اسلام آباد — وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین رد و بدل کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا اور یہ اگلے تین روز تک نافذ رہیں گی۔
اہم نکات
- پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 93 پیسے کی کمی کردی گئی ہے۔
- کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
- ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا؛ قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔
- نئی قیمتوں کا اطلاق 17 اکتوبر سے 19 اکتوبر تک ہوگا۔
- قیمتوں کا تعین اوگرا نے وفاقی حکومت کے مقررہ طریقہ کار کے تحت کیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی کی تفصیل
پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 93 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔ کمی سے قبل پیٹرول کی قیمت 390 روپے 23 پیسے فی لیٹر تھی جو اب گھٹ کر 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا اور یہ قیمت 17 اکتوبر، 18 اکتوبر اور 19 اکتوبر کو نافذ العمل رہیں گی۔
یہ اس ہفتے میں دوسری بار ہے جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 16 اکتوبر سے نافذ ہونے والی قیمتوں میں بھی پیٹرول 3 روپے 63 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا تھا، جس کے بعد قیمت 390 روپے 23 پیسے مقرر ہوئی تھی۔
ڈیزل کی قیمت برقرار
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اس مرتبہ کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔ ڈیزل کی قیمت 16 اکتوبر سے 31 پیسے فی لیٹر کے اضافے کے بعد اسی سطح پر پہنچی تھی اور اب تین روز تک یہی قیمت رہے گی۔

قیمتوں کا تعین کیسے ہوا
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے وفاقی حکومت کے جاری کردہ طریقہ کار کی بنیاد پر کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے منسلک ہے اور اس میں پلاٹس کے نرخ، پریمیم اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
عوام پر ممکنہ اثرات
پیٹرول کی قیمت میں کمی سے موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو براہ راست ریلیف ملے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر اس کا اثرانداز ہونا متوقع ہے۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے ہمیشہ مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام شہری تک پہنچایا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا اعلان بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عوام کی نظریں ہمیشہ لگی رہتی ہیں کیونکہ ان کا براہ راست تعلق مہنگائی سے ہے۔ اگلی بار قیمتوں کا جائزہ 20 اکتوبر کو متوقع ہے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































