امریکہ میں ہر چار میں سے ایک سے زیادہ بالغ افراد نے اینٹی بایوٹک حاصل کرنے کے لیے اپنی علامات کو بڑھا چڑھا کر یا مکمل طور پر گھڑ کر بیان کیا ہے۔ یوتاہ یونیورسٹی کے محققین کی نئی تحقیق کے مطابق ۹۵۹ بالغ افراد کے سروے میں ۲۷ اعشاریہ ۹ فیصد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اینٹی بایوٹک لینے کے لیے علامات غلط بیان کیں، اور ان میں سے ۷۶ اعشاریہ ۹ فیصد نے کہا کہ انہیں اس طریقے سے کم از کم ایک بار اینٹی بایوٹک مل بھی گئی۔
یہ تحقیق ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ غیر ضروری اینٹی بایوٹک کے استعمال اور جراثیم میں مزاحمت بڑھنے کا ایک چھپا ہوا سبب بن سکتا ہے۔
اہم نکات
- ۹۵۹ بالغ افراد میں سے ۲۷ اعشاریہ ۹ فیصد نے اینٹی بایوٹک کے لیے علامات غلط بیان کرنے کا اعتراف کیا۔
- ۲۳۶ والدین اور نگہداشت کرنے والوں میں سے ۲۶ اعشاریہ ۷ فیصد نے بچے کے لیے ایسا کیا۔
- غلط بیان کرنے والوں میں سے ۷۶ اعشاریہ ۹ فیصد بالغ اور ۸۷ اعشاریہ ۳ فیصد والدین نے کہا کہ انہیں اینٹی بایوٹک مل گئی۔
- سب سے زیادہ غلط بیان کی جانے والی علامات نزلہ زکام جیسی تھیں، جن کا تناسب ۶۵ اعشاریہ ۷ فیصد رہا۔
- تحقیق ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی۔
اینٹی بایوٹک کے لیے علامات کیوں غلط بتائی گئیں؟
تحقیق کے سربراہ الیسٹر تھورپ کے مطابق لوگوں کو شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ اینٹی بایوٹک ہی واحد چیز ہے جو انہیں بہتر کر سکتی ہے۔ والدین کے سروے میں ۷۱ اعشاریہ ۴ فیصد نے یہی وجہ بتائی، ۶۶ اعشاریہ ۷ فیصد نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ بچہ جلد اسکول یا دیگر سرگرمیوں میں واپس جائے، اور ۶۳ اعشاریہ ۵ فیصد نے کہا کہ وہ بچے کی طبی تاریخ ڈاکٹر سے بہتر جانتے ہیں۔
محققین نے یہ بھی پایا کہ جن مریضوں کو پہلے کبھی ڈاکٹر نے ان کی علامات کو نظرانداز کیا ہوا محسوس ہوا، ان میں علامات بڑھا چڑھا کر بتانے کا امکان زیادہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان بہتر بات چیت اس مسئلے کو کم کر سکتی ہے۔

بالغ افراد اور والدین کے اعداد کا موازنہ
| گروہ | تعداد | علامات غلط بتانے والے | اینٹی بایوٹک مل گئی |
|---|---|---|---|
| بالغ افراد | ۹۵۹ | ۲۷ اعشاریہ ۹ فیصد | ۷۶ اعشاریہ ۹ فیصد |
| والدین اور نگہداشت کرنے والے | ۲۳۶ | ۲۶ اعشاریہ ۷ فیصد | ۸۷ اعشاریہ ۳ فیصد |
اینٹی بایوٹک سے متعلق اہم احتیاط
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ اینٹی بایوٹک بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا علاج کرتی ہے، وائرس کا نہیں۔ نزلہ زکام جیسی بیشتر علامات وائرس سے ہوتی ہیں، اس لیے ان میں اینٹی بایوٹک فائدہ نہیں دیتی۔ غیر ضروری استعمال سے مریض کو مضر اثرات کا خطرہ ہوتا ہے اور جراثیم میں دوا کے خلاف مزاحمت بڑھتی ہے۔
تحقیق کی ایک حد یہ بھی ہے کہ یہ سروے لوگوں کے اپنے بیانات پر مبنی تھا اور اس میں آن لائن غیر احتمالی نمونہ استعمال ہوا، اس لیے اعداد پورے ملک کی بالکل درست نمائندگی نہ بھی کریں۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اگلا قدم مریضوں اور ڈاکٹروں کے درمیان ایسا رابطہ بنانا ہے جس میں مریض اپنی تشویش کھل کر بتا سکے اور ڈاکٹر اسے سن کر اطمینان دلا سکے۔
نتیجہ
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ اینٹی بایوٹک کا غیر ضروری استعمال صرف ڈاکٹروں کے نسخوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ مریضوں کی توقعات اور خوف بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ درست معلومات اور بہتر بات چیت ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔





























