LIVE
اہم خبر
برطانوی سائبر انتباہ: 2028 تک اہم ڈھانچے پر مصنوعی ذہانت کے حملے کا خدشہخلیجی سیاحت: دبئی سے العلاء تک خلیج کی حسین ترین منزلوں کا مکمل گائیڈکینسر خون ٹیسٹ: انگلینڈ میں جلد تشخیص کا دنیا کا پہلا بڑا تجربہ شروعای ڈی پی سربراہ کی تبدیلی: 2027 میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان اور لنٹ میں سرمایہ کاروں کا دباؤسی ایف ڈی اے ایوارڈز 2026: ریچل اسکاٹ اور رالف لارین کی تاریخی جیتاے آئی چپس کی ریکارڈ مانگ: اے ایم ڈی کی تاریخ ساز سہ ماہی اور ڈیٹا مراکز پر ووٹروں کا فیصلہافریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کا افریقی صحافیوں کے لیے حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا تربیتی پروگرامکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ: دفاعی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے منظورنئے کرنسی نوٹ آ رہے ہیں: وفاقی کابینہ نے ڈیزائن منظور کر لیے، 10 روپے کا سکّہ بھی جاری ہوگاانتالیا معاہدہ: کاپ31 میں توانائی کی بچت والی عمارتوں کو مرکزی حیثیت مل گئیسعودی عرب کا تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور، وزیر خزانہ کا معاشی استحکام پر اطمینانفہد مصطفیٰ کا قوی خان کو خراج عقیدت: لیجنڈز کبھی نہیں مرتےافریقہ سوورین کلائمیٹ فیسلٹی: 690 ملین ڈالر کا آغاز، موسمیاتی منصوبوں کو قابل سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیےآئی ای اے: بھارت کی قابل تجدید صلاحیت 2030 تک 530 گیگاواٹ تک پہنچے گی، شمسی توانائی قیادت کرے گیامریکا کے مڈٹرم انتخابات: خلا میں بھی ووٹنگ، تین خلابازوں نے حقِ رائے دہی استعمال کیاوزیر اعظم کا پیٹرول پمپس پر قیمتوں کی نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی کا حکم2026 کے لیے 61 نوجوان رضاکار گلوبل گرین ایمبیسیڈر مقررجمرود میں انسداد پولیو مہم کے دوران سپروائزر اغوا، بازیابی کی کوششیں جاریایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں بحری سرنگوں سے چار تیل بردار جہاز تباہ، دو مزید قبضے میںفلاڈیلفیا نے ایلین فلانگن کو 2026 کی کلائمیٹ ہیرو قرار دیابرطانوی سائبر انتباہ: 2028 تک اہم ڈھانچے پر مصنوعی ذہانت کے حملے کا خدشہخلیجی سیاحت: دبئی سے العلاء تک خلیج کی حسین ترین منزلوں کا مکمل گائیڈکینسر خون ٹیسٹ: انگلینڈ میں جلد تشخیص کا دنیا کا پہلا بڑا تجربہ شروعای ڈی پی سربراہ کی تبدیلی: 2027 میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان اور لنٹ میں سرمایہ کاروں کا دباؤسی ایف ڈی اے ایوارڈز 2026: ریچل اسکاٹ اور رالف لارین کی تاریخی جیتاے آئی چپس کی ریکارڈ مانگ: اے ایم ڈی کی تاریخ ساز سہ ماہی اور ڈیٹا مراکز پر ووٹروں کا فیصلہافریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کا افریقی صحافیوں کے لیے حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا تربیتی پروگرامکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ: دفاعی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے منظورنئے کرنسی نوٹ آ رہے ہیں: وفاقی کابینہ نے ڈیزائن منظور کر لیے، 10 روپے کا سکّہ بھی جاری ہوگاانتالیا معاہدہ: کاپ31 میں توانائی کی بچت والی عمارتوں کو مرکزی حیثیت مل گئیسعودی عرب کا تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور، وزیر خزانہ کا معاشی استحکام پر اطمینانفہد مصطفیٰ کا قوی خان کو خراج عقیدت: لیجنڈز کبھی نہیں مرتےافریقہ سوورین کلائمیٹ فیسلٹی: 690 ملین ڈالر کا آغاز، موسمیاتی منصوبوں کو قابل سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیےآئی ای اے: بھارت کی قابل تجدید صلاحیت 2030 تک 530 گیگاواٹ تک پہنچے گی، شمسی توانائی قیادت کرے گیامریکا کے مڈٹرم انتخابات: خلا میں بھی ووٹنگ، تین خلابازوں نے حقِ رائے دہی استعمال کیاوزیر اعظم کا پیٹرول پمپس پر قیمتوں کی نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی کا حکم2026 کے لیے 61 نوجوان رضاکار گلوبل گرین ایمبیسیڈر مقررجمرود میں انسداد پولیو مہم کے دوران سپروائزر اغوا، بازیابی کی کوششیں جاریایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں بحری سرنگوں سے چار تیل بردار جہاز تباہ، دو مزید قبضے میںفلاڈیلفیا نے ایلین فلانگن کو 2026 کی کلائمیٹ ہیرو قرار دیا
شوبز

فہد مصطفیٰ کا قوی خان کو خراج عقیدت: لیجنڈز کبھی نہیں مرتے

News Desk 2شائع شدہ 4 نومبر، 2026
فہد مصطفیٰ کا قوی خان کو خراج عقیدت: لیجنڈز کبھی نہیں مرتے
Share this story

پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ نے مرحوم لیجنڈ قوی خان کو یاد کرتے ہوئے ایک جذباتی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنی فلم قائد اعظم زندہ باد کا ایک یادگار منظر شیئر کیا، جس میں قوی خان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر والا فریم تھامے نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے ساتھ فہد مصطفیٰ نے لکھا کہ لیجنڈز کبھی نہیں مرتے، ان کی وراثت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہ مختصر سا پیغام سوشل میڈیا پر مداحوں کے دلوں کو چھو گیا اور ایک بار پھر قوی خان کے فن اور شخصیت کی یاد تازہ ہو گئی۔

فہد مصطفیٰ کا یہ خراج عقیدت محض ایک پرانی تصویر کا اشتراک نہیں۔ یہ اس رشتے کی یاد ہے جو ایک نوجوان اداکار اور ایک استاد فنکار کے درمیان فلم کے سیٹ پر بنا تھا۔ قائد اعظم زندہ باد میں قوی خان نے فہد مصطفیٰ کے کردار کے والد کا کردار ادا کیا تھا، اور اسی فلم کا وہ منظر اب ایک بار پھر لوگوں کے سامنے آیا ہے۔ بارش میں بھیگا ہوا وہ منظر، ہاتھ میں بانی پاکستان کی تصویر، اور ایک بزرگ کی سنجیدہ موجودگی — یہ سب مل کر اس فنکار کی عظمت کی کہانی سناتے ہیں جس نے اپنی زندگی اداکاری کے نام کر دی تھی۔

اہم نکات

  • فہد مصطفیٰ نے قوی خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فلم قائد اعظم زندہ باد کا ایک منظر شیئر کیا۔
  • اس منظر میں قوی خان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر والا فریم تھامے ہوئے نظر آتے ہیں۔
  • فہد مصطفیٰ نے لکھا کہ لیجنڈز کبھی نہیں مرتے، ان کی وراثت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
  • قائد اعظم زندہ باد میں قوی خان نے منور مہاراج کا کردار ادا کیا تھا، جو فہد مصطفیٰ کے کردار انسپکٹر گلاب کے والد تھے۔
  • قوی خان ۵ مارچ ۲۰۲۳ کو ۸۰ برس کی عمر میں کینیڈا میں انتقال کر گئے تھے۔
  • انہیں ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا تھا۔

خراج عقیدت کیوں خاص ہے

فہد مصطفیٰ کا پیغام اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ کسی رسمی بیان کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک ذاتی یاد کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے وہ منظر چنا جس میں قوی خان کا کردار ایک ایسی تصویر تھامے ہوئے ہے جو پاکستان کی تاریخ اور شناخت کی علامت ہے۔ یہ انتخاب خود بتاتا ہے کہ قوی خان کے فن میں وقار، سنجیدگی اور وطن سے محبت کیسی گہرائی سے موجود تھی۔

مداحوں نے اس پوسٹ پر محبت اور دعاؤں کے ساتھ ردعمل دیا۔ بہت سے لوگوں نے لکھا کہ قوی خان جیسے فنکار بار بار پیدا نہیں ہوتے، اور ان کی اداکاری آج بھی نوجوان اداکاروں کے لیے ایک سبق ہے۔ کسی فنکار کو یاد رکھنے کا سب سے خوبصورت طریقہ یہی ہے کہ اس کا کام نئی نسل تک پہنچتا رہے، اور فہد مصطفیٰ کی یہ پوسٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

فلم کی شوٹنگ کے دوران کیمرا اور سیٹ
فلم کا سیٹ — جہاں ایک منظر کی تیاری میں کئی فنکاروں کی محنت شامل ہوتی ہے۔

قوی خان کا فنکارانہ سفر

قوی خان ۱۳ نومبر ۱۹۴۲ کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن میں ریڈیو پاکستان پشاور سے اپنے فن کا آغاز کیا اور پھر ٹیلی وژن کی دنیا میں قدم رکھا۔ سنہ ۱۹۶۵ میں جب پاکستان ٹیلی وژن نے لاہور سے نشریات شروع کیں، تو قوی خان اس کے ابتدائی فنکاروں میں شامل تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کئی دہائیوں تک ٹیلی وژن، تھیٹر اور فلم میں کام کیا اور ہر کردار میں اپنی الگ پہچان بنائی۔

ان کے مشہور ٹیلی وژن ڈراموں میں اندھیرا اجالا کو خاص مقام حاصل ہے، جس میں ان کی اداکاری نے ناظرین کے دلوں میں گھر کر لیا۔ وہ ایسے اداکار تھے جو کردار کو صرف ادا نہیں کرتے تھے، بلکہ اس میں جان ڈال دیتے تھے۔ چاہے وہ ایک سنجیدہ بزرگ ہوں، ایک محبت کرنے والے باپ ہوں یا ایک باوقار شخصیت، ہر روپ میں ان کی موجودگی منظر کو مکمل کر دیتی تھی۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ یہ اعزازات اس بات کی گواہی ہیں کہ قوی خان محض ایک مقبول اداکار نہیں تھے، بلکہ ملک کی ثقافتی وراثت کا ایک اہم حصہ تھے۔ ان کی وفات کے وقت بھی فنکاروں، مداحوں اور ثقافتی حلقوں نے یکساں طور پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

قائد اعظم زندہ باد میں ان کا کردار

فلم قائد اعظم زندہ باد سنہ ۲۰۲۲ میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں فہد مصطفیٰ نے انسپکٹر گلاب کا کردار ادا کیا، جبکہ ماہرہ خان بھی مرکزی کاسٹ میں شامل تھیں۔ قوی خان نے اس فلم میں منور مہاراج کا کردار نبھایا، جو گلاب کے والد تھے۔ یہ فلم ان کی آخری فلموں میں سے ایک تھی، اور اسی لیے فہد مصطفیٰ کے لیے اس منظر کی یاد ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔

فلم کے اس منظر میں بارش، پرانی تصویر اور ایک باپ کی خاموش محبت — یہ سب عناصر مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو صرف کہانی کا حصہ نہیں، بلکہ پاکستانی سینما کی ایک یادگار بھی ہے۔ قوی خان کی اداکاری میں جو ٹھہراؤ اور وقار تھا، وہ اس منظر میں صاف نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں بعد بھی یہ منظر لوگوں کو یاد ہے اور اب دوبارہ شیئر ہونے پر پھر سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

تھیٹر اسٹیج پر خراج عقیدت کی علامت
اسٹیج کی روشنی — بڑے فنکاروں کی یاد ہمیشہ اسٹیج اور پردے پر زندہ رہتی ہے۔

ورثہ کیوں زندہ رہے گا

قوی خان کی وفات ۵ مارچ ۲۰۲۳ کو کینیڈا میں ہوئی، جہاں وہ گردوں کے مرض کا علاج کرا رہے تھے۔ ان کی عمر ۸۰ برس تھی۔ اس خبر پر پورے ملک میں افسوس کی لہر دوڑ گئی تھی اور کئی نامور فنکاروں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ اس وقت فہد مصطفیٰ نے بھی کہا تھا کہ قوی خان کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک اعزاز تھا اور وہ اپنے فن کے استاد تھے۔

آج تین برس بعد بھی جب فہد مصطفیٰ انہیں یاد کرتے ہیں، تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ سچا فن وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتا۔ قوی خان کے ڈرامے، ان کی فلمیں اور ان کے کردار آج بھی ناظرین کے پاس محفوظ ہیں۔ نئی نسل جب ان کے کام کو دیکھتی ہے، تو اسے اداکاری کی وہ سادگی اور سچائی ملتی ہے جو آج بھی ایک معیار سمجھی جاتی ہے۔

فہد مصطفیٰ کا یہ پیغام نوجوان فنکاروں کے لیے بھی ایک سبق ہے — کہ بڑے فنکاروں کا احترام صرف ان کی زندگی میں نہیں، بلکہ ان کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے۔ لیجنڈز واقعی کبھی نہیں مرتے، کیونکہ ان کا کام، ان کی آواز اور ان کے کردار لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ قوی خان کی یاد بھی اسی طرح پاکستانی فن کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گی۔

مزید اردو خبریں اور ثقافتی معلومات کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

کراچی میں عالمی ثقافتی میلہ جاری: ڈیڑھ سو ممالک کے فنکار، تھیٹر، موسیقی اور فلم کی رونقشوبز

کراچی میں عالمی ثقافتی میلہ جاری: ڈیڑھ سو ممالک کے فنکار، تھیٹر، موسیقی اور فلم کی رونق

کراچی میں تیسرا عالمی ثقافتی میلہ ۲۹ اکتوبر سے ۲۲ نومبر تک جاری ہے، جس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک کے ایک ہزار سے زائد فنکار اور پانچ سو سے زیادہ پاکستانی فنکار تھیٹر، موسیقی، رقص اور فلم پیش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں
پی ٹی وی ڈراما اینڈ فلم اکیڈمی کی بحالی: نوجوانوں کو فلم سازی اور کلر گریڈنگ کی جدید تربیت ملے گیشوبز

پی ٹی وی ڈراما اینڈ فلم اکیڈمی کی بحالی: نوجوانوں کو فلم سازی اور کلر گریڈنگ کی جدید تربیت ملے گی

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی وی ڈراما اینڈ فلم اکیڈمی کو جدید تربیتی ادارے کے طور پر بحال کرنے کی ہدایت کر دی ہے، تاکہ نوجوانوں کو فلم سازی، ڈرامہ سازی اور کلر گریڈنگ کی عملی تربیت مل سکے۔

مزید پڑھیں
ہینگنگ بائی اے وائر: بٹگرام کے کیبل کار حادثے کی کہانی اب آسکر کی دوڑ میںشوبز

ہینگنگ بائی اے وائر: بٹگرام کے کیبل کار حادثے کی کہانی اب آسکر کی دوڑ میں

پاکستان کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے عالمی سینما میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے اس فلم کو ۹۹ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم منتخب کیا ہے۔

مزید پڑھیں
درِ نجات اب عربی زبان میں: ۶ دسمبر کو مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کے لیے پیشکششوبز

درِ نجات اب عربی زبان میں: ۶ دسمبر کو مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کے لیے پیشکش

پاکستانی ڈراما ’درِ نجات‘ ۶ دسمبر ۲۰۲۶ سے ایم بی سی بالی وڈ پر عربی زبان میں نشر ہوگا۔ عمیرہ احمد کی تحریر اور ثاقب خان کی ہدایت کاری میں بننے والا یہ ڈراما اب مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین تک پہنچے گا۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

افریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کا افریقی صحافیوں کے لیے حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا تربیتی پروگرام
نمایاں خبر

افریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کا افریقی صحافیوں کے لیے حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا تربیتی پروگرام

نمیبیا، زیمبیا اور سینیگال کے نشریاتی صحافیوں نے افریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کی شراکت داری کے تحت دو روزہ موسمیاتی رپورٹنگ تربیت کا آغاز کر دیا ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
افریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کا افریقی صحافیوں کے لیے حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا تربیتی پروگرام
گرین جرنلزم

افریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کا افریقی صحافیوں کے لیے حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا تربیتی پروگرام

نمیبیا، زیمبیا اور سینیگال کے نشریاتی صحافیوں نے افریقن یونین آف براڈکاسٹنگ اور گرین کلائمیٹ فنڈ کی شراکت داری کے تحت دو روزہ موسمیاتی رپورٹنگ تربیت کا آغاز کر دیا ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶ کے لیے درخواستیں کھل گئی ہیں جو بدلتی آب و ہوا میں افریقہ کے کسانوں اور برادریوں کے خوراک اگانے، بانٹنے اور حاصل کرنے کی رپورٹنگ کو سراہتے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع

یو این او ایچ آر ایل ایل ایس نے 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے مکمل مالی مدد یافتہ صحافتی فیلوشپ کھول دی ہے، جس کے تحت منتخب صحافی 25 سے 27 مارچ 2027 کو دوحہ میں دوحہ پروگرام برائے عمل کے وسط مدتی جائزے کی کوریج کریں گے۔ درخواستیں 30 نومبر 2026 کو بند ہوں گی۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔