اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح ہدایت کی ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک ہر صورت پہنچنا چاہیے، اور جو پیٹرول پمپس اس ریلیف سے عوام کو محروم رکھیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں کچھ پیٹرول پمپس کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں، اس لیے قیمتوں کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔
اہم نکات
- وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیٹرول پمپس پر قیمتوں کی نگرانی کی ہدایت کی۔
- ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا۔
- پیٹرول 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر سستا ہو کر 369 روپے 6 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
- ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر سستا ہو کر 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
- جمعے کو پیٹرول میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ متوقع تھا جو بروقت فیصلے سے روک لیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کا حکم
وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیٹرول پمپس پر قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ کوئی پمپ پرانی قیمت پر ایندھن فروخت نہ کر سکے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور خطے میں بے چینی کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے ریلیف سے انکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہونا تھا، تاہم وزیر پیٹرولیم اور دیگر متعلقہ حکام کے بروقت فیصلے سے یہ اضافہ روک لیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس فیصلے کو عوامی ریلیف کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
پیٹرول پمپس کارروائی اور نئی قیمتیں
حکومت کی جانب سے 4 نومبر سے نئی قیمتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت پیٹرول 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر سستا ہو کر 369 روپے 6 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر سستا ہو کر 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان نئی قیمتوں پر عمل درآمد کی نگرانی کی جائے اور جہاں خلاف ورزی پائی جائے وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں ایندھن سے متعلق ریلیف کے دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ ایندھن کے خصوصی انتظام سے اب تک 7 کروڑ 50 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں 28 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی دی جا چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کم آمدنی والے طبقات کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا حکومت کی ترجیح ہے۔

خیبر پختونخوا پیکج اور معاشی ترقی
اجلاس میں خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ پیکج گزشتہ روز حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اجلاس میں اس پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانی صنعتیں، رہائش اور زراعت معاشی ترقی کے لیے اہم ہیں اور ان شعبوں کی ترقی سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف ملے اور اس ریلیف کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔ اسی لیے پیٹرول پمپس کی نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
































