پاکستان میں شمسی توانائی زراعت کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔ پنجاب کے کسان اب شمسی پینلوں سے چلنے والے پمپوں کے ذریعے زیرزمین پانی نکال رہے ہیں جس سے ان کے بجلی کے اخراجات تقریباً آدھے ہو گئے ہیں اور پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مفت توانائی کے باعث پانی کا بے تحاشا استعمال ملک کے پہلے سے دباؤ میں مبتلا آبی ذخائر کے لیے ایک نیا خطرہ بن رہا ہے۔ پاکستان شمسی کاشتکاری کے اس دوہرے رخ پر این پی آر کی 19 اکتوبر کی تازہ رپورٹ اور ایک ہم مرتبہ جائزہ شدہ تحقیقی مطالعے نے اہم حقائق سامنے رکھے ہیں۔
اہم نکات
- این پی آر کی 19 اکتوبر 2026 کی رپورٹ: پنجاب میں شمسی پمپ گرمیوں میں روزانہ تقریباً 11 گھنٹے چلتے ہیں اور مچھلی فارموں کے توانائی کے بل تقریباً آدھے کر دیتے ہیں۔
- پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر بشیر احمد نے ان علاقوں میں کھارے پانی کی شمسی پمپنگ کو واقعی خوفناک قرار دیا ہے جو زراعت کے قابل نہیں۔
- تحقیق کے مطابق 77 فیصد کیسز میں شمسی پمپ استعمال کرنے والے کسان ڈیزل پمپ والوں سے زیادہ زیرزمین پانی نکالتے ہیں۔
- آزادانہ مطالعے میں زیریں سندھ طاس کے 30 جوڑوں کے موازنے میں شمسی پمپوں نے اوسطاً 1600 ملی میٹر سالانہ پانی نکالا جبکہ ڈیزل پمپوں نے 1300 ملی میٹر۔
- پاکستان میں 12 لاکھ سے زائد نجی ٹیوب ویل سالانہ 5 کروڑ ایکڑ فٹ سے زائد پانی نکالتے ہیں جبکہ صرف ایک سے دو فیصد رجسٹرڈ یا میٹر شدہ ہیں۔
کسانوں کو سستا پانی، بجلی کے بلوں میں آدھی کمی
پنجاب کے علاقے سلہوک چٹھہ میں محمد عبداللہ ایک مچھلی فارم چلاتے ہیں جہاں شمسی توانائی سے چلنے والے موٹر پمپ زمین سے پانی نکال کر تالابوں میں بھرتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ پمپ روزانہ تقریباً 11 گھنٹے چلتے ہیں اور فارم کا توانائی کا بل تقریباً آدھا کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اب صرف وہی لوگ شمسی توانائی کے بغیر کام کر سکتے ہیں جن کے پاس بہت زیادہ سرمایہ ہو۔
کوٹ رتہ سخی گاؤں کے کسان ابرار حسین اب بھی اپنے دھان کے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے ڈیزل پمپ استعمال کرتے ہیں، مگر شمسی پینل ان کی اولین ترجیح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب نے شمسی پینل لگا لیے ہیں اور وہ بھی لگا کر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی وہ رویہ ہے جو پانی کے بحران کو گہرا کر رہا ہے۔

ماہرین کی تنبیہ: کوئی نگرانی نہیں
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر بشیر احمد کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں کھارے پانی کی شمسی پمپنگ کو اپنانا واقعی خوفناک ہے جو ویسے زراعت کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ان کا اشارہ ان بنجر علاقوں کی جانب ہے جہاں 2023 سے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت بڑے پیمانے پر کارپوریٹ کاشتکاری کے لیے زمینیں آباد کی جا رہی ہیں اور خشک علاقوں جیسے بلوچستان میں شمسی پمپوں کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اسی علاقے کے ایک اور مچھلی کسان مدثر کھرل کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اس بات پر نظر نہیں رکھ رہا کہ کتنا پانی استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں کوئی نگرانی اور توازن کا نظام موجود نہیں ہے۔
پاکستان شمسی کاشتکاری: تحقیق کیا کہتی ہے
محقق خالد جمیل نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا شمسی توانائی سے پمپ چلانے والے کسان ڈیزل استعمال کرنے والوں سے زیادہ زیرزمین پانی نکالتے ہیں۔ ان کے نتائج، جو گزشتہ سال جرنل آف ایگریکلچر اینڈ فوڈ ریسرچ میں شائع ہوئے، بتاتے ہیں کہ سروے کیے گئے 77 فیصد کیسز میں ایسا ہی ہوا۔ ان کے بقول یہ محض انسانی رویہ ہے، جب کوئی چیز مفت ملے تو اسے بچانے کا احساس نہیں ہوتا۔
ایک آزادانہ ہم مرتبہ جائزہ شدہ مطالعے نے بھی ان نتائج کی تصدیق کی ہے۔ زیریں سندھ طاس میں ایک جیسے حالات میں کام کرنے والے کسانوں کے 30 جوڑوں کا موازنہ کیا گیا، ہر جوڑے میں ایک کسان شمسی پمپ اور دوسرا ڈیزل پمپ استعمال کرتا تھا۔ نتائج کے مطابق شمسی پمپوں نے ڈیزل پمپوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ زیرزمین پانی نکالا۔ شمسی پمپوں سے اوسط سالانہ پمپ شدہ پانی 1600 ملی میٹر رہا جبکہ ڈیزل پمپوں سے 1300 ملی میٹر۔ مطالعے نے خبردار کیا کہ شمسی پمپنگ کے زرعی فوائد تسلیم کرتے ہوئے اس کے پھیلاؤ کے لیے محتاط اور باخبر حکمت عملی ضروری ہے تاکہ زیرزمین پانی کے بے تحاشا اخراج سے بچا جا سکے۔
| اشاریہ | شمسی پمپ | ڈیزل پمپ |
|---|---|---|
| تحقیق میں شامل کسان جوڑے | 30 جوڑے، زیریں سندھ طاس | |
| اوسط سالانہ پمپ شدہ پانی | 1600 ملی میٹر | 1300 ملی میٹر |
| وہ کیسز جہاں زیادہ پانی نکالا گیا | 77 فیصد کیسز میں شمسی نے زیادہ | 23 فیصد کیسز میں ڈیزل نے زیادہ |
بلوچستان اور زیرزمین پانی کا بحران
بلوچستان میں شمسی ٹیوب ویلوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق پانی کی قلت وہاں کا بڑا چیلنج ہے کیونکہ زیرزمین پانی کی سطح گر رہی ہے اور بجلی کی فراہمی غیر یقینی ہے۔ تحقیق میں شامل کسانوں نے تسلیم کیا کہ زیرزمین پانی کے مزید گرنے کی فکر ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
موسمیاتی امور پر نظر رکھنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12 لاکھ سے زائد نجی ٹیوب ویل سالانہ 5 کروڑ ایکڑ فٹ سے زائد پانی نکالتے ہیں، مگر ان میں سے صرف ایک سے دو فیصد رجسٹرڈ یا میٹر شدہ ہیں، یعنی اخراج کے اصل پیمانے کی کوئی نگرانی نہیں۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے 2024 کے اعداد کے مطابق لاہور اور کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں پانی کی سطح سالانہ ایک سے تین میٹر گر رہی ہے، اور کوئٹہ کا آبی ذخیرہ شدید طور پر ختم ہونے کے قریب ہے جو 15 سے 20 سال میں مکمل ختم ہو سکتا ہے۔
گرین پاکستان انیشی ایٹو اور متنازع پہلو
2023 سے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت غیر پیداواری زمینوں کو آباد کرنے کی مہم جاری ہے جس کی توجہ بڑے پیمانے پر کارپوریٹ کاشتکاری پر ہے اور خشک علاقوں میں شمسی پمپوں کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے زراعت جدید ہو گی اور پانی کے موثر استعمال والی آبپاشی کو فروغ ملے گا۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے پانی کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ دونوں آراء کے درمیان ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شمسی پمپنگ کی توسیع کے ساتھ پانی کی نگرانی اور ضابطے کا نظام ناگزیر ہے۔
نتیجہ
شمسی توانائی نے پاکستانی کسانوں کو مہنگی بجلی اور ڈیزل سے نجات دلائی ہے، مگر اس سہولت نے پانی کے استعمال پر لگی قدرتی روک بھی ہٹا دی ہے۔ این پی آر کی رپورٹ اور تحقیقی مطالعات واضح کرتے ہیں کہ صاف توانائی کا یہ فائدہ اگر بغیر نگرانی کے جاری رہا تو ملک کے آبی ذخائر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حل شمسی توانائی کو ترک کرنا نہیں بلکہ پانی کی پیمائش، موثر آبپاشی اور مضبوط ضابطے کے ساتھ اس کا دانشمندانہ استعمال ہے۔ مزید ماحولیاتی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔
متعلقہ مضامین
راجستھان نے پگال سولر پلس اسٹوریج منصوبے کے فاتحین کا اعلان کر دیا



























