پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کو دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ماننا ہوگا، اور اگر اس نے پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت بند نہ کی تو اسے اس کی سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بات عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس کی تفصیلات یکم نومبر کو سامنے آئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ افغان طالبان رجیم پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی پشت پناہی بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان رجیم کی جانب سے لاحق ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان کا مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
اہم نکات
- ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رائٹرز کو انٹرویو میں افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
- ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان رجیم نے پاکستان کی بات نہ مانی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
- ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے اور افغان طالبان رجیم اس کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔
- انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں۔
- ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم نے نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔
- ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے آنے والے گروہ افغانستان سے داخل ہوتے ہیں اور انہیں وہیں سے اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
طالبان رجیم انتباہ: پاکستان کا مطالبہ کیا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کو اب بھی غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں اور یہ ایک رجیم ہے، نہ کہ ایک معمول کی ریاست۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان رجیم سے صرف یہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو افغان طالبان رجیم کو ایک معمول کی ریاست کی طرح ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اپنے مذموم مقاصد کے لیے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجو استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد وہاں متعدد ایجنسیوں اور پراکسی گروپوں نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں، اور جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں، جس کی نشاندہی اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک کر چکے ہیں۔
سرحد پار دہشت گردی اور پاکستان کا مؤقف
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے تشکیل افغانستان سے آتی ہے اور وہیں سے انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم نے نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے، جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان رجیم کی جانب سے لاحق ہر قسم کے خطرات، بشمول ڈرون حملوں، کا مقابلہ کرنے اور ان کا مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

نمائندہ تصویر: پریس بریفنگ کے دوران مائیکروفون
خطے کی سلامتی پر اثرات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے، اور افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ دار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس انٹرویو کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان افغان طالبان رجیم سے دہشت گردوں کی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ جاری رکھے گا، اور اگر یہ حمایت بند نہ ہوئی تو پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































