ریاض: سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر نجران میں حوثی حملہ کے دوران اتوار کے روز ایک پروجیکٹائل رہائشی علاقے میں آ گرا، جس سے چھ شہری زخمی ہو گئے جبکہ تین گھروں اور تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سعودی سول ڈیفنس کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادیوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اہم نکات
- اتوار 18 اکتوبر کو نجران کے ایک رہائشی علاقے میں حوثیوں کا پروجیکٹائل گرنے سے چھ شہری زخمی ہوئے۔
- سعودی پریس ایجنسی کے مطابق واقعے میں تین گھروں اور تین گاڑیوں کو مادی نقصان بھی پہنچا۔
- سول ڈیفنس کے ترجمان نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
- اتوار کی دوپہر نجران میں ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
- اکتوبر کے دوران حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، آرامکو کی تنصیبات اور ابہا ایئرپورٹ پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
- سعودی قیادت والے اتحاد نے بیشتر حملے ناکام بنائے اور یمن میں حوثی ٹھکانوں پر جوابی فضائی کارروائیاں بھی کیں۔

نجران میں حوثی حملہ: سول ڈیفنس کا فوری ردعمل
سعودی سول ڈیفنس کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ اتوار کے روز یمن کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل نجران شہر کے ایک رہائشی علاقے میں آ گرا۔ واقعے کے فوراً بعد سول ڈیفنس کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں تین گھروں اور تین گاڑیوں کو مادی نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان کے مطابق شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق تمام اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ اتوار کی دوپہر کو سول ڈیفنس نے نجران میں ممکنہ خطرے سے متعلق ایک انتباہ بھی جاری کیا تھا، تاہم چند گھنٹوں بعد باضابطہ اعلان کے ذریعے بتایا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔ نجران یمن کی سرحد کے قریب واقع ہے اور ماضی میں بھی اس علاقے کو حوثی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
اکتوبر کے دوران کشیدگی شدید ترین سطح پر
یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اکتوبر 2026 کے دوران شدید ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس ماہ حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں متعدد افراد جان سے گئے اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ آرامکو کی تنصیبات، ابہا ایئرپورٹ اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے بیشتر حملوں کو ناکام بنا دیا ہے، جبکہ یمن کے اندر حوثی پوزیشنوں پر جوابی فضائی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ جھڑپیں ستمبر میں حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور سعودی جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں ہو رہی ہیں، جس سے خطے میں تیل کی فراہمی اور شہری سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
سفارتی ردعمل: پاکستان اور مصر کی حوثی حملوں کی مذمت
نجران کے تازہ حملے کے بعد خطے میں سفارتی ردعمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ پاکستان اور مصر نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اس سے قبل مصر کی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ اگر سعودی عرب نے درخواست کی تو مصر اس کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے اور حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ سول ڈیفنس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
مشرق وسطی کی تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے وطن نیوز اردو کے ساتھ رہیے۔






























