اقرار الحسن جسمانی ریمانڈ درخواست مسترد
اقرار الحسن جسمانی ریمانڈ درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ایسٹ نے جمعرات کو ٹی وی میزبان اقرار الحسن کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ ارشد مرتضیٰ نے قرار دیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم میں کوئی سنگین غیر قانونی پہلو نہیں پایا گیا۔
اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں مقدمہ نمبر 101/2026 پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔
اہم نکات
- کراچی کی سیشن کورٹ نے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست مسترد کر دی
- جوڈیشل مجسٹریٹ نے 13 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کو چار روزہ ریمانڈ دیا تھا
- اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا
- مقدمہ سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف مواد کی تشہیر کے الزام میں درج ہوا
- گرفتاری کے دوران چار موبائل فون اور ایک آئی پیڈ قبضے میں لیے گئے

گرفتاری اور ریمانڈ کی تفصیل
این سی سی آئی اے نے 13 اکتوبر کو اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی عدالت میں پیش کر کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے چودہ کے بجائے چار روزہ ریمانڈ منظور کیا اور ایجنسی کو 17 اکتوبر کو پیش رفت رپورٹ سمیت ملزم کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ایف آئی آر کے مطابق اقرار الحسن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریاستی اداروں، سرکاری عہدیداروں اور عوامی شخصیات کے خلاف مبینہ جھوٹا اور گمراہ کن مواد پھیلایا جس سے عوام میں بے اعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ یہ الزامات ہیں جو تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
دفاع کا موقف
دفاعی وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں کوئی مدعی یا متاثرہ فریق موجود نہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا معاملہ سائبر قوانین سے متعلق ہے۔
وکیل نے عدالت میں متنازع ویڈیو کا تحریری متن بھی پیش کیا اور کہا کہ ان کے موکل بحیثیت میڈیا شخصیت اور سیاسی مبصر قانون کے دائرے میں اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتے ہیں۔ ان کی اہلیہ فرح اقرار کے مطابق اہلکار رات تین بجے کے قریب گھر میں داخل ہوئے اور انہیں ساتھ لے گئے۔
عدالت کا فیصلہ
سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے ریمانڈ کے حکم میں کوئی واضح غیر قانونی پہلو یا بے قاعدگی نہیں پائی گئی اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد اقرار الحسن این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہی رہیں گے۔































