لاہور ہائیکورٹ نے بسنٹ درخواست مسترد کر دی
لاہور ہائیکورٹ نے بسنٹ درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے 2027 میں دس روزہ بسنٹ منانے کی تجویز کے خلاف دائر درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست کی سماعت کی اور قرار دیا کہ سرکاری نوٹیفکیشن کے بغیر اس معاملے پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار شاہد اسلام نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے 2027 میں دس روز تک بسنٹ منانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جشن کا دورانیہ صرف ایک دن ہونا چاہیے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ 2026 میں بسنٹ کی تقریبات کے دوران درجنوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اہم نکات
- لاہور ہائیکورٹ نے دس روزہ بسنٹ 2027 کے خلاف درخواست مسترد کر دی
- جسٹس شہرام سرور چوہدری نے سرکاری نوٹیفکیشن نہ ہونے پر درخواست قبل از وقت قرار دی
- درخواست گزار نے جشن کا دورانیہ دس روز سے کم کر کے ایک دن کرنے کا مطالبہ کیا تھا
- عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ نوٹیفکیشن کے ساتھ نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی
- عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض نہ اٹھانے پر حیرت کا اظہار بھی کیا

درخواست گزار کا موقف
درخواست میں کہا گیا کہ پتنگ بازی کے دوران تیز دھار ڈور سے گلے کٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں جبکہ چھتوں سے گرنے اور بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے کے حادثات بھی ہوتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق دس روز تک جشن منانے سے حادثات، شور کی آلودگی اور ماحولیاتی خطرات بڑھیں گے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر، انسپکٹر جنرل پولیس اور سی سی پی او لاہور کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ دس روزہ جشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے ایک دن تک محدود کیا جائے۔
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس بسنٹ 2027 کے دس روزہ انعقاد سے متعلق کوئی سرکاری نوٹیفکیشن موجود ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ صرف ویب سائٹ پر موجود دستاویزات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔
جج نے ریمارکس دیے کہ سرکاری نوٹیفکیشن کے بغیر یہ تعین کیسے کیا جائے کہ مجوزہ جشن بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متعلقہ نوٹیفکیشن پیش کرے تاکہ حکومت سے اس کا موقف پوچھا جا سکے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے سماعت سے قبل درخواست پر اعتراض نہ اٹھانے پر حیرت کا اظہار کیا اور درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ ان پر جرمانہ کیوں نہ عائد کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ نوٹیفکیشن کے ساتھ نئی درخواست دائر کی جائے۔































