ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول میں بدھ کے روز موسلا دھار بارش نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ سیلابی پانی میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے 14 سالہ لڑکا جاں بحق ہو گیا، سینکڑوں گھر اور کاروباری مراکز زیرِ آب آ گئے، کئی مقامات پر سڑکیں منہدم ہوئیں اور ٹریفک تقریباً مکمل طور پر رک گئی۔ حکام نے شہریوں کو جمعرات کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔
اہم نکات
- استنبول میں بدھ 14 اکتوبر کو شدید بارش ہوئی؛ ترکی کے محکمہ موسمیات کی پیشگی وارننگ کے بعد بارش منگل کی شام سے شروع ہوئی تھی۔
- فاتح ضلع کے بالات محلے میں چوکربوستان پارک کے قریب 14 سالہ لڑکا سیلابی پانی میں اترا تو بجلی کا کرنٹ لگ گیا؛ بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا مگر ڈاکٹر اسے بچا نہ سکے۔ الجزیرہ نے واقعے کی نگرانی کیمرے کی فوٹیج کی تصدیق کی ہے اور گورنر آفس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
- ہنگامی اداروں کو صبح سے شام تک بارش سے متعلق 2,518 اطلاعات موصول ہوئیں؛ 1,277 مقامات پر سیلابی صورتحال، 15 لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات اور 47 افراد کے پھنسنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
- شدید موسم سے 808 گھر، 280 کاروباری مراکز اور 76 گاڑیاں متاثر ہوئیں؛ سڑکوں اور زیرگزرگاہوں میں پانی بھرنے سے متعدد گاڑیاں پھنس گئیں۔
- سب سے زیادہ بارش استنبول کے ایشیائی حصے میں بے کوز کے علاقے اومرلی میں ریکارڈ ہوئی، جہاں بارش کی مقدار 193.84 ملی میٹر رہی۔
- حکام نے جمعرات کو شہر بھر میں تمام اسکول بند کر دیے اور موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی؛ تقریباً 8 ہزار اہلکار اور 2 ہزار گاڑیاں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
شدید بارش سے وسیع پیمانے پر تباہی
بدھ کے روز استنبول میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث شہر کی سڑکیں، زیرگزرگاہیں، گھر، دکانیں اور تہہ خانے پانی سے بھر گئے۔ متعدد اضلاع میں سیلابی پانی نے کھڑی گاڑیوں کو بہا لیا جبکہ کئی گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق استنبول کے مشہور سیاحتی مقامات گرینڈ بازار اور اسپائس بازار میں بھی پانی داخل ہوا۔
سیلابی پانی کے باعث کاغتھانے کی ندی میں طغیانی آ گئی اور کاغتھانے پیالے پاشا سڑک کی سرنگ عارضی طور پر بند کرنی پڑی۔ ایوب سلطان اور غازی عثمان پاشا اضلاع میں سڑکوں کے کچھ حصے منہدم ہو گئے۔ ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کی نشر کردہ فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ایک خاتون سیلابی ریلے میں بہہ رہی تھی جسے راہگیروں نے محفوظ مقام پر کھینچ لیا، جبکہ فائر فائٹرز نے ایک سیلاب زدہ تہہ خانے سے ایک شخص کو نکالا۔

کرنٹ لگنے سے نوجوان کی ہلاکت اور تحقیقات
ترک میڈیا کے مطابق استنبول کے تاریخی محلے بالات میں چوکربوستان پارک کے قریب 14 سالہ لڑکا سیلابی پانی میں داخل ہوا تو اسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ حکام کے مطابق لڑکے کی شناخت صرف ابتدائی حروف ایم آئی سے ظاہر کی گئی ہے۔ لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے جایا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔
استنبول کے گورنر آفس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس نے واقعے کی نگرانی کیمرے کی فوٹیج کی تصدیق کی ہے، جس میں لڑکا بارش کے پانی میں چلتا دکھائی دیا اور پھر اچانک گر پڑا۔
ہنگامی اقدامات اور مزید بارش کی وارننگ
استنبول کے گورنر داؤت گل نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعرات کو غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گھروں میں رہیں۔ انہوں نے تہہ خانوں میں رہنے والوں کو رات اوپری منزل پر گزارنے اور ندی نالوں، زیرگزرگاہوں اور سیلاب کے خطرے والے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ بدھ کی رات 9 بجے سے موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ معذور سرکاری ملازمین اور چھوٹے بچوں والی ماؤں کو چھٹی دے دی گئی۔
حکام نے محکمہ موسمیات کی پیشگی وارننگ کے بعد ترک ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے آفاد کے علاقائی دفتر میں ہنگامی رابطہ مرکز قائم کر دیا ہے۔ سیلابی پانی کی نکاسی اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تقریباً 8 ہزار اہلکار، 2 ہزار گاڑیاں اور تعمیراتی مشینیں تعینات کی گئی ہیں۔ بارش کے باعث شہر میں ٹریفک کا دباؤ تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

ترکی کے وزارت داخلہ نے بدھ اور جمعرات کو کئی صوبوں میں اچانک سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔ گورنر آفس کے مطابق بارش کے باوجود ہوائی اڈوں کے رن وے معمول کے مطابق کام کرتے رہے اور پروازوں کی منسوخی کی کوئی اطلاع نہیں ملی، اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ یاد رہے کہ استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں تقریباً 16 ملین افراد آباد ہیں۔ دنیا بھر کی مزید خبروں کے لیے دیکھتے رہیں وطن نیوز اردو۔































