پاکپتن کے قریب دیپالپور روڈ حادثے میں مسافر بس اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 33 زخمی ہو گئے۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور مسافروں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کی مدد لینا پڑی۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اہم نکات
- جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 11 جبکہ زخمی 33 ہیں۔
- حادثہ دیپالپور روڈ پر پاکپتن کے قریب پیش آیا۔
- مسافر بس ملتان سے قصور جا رہی تھی۔
- مسافروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تقریباً تین گھنٹے جاری رہا۔
- ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
- دو شدید زخمیوں کو ساہیوال ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دیپالپور روڈ حادثہ کیسے پیش آیا
ملتان سے قصور جانے والی مسافر بس دیپالپور روڈ پر سفر کر رہی تھی کہ پاکپتن کے قریب مخالف سمت سے آنے والے ٹرک سے اس کا خوفناک تصادم ہو گیا۔ ٹکر اتنی زوردار تھی کہ بس الٹ گئی اور اس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ بس میں سوار متعدد مسافر ملبے میں پھنس گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ بس کے مسافروں کو نکالنے کے لیے کرین سمیت بھاری مشینری کی مدد لی گئی اور تقریباً تین گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پیرا فورس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

اسپتالوں میں ایمرجنسی اور زخمیوں کی حالت
حادثے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اضافی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو طلب کر لیا گیا۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی گئی اور ان کے علاج کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے۔ دو شدید زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے ساہیوال ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج پاکپتن میں جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر آصف رضا اور ڈی پی او جاوید اقبال چدھڑ نے اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور علاج معالجے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو فوری، معیاری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
حادثے کی وجوہات اور تحقیقات
حادثے کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔ متعلقہ ادارے واقعے کی تفصیلات معلوم کر رہے ہیں۔ ملک میں سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری ہے اور ماہرین تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی تھکاوٹ اور گاڑیوں کی ناقص دیکھ بھال کو بڑی وجوہات قرار دیتے ہیں۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































