امریکہ: اقوام متحدہ کا الزام — منشیات کے جہازوں پر حملے ‘انسانی حقوق کی خلاف ورزی’ ہو سکتے ہیں
اقوام متحدہ کے ایک خصوصی رپورٹر نے کہا ہے کہ مبینہ منشیات اسمگلنگ کے جہازوں پر امریکی فضائی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ‘انسانیت کے خلاف جرائم’ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن مغربی نصف کرہ میں ‘ساؤتھرن سپیئر’ جیسے آپریشنز کے ذریعے سمندری راستوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے 21 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ خصوصی رپورٹر بین ساؤل کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 سے اب تک کیریبین اور بحرالکاہل میں امریکی علاقائی پانیوں سے باہر کم از کم 68 حملے ہوئے، جن میں 220 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ اہداف کو نامزد دہشت گرد گروہوں سے جوڑا جا سکتا ہے، مگر ان پر ایسا مسلح حملہ ثابت نہیں جس سے امریکہ کو خود دفاع کا حق حاصل ہو۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے بریفنگ نوٹ میں ساؤل نے لکھا کہ ایسے حملے ‘لگاتار غیر عدالتی قتل’ کے مترادف ہیں اور زندگی کے حق، بین الاقوامی انسانی قانون، سمندری قانون، منشیات انسداد کنونشنز یا انسداد دہشت گردی کے قانون سے جائز نہیں ٹھہرتے۔ ان کے مطابق 68 حملوں میں 223 ہلاکتوں کے بارے میں ‘معقول وجوہ’ موجود ہیں کہ یہ روایتی بین الاقوامی قانون کے تحت قتل کی شکل میں انسانیت کے خلاف جرائم ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ اس کے دو دن بعد آئی جب امریکی فوج نے کہا کہ کیریبین میں ایک جہاز پر حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ یو ایس سدرن کمانڈ (ساؤتھ کام) نے بیان میں دعویٰ کیا کہ تصدیق شدہ انٹیلی جنس نے جہاز کی منشیات اسمگلنگ میں فعال شمولیت ظاہر کی اور آپریشن میں چار ‘نارکو دہشت گرد’ مارے گئے۔ بی بی سی نے نوٹ کیا کہ حکام نے اب تک قطعی ثبوت پیش نہیں کیے کہ نشانہ بنائے گئے جہاز واقعی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
امریکی دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ نے ماضی میں کہا تھا کہ مجموعی آپریشن کا مقصد نصف کرہ سے ‘نارکو دہشت گرد’ ختم کرنا اور امریکی عوام کو منشیات سے بچانا ہے۔ بی بی سی کے مطابق آپریشن ‘ساؤتھرن سپیئر’ ستمبر کے اوائل میں شروع ہوا۔ خبر رساں ادارے نے وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ پر ردعمل طلب کیا۔
بین الاقوامی سطح پر ان حملوں کی قانونی حیثیت پر ابتدا سے سوال اٹھتے رہے ہیں۔ لاطینی امریکی رہنماؤں نے بھی تنقید کی تھی جن کے شہری نشانہ بنے تھے۔ تاہم بی بی سی کے پس منظر کے مطابق وینزویلا کے سابق رہنما نیکولاس مادورو — جو حملوں کے ناقد تھے — اس سال کے آغاز میں کاراکاس پر متنازع رات کے چھاپے میں امریکی افواج کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ کولمبیا کے بائیں بازو کے سابق صدر گستاوو پیٹرو بھی ‘ساؤتھرن سپیئر’ کے سخت ناقد تھے؛ جون کے صدارتی انتخابات کے بعد ٹرمپ نواز امیدوار کی کامیابی کے بعد وہ اگست میں عہدہ چھوڑ گئے۔
یہ کہانی صرف واشنگٹن کی داخلی سیاست نہیں بلکہ کیریبین اور بحرالکاہل میں خودمختاری، انسانی حقوق اور ‘منشیات کے خلاف جنگ’ کے نام پر فوجی طاقت کے استعمال کا بین الاقوامی سوال ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ قانونی دباؤ بڑھاتی ہے، جبکہ امریکی فوجی بیان آپریشن کو جاری رکھنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں سرکاری امریکی ردعمل، مزید حملوں کی تصدیق، اور علاقائی حکومتوں کے موقف اہم رہیں گے۔


















