اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاج سے متعلق مقدمات میں چار پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر، عاطف خان، لطیف کھوسہ اور فیصل امین گنڈاپور کو 11 فروری تک ضمانت دی ہے۔
اہم نکات
- عدالت: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت
- فیصلہ سنانے والے جج: ابوالحسنات ذوالقرنین
- رہنما: اسد قیصر، عاطف خان، لطیف کھوسہ، فیصل امین گنڈاپور
- ضمانت کی نوعیت: قبل از گرفتاری، 11 فروری تک
- مچلکے: ہر رہنما کے لیے پانچ پانچ ہزار روپے
- مقدمات کی تعداد: اسد قیصر 9، عاطف خان 4، لطیف کھوسہ 3، فیصل امین گنڈاپور 6
چار پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت کا فیصلہ
عدالت نے ان چاروں رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 11 فروری تک ضمانت پر رہنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے چاروں رہنماؤں کو پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق اسد قیصر کی 9، عاطف خان کی 4، لطیف کھوسہ کی 3 اور فیصل امین گنڈاپور کی 6 مقدمات میں ضمانت منظور کی گئی ہے۔ یہ مقدمات 26 نومبر کے احتجاج اور سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج سے متعلق ہیں۔

مقدمات کا پس منظر
ان رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے سلسلے میں مختلف مقدمات درج ہیں۔ رپورٹس کے مطابق چند روز قبل عدم حاضری کے باعث ان کی ضمانت کی درخواستیں خارج ہو گئی تھیں۔
درخواستوں کے خارج ہونے کے بعد چاروں رہنماؤں نے ضمانت قبل از گرفتاری کی نئی درخواستیں دائر کیں، جنہیں عدالت نے اب منظور کر لیا ہے۔
ضمانت کی شرائط
ضمانت قبل از گرفتاری کا مطلب یہ ہے کہ مقررہ مدت کے دوران ان رہنماؤں کو ان مقدمات میں گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔ عدالت نے چاروں رہنماؤں کو پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
چاروں رہنماؤں کی ضمانتیں 11 فروری تک منظور کی گئی ہیں۔
ملک کی مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وتن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔





























