بھارت کے وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں خام تیل لے جانے والے ایک جہاز کو نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم جہاز پر سوار 15 بھارتی ملاح مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس واقعے کے دو روز بعد ایک اور حملے میں رومانیہ میں ڈرون کے نشانے پر آنے والے جہاز پر سوار 9 بھارتی ملاح بھی محفوظ رہے۔ یوں دونوں واقعات میں مجموعی طور پر 24 بھارتی شہریوں کی سلامتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔

اہم نکات
- ایم ٹی ایس ٹی 3 نامی خام تیل بردار جہاز کو 16 اکتوبر کو آبنائے ہرمز میں پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا؛ سوار 15 بھارتی ملاح مکمل محفوظ رہے۔
- کیمیائی مواد لے جانے والا جہاز یارا جے 14 اکتوبر کو رومانیہ کی سولینا لنگر گاہ میں ڈرون حملے کا نشانہ بنا؛ اس کے 9 بھارتی ملاح بھی محفوظ ہیں۔
- بھارت کے وزیر جہاز رانی سربانندا سونووال نے دونوں واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جہازوں کی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
- دونوں حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ، تنظیم یا ملک نے قبول نہیں کی اور حملوں کی نوعیت کا بھی ابھی تک تعین نہیں ہو سکا۔
- بھارت نے سلامتی کونسل میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز ٹینکر حملہ کیسے ہوا
بھارتی وزیر جہاز رانی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ خام تیل لے جانے والا جہاز ایم ٹی ایس ٹی 3 آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا جب اسے نامعلوم شے نے نشانہ بنایا۔ وزیر کے مطابق جہاز پر 15 بھارتی شہری سوار تھے جو سب مکمل محفوظ ہیں اور انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔
بھارتی حکام نے کہا ہے کہ وہ جہاز کی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں صورت حالات پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عملے کے ارکان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ عمان کی حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
ادھر ایرانی بحریہ نے بھی جمعہ کے روز کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک جلتے ہوئے آئل ٹینکر کا پتہ لگایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وہ جہاز ممنوعہ علاقے کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کیے ہوئے تھا۔ تاہم ایرانی بحریہ نے جہاز کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی آگ لگنے کی وجہ واضح کی، اس لیے یہ واضح نہیں کہ یہ وہی جہاز ہے یا کوئی دوسرا۔
رومانیہ میں یارا جے پر ڈرون حملہ
بھارتی وزیر نے اسی بیان میں ایک دوسرے واقعے کی بھی اطلاع دی۔ ان کے مطابق 14 اکتوبر کو رومانیہ کے سولینا ساحلی علاقے میں لنگر انداز کیمیائی مواد لے جانے والے جہاز یارا جے کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر 9 بھارتی ملاح موجود تھے جو حملے میں محفوظ رہے۔
وزیر سونووال کے الفاظ میں دونوں جہازوں میں سوار تمام 24 بھارتی شہری مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی کی موت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ بھارتی حکومت نے جہازوں کی انتظامی کمپنیوں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کر رکھا ہے۔
بحری جہازوں پر بڑھتے حملے اور بھارت کا موقف
حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران اس اہم بحری راستے میں جہازوں پر حملے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ رواں ماہ کے اوائل میں ایک اور ٹینکر پر پروجیکٹائل لگنے سے 12 عملہ زخمی ہوئے تھے جن میں 11 بھارتی تھے، جبکہ چند روز قبل سنگاپور کا ایک کنٹینر جہاز بھی حملے کے بعد آگ لگنے سے ڈوب گیا تھا، حالانکہ اس کے تمام 21 عملہ کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر ہونے والی مباحثے میں بھارت کے مستقل نمائندے ہریش پارتھاناتھنی نے بھی تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ بحری نقل و حمل اور تجارتی شپنگ پر حملے قانونی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہیں، اور تمام فریقین کو فوری طور پر کشیدگی کم کر کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے اور اس خطے میں بڑھتی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور دونوں واقعات کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیں وطن نیوز اردو۔






























