واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شب ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کر کے روس کے خلاف ایک نئے اور وسیع پابندیوں کے پیکج کے نفاذ کو روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے کانگریس کو تحریری طور پر بتایا کہ یہ ٹرمپ روس پابندیوں کی معطلی امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ یہ اقدام اس قانون پر عمل درآمد کی مقررہ ڈیڈ لائن سے صرف دو دن قبل سامنے آیا ہے، جس پر خود ٹرمپ نے گذشتہ ماہ دستخط کیے تھے۔

اہم نکات
- صدر ٹرمپ نے جمعہ 16 اکتوبر کی شب صدارتی حکم نامے کے ذریعے روس پر عائد نئے پابندیوں کے پیکج کا نفاذ روک دیا۔
- معطل کیا گیا قانون مرحوم سینیٹر لنزی گریم کے نام سے منسوب “لنزی او گریم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026” ہے، جس پر وسط ستمبر میں ٹرمپ نے خود دستخط کیے تھے۔
- پیکج میں روسی تیل کے پانچ بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک محصولات اور روسی حکام، بینکوں اور خفیہ ٹینکر بیڑے پر پابندیاں شامل تھیں۔
- ڈیڈ لائن اتوار 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی تھی؛ حکم نامے سے محض دو دن قبل نفاذ روک دیا گیا۔
- کانگریس کے 20 ارکان نے 15 اکتوبر کو ٹرمپ کو خط لکھ کر قانون کے مکمل اور فوری نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔
- ڈیموکریٹ ارکان، بعض ریپبلکن ارکان اور یوکرینی صدر کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ روس پابندیوں کی معطلی: حکم نامے کی تفصیلات
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدر کانگریس کو یہ تصدیق پیش کرتے ہیں کہ اس وقت ان پابندیوں، رکاوٹوں اور محصولات کی معطلی امریکہ کے قومی مفادات میں ہے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صدر یا وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور تجارتی نمائندے سے مشاورت کے بعد مزید کارروائی کو مناسب نہیں سمجھتے۔
یہ قانون کانگریس کے دونوں ایوانوں میں بھاری اکثریت سے منظور ہوا تھا اور اس کا بنیادی مقصد روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کے لیے درکار مالی وسائل سے محروم کرنا تھا۔ قانون کے تحت امریکہ کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ روسی خام تیل یا گیس کے پانچ بڑے خریداروں سے آنے والی تمام اشیاء پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرے، جبکہ روسی اشیاء پر 500 فیصد تک کے محصولات کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق چین اور بھارت روسی تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔
کانگریس کی طرف سے مقررہ 30 دن کی مدت کے بعد یہ پابندیاں اتوار کو نافذ ہونا تھیں، تاہم ٹرمپ نے اس ڈیڈ لائن سے محض دو دن قبل معطلی کا فیصلہ کر لیا۔ قانون کے سیکشن 115 کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کانگریس کو تحریری تصدیق دے کر کسی بھی پابندی کے نفاذ کو روک سکے۔
کانگریس میں شدید ردعمل
ٹرمپ کے اس فیصلے پر کانگریس کے دونوں جماعتوں کے ارکان نے شدید تنقید کی ہے۔ ریپبلکن نمائندے ڈون بیکن نے کہا کہ صدر جنگ کو طول دے رہے ہیں، اسے ختم نہیں کر رہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے الزام لگایا کہ ان معطلیوں کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ولادیمیر پوٹن کی چاپلوسی کے مترادف ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام صرف پوٹن کو حملے جاری رکھنے کی ترغیب دے گا۔ زیلنسکی کے مطابق روس لاکھوں یوکرینیوں کو بجلی اور گرمی کی سہولت سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دباؤ ڈالنا بند کرنے کا وقت نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 15 اکتوبر کو دونوں جماعتوں کے 20 ارکان کانگریس نے ٹرمپ کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے گریم قانون کی پابندیوں کے مکمل اور بلا تاخیر نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان ارکان کا مؤقف تھا کہ یہ پابندیاں پوٹن کو سنجیدہ امن مذاکرات پر مجبور کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔
ڈیزل معاہدے اور توانائی کی قیمتوں کا پس منظر
ٹرمپ کا یہ غیر متوقع فیصلہ اس حیران کن اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ توانائی کی عالمی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے پر بھی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، کیونکہ ان کے خیال میں یہ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ نے یوکرین پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ روسی تیل کی تنصیبات پر اپنے حملے روک دے، کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ اس سے امریکہ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یوکرین نے کچھ عرصے کے لیے یہ حملے روکے تھے، لیکن اب انہیں دوبارہ شروع کر دیا ہے، جبکہ روس نے اسی ہفتے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر رات بھر کے بڑے حملے کیے ہیں جن میں 7 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے۔
یہ قانون جس کے نام سے منسوب ہے، وہ جنوبی کیرولائنا کے سینیٹر لنزی گریم تھے، جو یوکرین کے سب سے نمایاں حامیوں میں سے ایک سمجھے جاتے تھے۔ جولائی میں ان کا غیر متوقع انتقال ہوا، جس کے بعد کانگریس میں ان کے ساتھیوں نے دونوں جماعتوں کی حمایت کے ساتھ اس پابندیوں کے پیکج کو ان کے نام سے منسوب کیا اور ٹرمپ نے اس پر دستخط کر دیے — تاہم اب جمعے کے حکم نامے سے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔
مزید عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو وزٹ کریں۔





























