیے انفرادی کہانیوں کے کریڈٹ اشاعت کے وقت الگ الگ جانچنے چاہییں۔ اسی طرح کوپ29 سے پہلے ہونے والی پرانی میڈیا ورکشاپس باکو کی سربراہی اجلاس کی تیاری سمجھنے میں مفید ہیں، مگر وہ 2025-2026 کی تحقیقاتی گرانٹس کا حصہ نہیں تھیں۔
جیسے جیسے انطالیہ میں کوپ31 قریب آ رہا ہے، باکو کا تجربہ یاد دلاتا ہے کہ کوپ کی میزبانی میڈیا کی مہارت کو جنم دے سکتی ہے۔ لیکن پائیدار گرین جرنلزم کے لیے بینرز اترنے کے بعد بھی فنڈنگ، تربیت اور ادارتی گنجائش ضروری رہتی ہے۔
ذرائع: این-اوست کا منصوبہ ’’ڈیگنگ مور ڈیپلی‘‘؛ اے پی اے کی پری-کوپ29 ورکشاپ رپورٹ؛ آئی ڈی ڈی آذربائیجان کے کوپ29 میڈیا تربیتی نوٹس؛ یو این ایف سی سی سی کوپ29 میڈیا مواد۔
















