انڈیا نے کاپ31 سربراہی اجلاس سے پہلے متوازن موسمیاتی عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں انڈیا نے کہا کہ ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات میں “متوازن عمل درآمد کے ذریعے اعتماد بحال ہونا چاہیے” — اور ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ موسمیاتی مالی مدد، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی کو ایجنڈے کے مرکز میں رکھا جائے۔
یہ بیان 16 اکتوبر 2026 کو اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مشن کی مشیر سومیا نائر نے پیش کیا۔ یہ خصوصی اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کے صدر خلیل الرحمان نے “مستقبل کے لیے موزوں سیارہ: موسمیاتی عمل کے ذریعے اعتماد کی بحالی” کے عنوان سے بلایا تھا۔ کاپ31 کا اجلاس 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہوگا۔
اقوام متحدہ میں انڈیا کا بیان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ خصوصی اجلاس کاپ31 سے چند ہفتے پہلے موسمیاتی عمل پر اعتماد کی بحالی کے لیے بلایا گیا تھا۔ انڈیا کے مشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سومیا نائر نے انڈیا کی پوزیشن کو انصاف اور “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں” کے اصول پر مبنی قرار دیا — یہ وہ دیرینہ اصول ہے جس کے تحت ممالک اپنے قومی حالات اور صلاحیتوں کے مطابق موسمیاتی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔
بیان کے مطابق نائر نے کہا: “جیسا کہ انڈیا نے فجی میں تیاری کانفرنس میں زور دیا، ہماری مشترکہ بنیاد ہمارے اختلافات سے بڑی ہے۔ کاپ31 میں متوازن عمل درآمد کے ذریعے اعتماد بحال ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا: “عمل درآمد کو قومی حالات اور ترقی کی ضرورتوں کا احترام کرنا ہوگا، اور عملی مدد کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کو اپنے طے کردہ موسمیاتی راستوں پر آگے بڑھنے کے قابل بنانا ہوگا۔”
اقوام متحدہ نے اس خصوصی اجلاس کے پروگرام اور تصوراتی خاکے کی تصدیق 16 اکتوبر 2026 کو کی تھی۔
اہم نکات
- اجلاس: “مستقبل کے لیے موزوں سیارہ: موسمیاتی عمل کے ذریعے اعتماد کی بحالی” — اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کے صدر کا 16 اکتوبر 2026 کو نیویارک میں خصوصی اجلاس۔
- مقرر: سومیا نائر، اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مشن کی مشیر۔
- بنیادی مطالبہ: کاپ31 میں متوازن موسمیاتی عمل — ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ موسمیاتی مالی مدد، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی، انصاف کی بنیاد پر۔
- مالی مدد پر زور: آرٹیکل 9.1 کا عملی پروگرام ترقی یافتہ ممالک کی مالی ذمہ داریوں کو آگے بڑھائے؛ آرٹیکل 6 کے تحت تعاون اضافی وسائل متحرک کر سکتا ہے۔
- انڈیا کی کامیابی: غیر فوسل ذرائع سے 50 فیصد نصب شدہ بجلی کی گنجائش — 2030 کے ہدف سے پانچ سال پہلے حاصل کی۔
- اگلا مرحلہ: کاپ31، 9 سے 20 نومبر 2026، انطالیہ، ترکیہ۔
متوازن موسمیاتی عمل: انڈیا کے مطالبات
انڈیا نے کاپ31 کے لیے ٹھوس مطالبات پیش کیے۔ پہلا، ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ موسمیاتی مالی مدد، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی — جنہیں انڈیا نے موسمیاتی عزم بڑھانے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ دوسرا، پیرس معاہدے کے آرٹیکل 9.1 کے تحت مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے انڈیا نے کہا کہ عملی پروگرام ترقی یافتہ ممالک کی مالی ذمہ داریوں کو آگے بڑھائے، پہلے دائرہ کار اور طریقہ کار پر توجہ دے۔ تیسرا، آرٹیکل 6 — پیرس معاہدے کا رضاکارانہ بین الاقوامی تعاون کا فریم ورک — بیان کے مطابق اضافی وسائل متحرک کر سکتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کے حوالے سے انڈیا نے زور دیا کہ عالمی ہم آہنگی کا ہدف کمزور طبقات کی خدمت کرے اور اسے قابلِ پیشگوئی اور قابلِ رسائی مالی مدد، ٹیکنالوجی اور صلاحیت سازی کی پشت پناہی حاصل ہو — بغیر اسے حد سے زیادہ تکنیکی بنائے یا رپورٹنگ کے اضافی بوجھ کے۔

انڈیا کی بڑی کامیابی: 50 فیصد غیر فوسل بجلی
انڈیا نے اس موقع پر اپنی موسمیاتی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔ اقوام متحدہ میں انڈیا کے بیان کے مطابق، اس نے غیر فوسل ذرائع سے 50 فیصد نصب شدہ بجلی کی گنجائش حاصل کر لی ہے — 2030 کے ہدف سے پانچ سال پہلے۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کو پیش کیے گئے انڈیا کے موسمیاتی اہداف کی رپورٹ سے مطابقت رکھتے ہیں، جس میں درج ہے کہ فروری 2026 تک انڈیا کی نصب شدہ بجلی کی گنجائش کا 52.5 فیصد سے زیادہ حصہ غیر فوسل ذرائع سے آیا، 2005 سے 2020 کے درمیان اس کی مجموعی قومی پیداوار کی اخراج کی شدت میں 36 فیصد کمی ہوئی، اور 2005 سے 2021 کے درمیان 2.29 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافی ذخیرہ بنایا گیا۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کمزور طبقات کی خدمت کرے اور منصفانہ منتقلی روزگار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
کاپ31 سے پہلے اس بیان کی اہمیت
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کاپ31 کو وعدوں سے عمل درآمد کی طرف بڑھنے کا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ سربراہی اجلاس میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، اور انڈیا جیسے ممالک کے موقف — جو بلند عزم کو مالی مدد، ٹیکنالوجی اور ترقی پذیر ممالک کی ترقی کی گنجائش سے جوڑتے ہیں — انطالیہ کے مذاکراتی ایجنڈے کو متعین کر رہے ہیں۔ انڈیا نے اپنے پیغام کو اپنے بیان کی اسی سطر میں سمیٹا: کاپ31 جامع، اتفاقِ رائے پر مبنی اور متوازن ہونا چاہیے۔
وطن نیوز انٹرنیشنل پر مزید موسمیاتی خبریں پڑھیں۔
نتیجہ
اقوام متحدہ میں انڈیا کا پیغام واضح تھا: موسمیاتی عمل پر اعتماد کی بحالی وعدوں کو عملی مدد میں بدلنے پر منحصر ہے۔ کاپ31 اس مدد کو فراہم کرے گا یا نہیں — یہی انطالیہ سربراہی اجلاس کا اصل امتحان ہوگا۔


























