بینک آف انگلینڈ اس ہفتے شرح سود بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ رائٹرز کی ۲ نومبر ۲۰۲۶ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ بینک جمعرات ۵ نومبر کو بینک ریٹ ۳ اعشاریہ ۷۵ فیصد سے بڑھا کر ۴ فیصد کر دے گا۔ یہ اگست ۲۰۲۳ کے بعد پہلا اضافہ ہو گا، جب مہنگائی اب بھی ۲ فیصد کے ہدف سے تین گنا زیادہ تھی۔
اس اضافے کی بڑی وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جنہوں نے برطانیہ میں مہنگائی کو ستمبر میں ۳ اعشاریہ ۵ فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ بینک کا فیصلہ جمعرات کو دوپہر ۱۲ بجے گرینچ وقت کے مطابق سامنے آئے گا، جس کے بعد گورنر اینڈریو بیلی پریس کانفرنس کریں گے۔
اہم نکات
- بینک آف انگلینڈ ۵ نومبر کو شرح سود ۳ اعشاریہ ۷۵ سے بڑھا کر ۴ فیصد کر سکتا ہے۔
- یہ اگست ۲۰۲۳ کے بعد پہلا اضافہ ہو گا۔
- ستمبر میں مہنگائی ۳ اعشاریہ ۵ فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہدف ۲ فیصد ہے۔
- اکتوبر میں برطانوی صنعت کا آؤٹ پٹ ستمبر ۲۰۲۴ کے بعد سب سے تیز رہا۔
- ۲۰۲۷ میں ۲۳ لاکھ سے زیادہ گھرانوں کے فکسڈ رہن معاہدے ختم ہو رہے ہیں۔
بینک آف انگلینڈ شرح سود کیوں بڑھا رہا ہے؟
گورنر اینڈریو بیلی نے کہا ہے کہ بینک اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتا جب تک مہنگائی کے دوسرے اثرات کا حتمی ثبوت نہ مل جائے، ورنہ کارروائی میں دیر ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق بینک کو اس بات کی تشویش ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اجرتوں اور قیمتوں کے تعین میں بھی سرایت کر سکتا ہے۔
دوسری جانب بینک سرمایہ کاروں کی اس توقع کو بھی کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کہ اگلے سال کئی اور اضافے ہوں گے۔ مارکیٹوں میں اگلے ۱۲ ماہ میں چار سہ ماہی اضافوں کی قیمت لگائی جا رہی ہے، مگر بینک اس بارے میں محتاط رویہ اپنا سکتا ہے۔

معیشت کے اہم اعداد
| اشاریہ | اعداد | تفصیل |
|---|---|---|
| بینک ریٹ | ۳ اعشاریہ ۷۵ سے ۴ فیصد متوقع | فیصلہ ۵ نومبر کو |
| مہنگائی | ۳ اعشاریہ ۵ فیصد | ستمبر ۲۰۲۶، ہدف ۲ فیصد |
| صنعتی پیداوار انڈیکس | ۵۲ اعشاریہ ۸ | اکتوبر، ستمبر میں ۵۱ اعشاریہ ۹ تھا |
| صنعتی آؤٹ پٹ جزو | ۵۳ اعشاریہ ۶ | ستمبر ۲۰۲۴ کے بعد سب سے زیادہ |
| فکسڈ رہن ختم ہونے والے گھرانے | ۲۳ لاکھ | ۲۰۲۷ کے دوران |
صنعت کی بہتری اور گھرانوں پر دباؤ
ایس اینڈ پی گلوبل کے سروے کے مطابق اکتوبر میں برطانوی صنعت کاروں کی پیداوار میں دو سال سے زیادہ عرصے میں سب سے تیز اضافہ ہوا۔ پیداواری انڈیکس ۵۱ اعشاریہ ۹ سے بڑھ کر ۵۲ اعشاریہ ۸ ہو گیا، جبکہ آؤٹ پٹ جزو ۵۱ اعشاریہ ۵ سے بڑھ کر ۵۳ اعشاریہ ۶ تک پہنچ گیا، جو ستمبر ۲۰۲۴ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ تاہم پیداواری لاگت جون کے بعد سب سے تیز رفتار سے بڑھی ہے، جو بینک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
دوسری جانب گھرانوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بینکنگ تنظیم یو کے فنانس کے اعداد کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران تقریباً ۷ لاکھ گھرانے نئے رہن معاہدوں پر منتقل ہوں گے، جبکہ ۲۰۲۷ میں مزید ۲۳ لاکھ گھرانوں کے فکسڈ معاہدے ختم ہو رہے ہیں۔ جنوری میں گھریلو توانائی کی قیمتوں کی حد میں اضافے سے سالانہ بل ۴۰۰ پاؤنڈ سے زیادہ بڑھنے کا اندازہ ہے۔ چانسلر جان ہیلی نے بجٹ میں ۲ کروڑ گھرانوں کو ۱۰۰ پاؤنڈ کی ادائیگی کو مرکزی اقدام بنایا ہے تاکہ سرد مہینوں میں دباؤ کم کیا جا سکے۔
نتیجہ
بینک آف انگلینڈ کے سامنے مشکل توازن ہے: مہنگائی کو قابو کرنا اور ساتھ ہی گھرانوں اور کاروبار پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔ جمعرات کا فیصلہ اور بینک کی نئی پیش گوئیاں بتائیں گی کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود کا رخ کیا ہو گا۔




























