دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 121 کو بدھ کی صبح سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، طیارے کے ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ کو چھرا گھونپنے کے بعد طیارے کو حادثے کا شکار کرنے کی کوشش کی۔
واقعے کی تفصیلات
فلائی دبئی کا طیارہ ایف زیڈ 121، جو متحدہ عرب امارات کے دبئی سے اسرائیل کے تل ابیب کے لیے پرواز کر رہا تھا، اردن کے فضائی حدود میں پرواز کے دوران اچانک نیچے گرنے لگا۔ طیارے نے تین ہنگامی سگنل بھیجے، جن میں سے ایک نے غیر قانونی مداخلت کا اشارہ دیا۔
- طیارے نے صرف دو منٹ میں تقریباً 16,000 فٹ کی بلندی گنوائی۔
- اسرائیلی حکام نے ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشے کے پیش نظر جنگی طیارے روانہ کیے۔
- طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔
- اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیا۔
پائلٹ کا حملہ اور طیارے کو گرانے کی کوشش
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ طیارے کے ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ کو چھرا گھونپا اور طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ طیارے کے عملے کے ایک رکن اور ایک مسافر نے مل کر حملہ آور پائلٹ کو قابو کر لیا۔
- دبئی سے پرواز کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد طیارے نے ہنگامی سگنل بھیجنا شروع کیا۔
- اردن کے اوپر پرواز کے دوران طیارے میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا۔
- طیارہ تیزی سے نیچے گرنے لگا، جس سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
- ایک مسافر کے مطابق، طیارہ تقریباً بے قابو ہو گیا تھا۔
- عملے اور مسافروں کی فوری کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔
حملہ آور پائلٹ کی شناخت اور گرفتاری
اسرائیلی حکام کے مطابق، حملہ آور پائلٹ کا تعلق عمان سے بتایا جا رہا ہے۔ اسے سعودی حکام نے حراست میں لے لیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔
مسافروں اور عملے کی بہادری
بنجمن نیتن یاہو نے ان مسافروں اور عملے کے ارکان کی خصوصی طور پر تعریف کی جنہوں نے حملہ آور پائلٹ کو روکنے میں مدد کی۔ ان کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی کی بدولت ایک بڑے سانحے سے بچا جا سکا۔
سعودی عرب کا ردعمل
سعودی حکام نے طیارے کو تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت دی اور مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔ ابتدائی طور پر سعودی عرب نے اسرائیلی طیاروں کو اسرائیلی مسافروں کو لینے کی اجازت دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
- تبوک ایئرپورٹ پر طیارے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
- مسافروں کو طیارے سے اتار کر ان کی ضروریات پوری کی گئیں۔
- سعودی حکام نے حملہ آور پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔
- واقعے کی تحقیقات کے لیے سعودی اور اسرائیلی حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
دیگر پروازیں اور مسافر
فلائی دبئی کی ایک اور پرواز، جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی، بحفاظت تل ابیب پہنچ گئی۔ اس پرواز پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
نتیجہ
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز پر پیش آنے والا یہ واقعہ فضائی سفر کی حفاظت کے حوالے سے ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ پائلٹ کی جانب سے دوسرے پائلٹ پر حملہ اور طیارے کو حادثے کا شکار کرنے کی کوشش نے دنیا بھر کی ایئر لائنز اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ مسافروں اور عملے کی فوری مداخلت نے ایک بڑے حادثے کو تو ٹال دیا، لیکن اس واقعے کی تحقیقات سے فضائی سفر کے پروٹوکولز اور پائلٹس کی ذہنی صحت کے حوالے سے اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس واقعے کو “انتہائی سنگین سیکیورٹی واقعہ” قرار دیا ہے اور حملہ آور پائلٹ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کی اجازت دینا اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا قابل تحسین ہے۔ اس واقعے کے بعد فضائی سفر کی سیکیورٹی کے حوالے سے مزید سخت اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی تھی؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، طیارے کے ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ کو چھرا گھونپا اور طیارے کو گرانے کی کوشش کی، جسے ہائی جیکنگ کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
طیارے کو کہاں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی؟
طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
حملہ آور پائلٹ کا تعلق کس ملک سے ہے؟
اسرائیلی حکام کے مطابق، حملہ آور پائلٹ کا تعلق عمان سے بتایا جا رہا ہے۔
کیا مسافروں کو کوئی نقصان پہنچا؟
تمام مسافر اور عملہ بحفاظت طیارے سے اتر گئے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

















