امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں 27 اکتوبر 2026 کو تیزی رہی، جس کی قیادت چپ کمپنیوں نے کی۔ ٹیکنالوجی کے حصص میں اضافے سے نیزڈیک میں نمایاں بہتری آئی، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کے شرح سود کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔
اہم نکات
- نیزڈیک 1 اعشاریہ 18 فیصد بڑھ کر 26 ہزار 477 اعشاریہ 81 پر بند ہوا۔
- ایس اینڈ پی 500 میں 0 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ہوا۔
- ڈاؤ جونز تقریبا مستحکم رہا اور 52 ہزار 377 اعشاریہ 57 پر بند ہوا۔
- چپ کمپنیوں کا اشاریہ 3 اعشاریہ 6 فیصد بڑھا۔
- فیڈرل ریزرو کا فیصلہ 28 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے مشرقی وقت پر آئے گا۔
بازاروں کی کارکردگی
27 اکتوبر کو نیزڈیک 308 اعشاریہ 43 پوائنٹس بڑھ کر 26 ہزار 477 اعشاریہ 81 پر بند ہوا۔ ایس اینڈ پی 500 بھی 0 اعشاریہ 6 فیصد بڑھ کر 7 ہزار 722 اعشاریہ 60 پر پہنچ گیا۔ ڈاؤ جونز میں صرف 16 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 52 ہزار 377 اعشاریہ 57 پر بند ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیزی زیادہ تر ٹیکنالوجی کے حصص تک محدود رہی۔
چھوٹی کمپنیوں کا اشاریہ رسل 2000 بھی 1 اعشاریہ 16 فیصد بڑھ کر 2 ہزار 818 اعشاریہ 87 پر بند ہوا۔ خوف کا پیمانہ سمجھا جانے والا اتار چڑھاؤ کا اشاریہ 4 اعشاریہ 7 فیصد کم ہو کر 17 اعشاریہ 52 پر آ گیا۔ تاہم ایس اینڈ پی 500 کے 11 شعبوں میں سے 6 میں کمی آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیزی وسیع نہیں تھی۔

چپ کمپنیوں کی قیادت کیوں
چپ کمپنیوں کے اشاریے میں 3 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ہوا، جس کی ایک وجہ براڈکام اور اینتھروپک کے درمیان 63 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا معاہدہ بتایا گیا ہے۔ اس معاہدے سے سرمایہ کاروں کو ذہین کمپیوٹنگ کی طلب کے بارے میں زیادہ وضاحت ملی۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں 1 اعشاریہ 7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ توانائی کے شعبے میں 2 اعشاریہ 1 فیصد کمی آئی۔
فیڈرل ریزرو کے فیصلے سے پہلے صورتحال
فیڈرل ریزرو اپنا فیصلہ 28 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے مشرقی وقت پر سنائے گا، جس کے بعد سربراہ کی پریس کانفرنس دوپہر 2 بجے 30 منٹ پر ہو گی۔ موجودہ شرح سود 3 اعشاریہ 75 سے 4 اعشاریہ 0 فیصد کے درمیان ہے، جو ستمبر میں 25 بنیادی پوائنٹس کے اضافے کے بعد طے ہوئی تھی۔ منڈی میں تقریبا 90 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بار شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی، جبکہ تقریبا 10 فیصد امکان اضافے کا ہے۔
دس سالہ سرکاری بانڈ کی شرح 4 اعشاریہ 99 فیصد پر بند ہوئی، جو ایک دن پہلے 5 اعشاریہ 0 فیصد تھی۔ دو سالہ شرح 4 اعشاریہ 70 فیصد رہی۔ تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی بازاروں کے موڈ کو بہتر بنانے میں مدد کی۔
| اشاریہ | بندش | تبدیلی |
|---|---|---|
| نیزڈیک | 26 ہزار 477 اعشاریہ 81 | 1 اعشاریہ 18 فیصد اضافہ |
| ایس اینڈ پی 500 | 7 ہزار 722 اعشاریہ 60 | 0 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ |
| ڈاؤ جونز | 52 ہزار 377 اعشاریہ 57 | 0 اعشاریہ 03 فیصد اضافہ |
| رسل 2000 | 2 ہزار 818 اعشاریہ 87 | 1 اعشاریہ 16 فیصد اضافہ |
روزگار اور بڑی کمپنیوں کے نتائج
روزگار کے تازہ اعداد کے مطابق ستمبر میں امریکہ میں 29 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جو توقع سے کم تھیں، اور بے روزگاری کی شرح 4 اعشاریہ 1 فیصد سے بڑھ کر 4 اعشاریہ 2 فیصد ہو گئی۔ تاہم بے روزگاری کے دعووں کی تعداد 17 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 1 لاکھ 94 ہزار رہی، جو جولائی کے بعد کم ترین سطح ہے۔
28 اکتوبر کو کاروبار بند ہونے کے بعد مائیکروسافٹ اور الفابیٹ کے سہ ماہی نتائج بھی آنے کی توقع ہے، جن پر سرمایہ کاروں کی خاص نظر ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو کے بیان کا لہجہ اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نتائج مل کر بازاروں کی اگلی سمت طے کریں گے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ خبر بھی پڑھیں: یہی خبر وطن نیوز کے مرکزی صفحے پر۔






























