لکی مروت — کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) لکی مروت اور سیکیورٹی فورسز نے ایف آر لکی مروت میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی مشترکہ کارروائی میں کوہاٹ پولیس لائنز خودکش حملے کے مرکزی ملزم اور ماسٹر مائنڈ کو ہلاک کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشتگرد زاہد گل کے نام سے پہچانا گیا ہے، جو گزشتہ ماہ کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کر چکا تھا۔
اہم نکات
- ایف آر لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کا مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
- کوہاٹ پولیس لائنز خودکش حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک
- ہلاک دہشتگرد دہشتگردی کے متعدد دیگر سنگین واقعات میں بھی انتہائی مطلوب تھا
- بیلے تنگ بینک ڈکیتی میں لوٹے گئے 60 لاکھ روپے بنوں کی دہشتگرد تشکیلوں میں تقسیم کیے گئے تھے
- ہلاک دہشتگرد کے گل بہادر گروپ سے قریبی روابط تھے؛ دیگر ساتھی پہلے ہی زیرِ حراست ہیں
کارروائی کی تفصیلات
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران مشترکہ دستوں نے دہشتگرد کے ٹھکانے کو گھیرے میں لیا اور اسے ہلاک کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگرد نے پولیس لائنز حملے میں خودکش بارود بردار گاڑی کو ہدف تک پہنچانے میں رہنمائی کی تھی۔ کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے ماسٹر مائنڈ کے خاتمے کو سکیورٹی حکام ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور دہشتگرد کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں بڑھا دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر افراد پہلے ہی حراست میں ہیں۔
ہلاک دہشتگرد کا ریکارڈ
سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کے مطابق ہلاک دہشتگرد دہشتگردی کے متعدد سنگین واقعات میں انتہائی مطلوب تھا۔ اس کے بیلے تنگ بینک ڈکیتی میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جہاں 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے اور لوٹی گئی رقم بکا خیل اور جانی خیل میں بنوں کی دہشتگرد تشکیلوں میں تقسیم کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد کے گل بہادر گروپ سے قریبی روابط تھے اور وہ کوہاٹ میں متعدد خودکش حملہ آوروں کی ترسیل میں ملوث رہا تھا۔ تقریباً دو ماہ قبل وہ نئی کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے لیے بھی ایک خودکش حملہ آور لایا تھا، جس کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق وہ کوہاٹ میں فضائیہ کی تنصیب اور پولیس ٹریننگ اسکول کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی چوکی کا علامتی منظر؛ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔
حملے کا پس منظر
گذشتہ ماہ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی تھی، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے احاطے میں گھس کر فائرنگ کی تھی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس حملے میں 16 سے 31 کے درمیان افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری گل بہادر گروپ سے وابستہ دہشتگرد تنظیم نے قبول کی تھی۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کی مزید خبروں کے لیے وتن نیوز اردو دیکھیں۔































