کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نئی ٹیم اب اس کیس کی تحقیقات کی ذمے دار ہوگی، جس نے مہینوں سے شہر میں توجہ حاصل کر رکھی ہے۔
اہم نکات
- سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی
- ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ ٹیم کے کنوینر مقرر کیے گئے ہیں
- ٹیم میں آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل ہوں گے
- ٹیم تھانہ فیروز آباد میں درج مقدمہ نمبر 795/2026 کی تحقیقات کرے گی
- جسمانی، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کرنا تحقیقات کا حصہ ہوگا
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل
جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کنوینر ہوں گے۔ ٹیم میں ملک کے خفیہ اداروں، رینجرز اور قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں، تاکہ کیس کے ہر پہلو کی جامع جانچ ہو سکے۔
سندھ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحقیقاتی ٹیم سے مکمل تعاون کریں۔ ٹیم ذمے دار افراد کی نشاندہی کرے گی اور اپنی رپورٹ اور چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروائے گی۔

کیس کا پس منظر
میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی سے لاپتہ ہوئے تھے۔ دو روز بعد ان کی لاش گلستان جوہر سے ملی تھی۔ وہ صبح سویرے آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔
ابتدائی تحقیقات میں کئی خامیاں سامنے آئیں، جس کے بعد معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا گیا۔ کمیشن نے ابتدائی تفتیش پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور نئے سرے سے جامع تحقیقات کی سفارش کی۔ اسی سفارش کی روشنی میں اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی ہے۔
تحقیقات کا دائرہ کار
نئی ٹیم جسمانی، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد جمع کرے گی۔ مقتول کے موبائل فون، اسمارٹ واچ، سوشل میڈیا اور دیگر اکاؤنٹس کا ریکارڈ بھی تحقیقات کا حصہ ہوگا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دستیاب تمام مواد کی جانچ کی جائے گی۔
مقتول کے اہل خانہ اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس کیس میں شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ نئی ٹیم کی تشکیل کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ کیس کے غیر حل شدہ سوالات کے جواب سامنے آ سکیں گے۔ وطن نیوز پر ملک کی اہم خبریں پڑھیں۔






























