سینما گھر میں فلم دیکھنا کبھی ہر خاندان کی پسندیدہ سیر تھی — دوستوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا دن، خاندان کے ساتھ پاپ کارن اور بڑی اسکرین پر کہانیوں کا جادو۔ لیکن مہنگے ٹکٹوں نے اس خوشی کو بہت سے لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا۔ اب پنجاب حکومت نے اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ایک اہم منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت فلم کا ٹکٹ صرف 300 سے 350 روپے کے درمیان رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا نام ہے ’ون ڈالر سینما‘۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب نے یہ اعلان پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی اور سینما گھروں میں شائقین کی تعداد بڑھانا ہے۔
اہم نکات
- منصوبے کا نام ’ون ڈالر سینما‘ ہے اور اس کے تحت سینما ٹکٹ کی قیمت 300 سے 350 روپے کے درمیان رکھنے کی تجویز ہے۔
- اعلان پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب نے 14 اکتوبر 2026 کو کیا۔
- اعلان کا موقع پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی تقریبِ حلف برداری تھی۔
- منصوبے کا مقصد پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی اور سینما گھروں میں شائقین کی واپسی ہے۔
- خاص توجہ نوجوانوں اور خاندانوں پر ہے جنہیں مہنگے ٹکٹ سینما جانے سے روکتے ہیں۔
- منصوبہ ابھی اعلان کے مرحلے میں ہے؛ عمل درآمد اور آغاز کی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی۔
’ون ڈالر سینما‘ منصوبہ کیا ہے؟
منصوبے کے تحت صوبے کے سینما گھروں میں ٹکٹ کی قیمت کو نمایاں طور پر کم کر کے عام آدمی کی پہنچ میں لایا جائے گا۔ تجویز کے مطابق ایک ٹکٹ 300 سے 350 روپے کے درمیان ہوگا، جو موجودہ مہنگے ٹکٹوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اس خیال کا نام ’ون ڈالر سینما‘ اس لیے رکھا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کم قیمت پر تفریح کے اس تصور کو اسی انداز سے پہچانا جاتا ہے۔
وزیر اطلاعات و ثقافت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف ٹکٹ سستا کرنا نہیں، بلکہ عام شہریوں کو سینما گھروں کی طرف دوبارہ راغب کرنا اور مقامی فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ جب سینما گھروں میں لوگ زیادہ آئیں گے تو مقامی فلموں کو بھی زیادہ ناظرین ملیں گے اور فلم انڈسٹری کے کاروبار کو نئی جان ملے گی۔

فلم انڈسٹری کی بحالی کی امید
پاکستانی فلم انڈسٹری برسوں سے مشکلات کا شکار ہے۔ سینما گھروں کی تعداد کم ہونا، پروڈکشن لاگت میں اضافہ اور مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے ناظرین کا دور ہونا، یہ سب مسائل فلم سازوں کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ فلمی حلقوں کے مطابق سستے ٹکٹ کا تصور اس سلسلے کی پہلی مثبت کڑی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سینما گھروں میں بھرے ہوئے ہال ہی فلم سازوں کو نئی فلمیں بنانے کی ہمت دیتے ہیں۔
پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی تقریب میں اس اعلان کو فلم انڈسٹری کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ پوری طرح نافذ ہوتا ہے تو نہ صرف نئی فلموں کی نمائش بڑھے گی بلکہ سنیما گھروں سے جڑے روزگار — ٹکٹ عملہ، کینٹین، صفائی اور تکنیکی عملہ — کے لیے بھی اچھے دن آ سکتے ہیں۔
خاندانوں اور نوجوانوں کے لیے خوشخبری
اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ ان خاندانوں اور نوجوانوں کو ہوگا جو مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے سینما نہیں جا پاتے تھے۔ اب ایک خاندان چار سے پانچ افراد کے ٹکٹ ایک ساتھ خرید کر بڑی اسکرین پر فلم کا لطف اٹھا سکے گا۔ نوجوانوں کے لیے بھی یہ ایک خوشخبری ہے کہ ان کی پسندیدہ فلمیں اب ان کی جیب کے مطابق ہوں گی۔
تاہم اس منصوبے کے عمل درآمد اور اس کے باقاعدہ آغاز کی تاریخ سے متعلق حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ شائقین اور فلم ساز دونوں اب اس کا عملی آغاز دیکھنے کے منتظر ہیں۔
شوبز اور فلم کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































