خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان طالبان اہلکاروں کو ہلاک اور ایک اہم بیس کیمپ تباہ کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج (ہفتہ، 17 اکتوبر 2026) تائدہ سیکٹر، اپر کرم اور غوز گڑھی کے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان نے بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ کا آغاز کیا، جس کے جواب میں پاک فوج نے سرحد پار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اہم نکات
- تائدہ سیکٹر، اپر کرم اور غوز گڑھی میں افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ
- سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا مقصد خارجی دہشت گردوں کو سرحد پار کرانا تھا
- پاک فوج کی جوابی کارروائی میں غوز گڑھی سرحد پر متعدد افغان طالبان اہلکار ہلاک
- اپر کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو نشانہ بنایا گیا — شپولا بیس کیمپ مکمل تباہ
- جوابی کارروائی کے بعد طالبان اہلکاروں نے ایک سرحدی پوسٹ خالی کر دی؛ علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا
پاک افغان سرحد پر فائرنگ کہاں اور کیسے ہوئی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا آغاز ضلع کرم کے تائدہ سیکٹر اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے خارجی دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے کی کوشش کے دوران فائرنگ شروع کی، جسے پاک فوج نے بروقت محسوس کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔ ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی توپ خانے کی مدد سے کی گئی اور افغان سرحد کے اندر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے فائرنگ آ رہی تھی۔
اس واقعے کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم ایک سے زائد میڈیا اداروں نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہی تفصیلات جاری کی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ کچھ وقت تک جاری رہا۔
جوابی کارروائی میں ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ تباہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اپر کرم سیکٹر میں پاک فوج نے افغان طالبان کی ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو براہ راست نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق شپولا بیس کیمپ جوابی کارروائی کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
غوز گڑھی کے سرحدی علاقے میں بھی کارروائی کے دوران متعدد افغان طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مؤثر جوابی کارروائی کے بعد طالبان اہلکاروں نے اپنی ایک سرحدی پوسٹ خالی کر دی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج ملکی سرحدوں کے دفاع، علاقائی سلامتی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے چوکس ہے۔

سرحد پر کشیدگی کا پس منظر
پاک افغان سرحد پر حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے 10 اکتوبر کو ضلع کرم میں ہی دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنائی گئی تھی، جس میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق متعدد دہشت گرد اور ان کی مدد کرنے والے افغان طالبان اہلکار مارے گئے تھے۔ اس واقعے پر ترجمان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال جاری ہے۔
حکومتِ پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں اور اس سرگرمی کو روکنا افغان طالبان کی ذمہ داری ہے۔ تازہ ترین جھڑپیں اسی تناؤ کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے ملاحظہ کریں وطن نیوز اردو۔






























