اسلام آباد — وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہو چکا ہے، جس کے بعد قرض کی واپسی کا معاملہ مناسب وقت تک کے لیے موخر ہو گیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ملک کے مالی معاملات سے متعلق اس اہم پیش رفت سے آگاہ کیا اور کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر اس معاملے پر تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اہم نکات
- سعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہو چکا ہے، اور قرض کا معاملہ مناسب وقت تک کے لیے موخر ہو گیا ہے۔
- وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں یہ اعلان کیا، اور بتایا کہ سعودی وزیر خزانہ کے ساتھ ان کی ملاقات بہت اچھی رہی۔
- وزیر خزانہ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے فی الحال مزید مالی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہے، اور ملک کے پاس تین ماہ کا امپورٹ کور موجود ہے۔
- یورو بانڈ کی مد میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ ارب یورو ادا کرنا ہوتے ہیں، اور حکومت کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی انتظامیہ کو ان ادائیگیوں میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔
- عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہو سکتا ہے، تاہم اس کی تاریخ کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
سعودی قرض رول اوور کا اعلان
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سعودی وزیر خزانہ کے ساتھ ان کی ملاقات بہت اچھی رہی، اور دونوں ملکوں کے درمیان مالی تعاون کے معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس معاملے پر فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ رول اوور کا مطلب یہ ہے کہ قرض کی واپسی فوری طور پر درکار نہیں ہوگی، بلکہ اس کی مدت میں توسیع ہو گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے فی الحال مزید سپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ملک کے پاس تین ماہ کا امپورٹ کور موجود ہے، جو بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے ایک اہم سہارا ہے۔ اس اعلان کو ملک کے بیرونی کھاتوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر فوری دباؤ کم ہوتا ہے۔
بیرونی ادائیگیاں اور بینکوں کو ہدایت
وزیر خزانہ نے بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ یورو بانڈ کی مد میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ ارب یورو ادا کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ ادائیگیوں کا نظام اس طرح چلے کہ کسی بھی انتظامیہ کو ان ادائیگیوں میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ نے بینکوں کو بھی ایک اہم ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ بینک سائبر حملوں کے خطرات کے مقابلے میں اپنے حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنائیں، تاکہ مالیاتی نظام محفوظ رہے۔ مالیاتی نظام کی حفاظت کو انہوں نے معیشت کے استحکام کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔

آئی ایم ایف بورڈ اور آئندہ مرحلہ
عالمی مالیاتی فنڈ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ فنڈ کے بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہو سکتا ہے، تاہم اس کی تاریخ کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بورڈ سے پروگرام کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے، جو ملک کے مالیاتی پروگرام کے آئندہ مرحلے کے لیے اہم ہوگی۔
رول اوور کے اعلان کے بعد اب توجہ آئندہ مالیاتی اقدامات اور بیرونی ادائیگیوں کے نظام پر مرکوز رہے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بیرونی کھاتوں کو مستحکم رکھنا اور ادائیگیوں کو بروقت مکمل کرنا اس کی ترجیح ہے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھی جا سکتی ہیں۔































