LIVE
اہم خبر
اسرائیلی طیارے کو حادثے سے بچانے کی کوشش، پائلٹ گرفتاریورپ 2030 تک کمزور رہے گا، ڈچ چیف آف ڈیفنس کا انتباہافریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعاتپاکستان ہاکی لیگ کا باضابطہ آغاز 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگابیلجیم کا انتباہ: روس کی ہائبرڈ جنگ سے یورپ کیلئے تاریک موسم سرماپاکستان پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا: طارق తారرسمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہٹرمپ کا بڑا اعلان: ٹاپ ٹیکنالوجی فرمز نے AI کی خود نگرانی پر اتفاق کیااسٹیٹ بینک کے کرنسی ریٹس: ڈالر، یورو اور دیگر کی قیمتیں جانیںجنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ، 3 زخمیآسٹریلیا: ایندھن کی قیمتیں اور سبسڈی ختم ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، چیلنجرز کا الزاماے بی سی کے معروف صحافی ایلن کولر ریٹائر، وزیر خزانہ کا خراج تحسینعالمی آلودگی: ہیٹ ویوز اور جنگلاتی آگ سے اوزون کی سطح خطرناک حد تک بلندآسٹریلیا کی 6 یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں، ایلن کولر ریٹائردنیا بھر میں ہر آٹھویں کینسر کی وجہ انفیکشن، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹامریکی گلوکار بیوی کے قتل میں قصوروار، سزا سنا دی گئیپنجاب میں 1367 ٹریفک حادثات، 11 ہلاکتیں اور 1573 زخمیاسرائیلی طیارے کو حادثے سے بچانے کی کوشش، پائلٹ گرفتاریورپ 2030 تک کمزور رہے گا، ڈچ چیف آف ڈیفنس کا انتباہافریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعاتپاکستان ہاکی لیگ کا باضابطہ آغاز 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگابیلجیم کا انتباہ: روس کی ہائبرڈ جنگ سے یورپ کیلئے تاریک موسم سرماپاکستان پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا: طارق తారرسمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہٹرمپ کا بڑا اعلان: ٹاپ ٹیکنالوجی فرمز نے AI کی خود نگرانی پر اتفاق کیااسٹیٹ بینک کے کرنسی ریٹس: ڈالر، یورو اور دیگر کی قیمتیں جانیںجنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ، 3 زخمیآسٹریلیا: ایندھن کی قیمتیں اور سبسڈی ختم ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، چیلنجرز کا الزاماے بی سی کے معروف صحافی ایلن کولر ریٹائر، وزیر خزانہ کا خراج تحسینعالمی آلودگی: ہیٹ ویوز اور جنگلاتی آگ سے اوزون کی سطح خطرناک حد تک بلندآسٹریلیا کی 6 یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں، ایلن کولر ریٹائردنیا بھر میں ہر آٹھویں کینسر کی وجہ انفیکشن، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹامریکی گلوکار بیوی کے قتل میں قصوروار، سزا سنا دی گئیپنجاب میں 1367 ٹریفک حادثات، 11 ہلاکتیں اور 1573 زخمی
دنیا

افریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعات

usman javedشائع شدہ 30 ستمبر، 2026
افریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعات
خصوصی کوریج: افریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعات / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

نائجیریا کے ارب پتی الیکو ڈانگوٹے نے کینیا کے ساحلی شہر لامو میں 16 بلین ڈالر مالیت کی ڈنگوٹے آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ یہ منصوبہ خطے کے سب سے بڑے صنعتی منصوبوں میں سے ایک ہے، تاہم اس کا آغاز زمین کے تنازعات اور مقامی لوگوں کی جانب سے معاوضے کے مطالبات کے ساتھ ہوا ہے۔

ڈنگوٹے آئل ریفائنری: منصوبے کا آغاز اور حجم

الیکو ڈانگوٹے، جو افریقہ کے امیر ترین شخص ہیں، نے کینیا کے صدر ولیم روٹو کے ہمراہ لامو میں اس آئل ریفائنری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ ریفائنری مکمل ہونے پر روزانہ 700,000 بیرل خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے مشرقی افریقہ کا سب سے بڑا صنعتی منصوبہ بناتا ہے۔

  • منصوبے کی کل لاگت 16 بلین ڈالر ہے۔
  • افتتاح 30 ستمبر 2026 کو ہوا۔
  • روزانہ 700,000 بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت۔
  • مشرقی افریقہ کا سب سے بڑا صنعتی منصوبہ۔

زمین کے تنازعات اور مقامی احتجاج

افتتاح سے قبل، مقامی باشندوں کی جانب سے ریفائنری کے لیے استعمال ہونے والی زمین کے مناسب معاوضے کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا گیا۔ ڈانگوٹے نے ان احتجاجوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹرز کی جانب سے کھیل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ریفائنری منصوبہ 2030 تک منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہوگا۔

  • مقامی افراد نے زمین کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔
  • ڈانگوٹے نے احتجاج کو ‘کھیل’ قرار دیا۔
  • پروجیکٹ 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

عالمی رہنماؤں کی شرکت اور علاقائی تعاون

اس منصوبے کے افتتاح کی تقریب میں یوگنڈا، ایتھوپیا، ٹوگو اور بنین کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ ڈانگوٹے نے علاقائی حکومتوں کو ریفائنری میں مشترکہ 30 فیصد حصہ داری کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو افریقہ کے صنعتی سفر میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا۔

علاقائی اتحاد کی اہمیت

ڈانگوٹے نے کہا کہ یہ افریقہ کا آپس میں مل کر افریقہ کے لیے تعمیر کرنے کا عمل ہے۔ انہوں نے اپنے نائجیریا کے لیککی ریفائنری منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ کامیاب رہا، لیکن لامو کو اس کی کامیابی دہرانے کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔

  • افتتاح میں یوگنڈا، ایتھوپیا، ٹوگو اور بنین کے رہنما شریک ہوئے۔
  • علاقائی حکومتوں کو 30 فیصد حصہ داری کی پیشکش۔
  • منصوبے کو افریقہ کے صنعتی سفر میں اہم قدم قرار دیا۔

کینیا کا سب سے بڑا منصوبہ

یہ ریفائنری کینیا کا آزادی کے بعد کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جو 5.1 بلین ڈالر کے اسٹینڈرڈ گیج ریلوے سے بھی بڑا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ میں واحد ریفائنری ہوگی۔

ماحولیاتی خدشات اور تنقید

سیو لامو مہم کے شریک بانی ولید علی نے منصوبے کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماحولیاتی اثرات کی تشخیص (EIA) کی رپورٹ اور مجوزہ حفاظتی اقدامات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا منصوبہ نہیں ہے جہاں ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

  • ماحولیاتی اثرات پر تشویش کا اظہار۔
  • ماحولیاتی اثرات کی تشخیص رپورٹ کا مطالبہ۔
  • ماضی میں ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرنے کے واقعات کا ذکر۔

روزگار کے مواقع اور تنقید

ڈانگوٹے کے مطابق، تعمیر کے دوران یہ ریفائنری 60,000 ملازمتیں پیدا کرے گی، جس کے فوائد براہ راست ملازمین سے آگے تک پھیلیں گے۔ تاہم، کچھ حلقوں نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے کہ یہ کینیا جیسے تیل پیدا نہ کرنے والے ملک میں کیوں بنایا جا رہا ہے۔

متبادل مقامات پر بحث

بعض تجزیہ کاروں نے تنزانیہ یا یوگنڈا جیسے ممالک میں ریفائنری کی تعمیر کی تجویز دی تھی، جو مشرقی افریقی خام تیل پائپ لائن کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لیکن کینیا کے توانائی اور پٹرولیم کے وزیر اوپیوو وانڈائی نے واضح کیا کہ ریفائنری کا مقام اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ وہ کس علاقے سے تیل حاصل کرے گی۔

  • 60,000 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع۔
  • کینیا کے تیل پیدا نہ کرنے والے ملک ہونے پر تنقید۔
  • تنزانیہ اور یوگنڈا کو متبادل کے طور پر تجویز کیا گیا۔
  • وزیر توانائی نے کہا کہ ریفائنری مارکیٹ سے خام تیل حاصل کرے گی۔

نتیجہ

الیکو ڈانگوٹے کی جانب سے کینیا میں 16 بلین ڈالر کی آئل ریفائنری کا افتتاح افریقہ کے لیے ایک اہم صنعتی پیش رفت ہے۔ یہ منصوبہ خطے میں تیل کی پراسیسنگ کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھائے گا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرے گا۔ تاہم، زمین کے تنازعات، معاوضے کے مطالبات اور ماحولیاتی خدشات جیسے مسائل کو حل کرنا اس منصوبے کی طویل مدتی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوگا۔ علاقائی تعاون اور افریقہ کی اپنی صنعتی ترقی کے عزم کو اجاگر کرنے والا یہ منصوبہ، مستقبل میں افریقی براعظم کے لیے ایک روشن باب ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کیا جائے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس ریفائنری کی تعمیر کا مقصد کیا ہے؟

اس ریفائنری کا مقصد مشرقی افریقہ میں خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا اور خطے کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

افتتاح کے وقت کن مسائل کا سامنا تھا؟

افتتاح کے وقت مقامی افراد کی جانب سے زمین کے معاوضے کے مطالبے اور ماحولیاتی اثرات پر تشویش جیسے مسائل سامنے آئے۔

یہ منصوبہ افریقہ کے لیے کتنا اہم ہے؟

یہ منصوبہ افریقہ کے صنعتی سفر میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جو خطے میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور صنعتی ترقی کو فروغ دے گا۔

کیا یہ ریفائنری صرف کینیا کے لیے ہے؟

نہیں، ڈنگوٹے آئل ریفائنری علاقائی حکومتوں کو حصہ داری کی پیشکش کے ساتھ بنائی گئی ہے اور اس کا مقصد پورے مشرقی افریقہ کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

انگریزی میں پڑھیں: Africa’s Richest Man Opens Kenya Oil Refinery Amid Land Protests

ذرائع: Construction Review Online

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ
نمایاں خبر

سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ

عالمی سمندروں نے گزشتہ سال ریکارڈ توڑ گرمی جذب کی ہے، جو انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنے، سطح بلند ہونے اور زندگی کے لیے کم سازگار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ
گرین جرنلزم

سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ

عالمی سمندروں نے گزشتہ سال ریکارڈ توڑ گرمی جذب کی ہے، جو انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنے، سطح بلند ہونے اور زندگی کے لیے کم سازگار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں