پاکستان نے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں کیا گیا ہے، جس کے بعد تائیوانی ایئرلائنز کو یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑے ہیں۔ پاکستان تائیوان فضائی حدود پابندی کو اپنی نوعیت کا پہلا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے تائیوانی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
- وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہوابازی کا شعبہ ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
- فلائٹ ریڈار کے اعداد و شمار کے مطابق چائنا ایئر لائنز اور ایوا ایئر کے طیارے ۲۵ اکتوبر کی صبح سے پاکستانی فضائی حدود سے نہیں گزرے۔
- اتوار سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ان دونوں کمپنیوں کی کم از کم ۱۲ پروازوں نے پاکستان کے بجائے روسی فضائی حدود استعمال کی ہیں۔
- پاکستان اور تائیوانی حکومت کے درمیان ۱۹۵۱ء سے سرکاری تعلقات منقطع ہیں۔
پابندی کیسے سامنے آئی
رپورٹ کے مطابق اس پابندی کا انکشاف پروازوں کے راستوں میں تبدیلی سے ہوا۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ تائیوان کی دو بڑی فضائی کمپنیوں، چائنا ایئر لائنز اور ایوا ایئر، کے طیارے ۲۵ اکتوبر کی صبح سے پاکستان کی فضائی حدود سے نہیں گزر رہے۔ اس سے پہلے یہ طیارے معمول کے مطابق اسی راستے سے یورپ آتے جاتے تھے۔
راستے کی تبدیلی کے باعث ان کمپنیوں کو اپنی بعض پروازوں کے لیے لمبا اور متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتوار سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ان دونوں کمپنیوں کی کم از کم ۱۲ پروازوں نے پاکستان کے بجائے روسی فضائی حدود استعمال کی ہیں، جو ان کے لیے ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔

وزیر دفاع کا مؤقف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوابازی کا شعبہ ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت صرف چین کو اجازت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صرف چینی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
رپورٹ میں اس اقدام کو اپنی نوعیت کا پہلا اقدام قرار دیا گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے ایشیا میں ایک نئی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کا یہ مؤقف اس معاملے میں چین سے بھی سخت ہے، کیونکہ چین کی فضائی حدود میں تائیوان کی کمپنیوں کی پروازیں تاحال جاری ہیں۔
پاکستان تائیوان فضائی حدود پابندی کے اثرات اور پس منظر
پاکستان متعدد مواقع پر تائیوان کے معاملے پر بیجنگ کے مؤقف کی حمایت کر چکا ہے اور عالمی اداروں، بشمول عالمی ادارۂ صحت، میں تائیوان کی شرکت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ پاکستان اور تائیوانی حکومت کے درمیان ۱۹۵۱ء سے سرکاری تعلقات منقطع ہیں، اور اسلام آباد بیجنگ کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی اور تائیوانی وزرائے خارجہ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ پابندی کب تک برقرار رہتی ہے اور اس سے تائیوان اور یورپ کے درمیان فضائی سفر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔






























