سیول: جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا سے 21 ستمبر کو سرحدی علاقے میں ہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکوں پر معافی کا مطالبہ کیا ہے جس میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔
بارودی سرنگ کے دھماکے کی تفصیلات
21 ستمبر کو غیر فوجی علاقے (DMZ) میں ہونے والے دھماکوں میں تین جنوبی کوریائی اہلکار زخمی ہوئے۔ جنوبی کوریا کے مطابق، یہ دھماکے شمالی کوریا کی جانب سے نصب کردہ بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوئے۔ اس واقعے کو کئی دہائیوں پر محیط جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
- 21 ستمبر کو غیر فوجی علاقے (DMZ) میں دھماکے ہوئے۔
- تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے۔
- جنوبی کوریا کا الزام ہے کہ یہ شمالی کوریا کی بارودی سرنگیں تھیں۔
- اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
شمالی کوریا کا ردعمل
شمالی کوریا نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے کشیدگی بڑھانے کے لیے جنوبی کوریا کا ایک بے بنیاد دعویٰ قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا کی رہنما کم جونگ ان کی بہن، کم یو جونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا سیاسی اور فوجی اشتعال انگیزی کے لیے یہ دعوے گھڑ رہا ہے۔
- شمالی کوریا نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
- کم یو جونگ نے اسے جنوبی کوریا کی سازش قرار دیا۔
- شمالی کوریا نے بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تردید کی۔
- جنوبی کوریا پر الزام لگایا کہ وہ خود کشیدگی بڑھا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کا موقف اور مطالبات
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ بارودی سرنگیں شمالی کوریا نے اپنی سرحد کو مضبوط کرنے کے لیے نصب کی تھیں۔ بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں، سیول نے شمالی کوریا سے اس واقعے پر معافی مانگنے اور سرحد کے ساتھ ایسی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی
جنوبی کوریا کے وزیر دفاع کانگ شن چول نے منگل کو کہا تھا کہ یہ دھماکے 1953 کے جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ اس معاہدے نے کوریا جنگ میں فعال لڑائی کو روکا تھا اور غیر فوجی علاقہ (DMZ) قائم کیا تھا۔
- 1953 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا دعویٰ۔
- غیر فوجی علاقہ (DMZ) کی وضاحت۔
- شمالی کوریا سے معافی اور سرگرمیوں کے خاتمے کا مطالبہ۔
غیر فوجی علاقے (DMZ) کی تاریخ
غیر فوجی علاقہ (DMZ) دونوں کوریا کے درمیان 4 کلومیٹر چوڑی پٹی ہے جو زمینی سرحد کی نشاندہی کرتی ہے۔ دہائیوں کے دوران، اس علاقے میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور بارودی سرنگوں کے دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ 2015 میں، دو جنوبی کوریائی فوجی بارودی سرنگوں کا شکار ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کا کردار
اقوام متحدہ کمانڈ (UNC)، جس نے دھماکوں کی تحقیقات میں جنوبی کوریائی فوج کے ساتھ حصہ لیا تھا، نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کو موجودہ طریقہ کار کے تحت حل کرے گا۔ UNC نے کوریا جزیرہ نما میں استحکام برقرار رکھنے اور کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔
- اقوام متحدہ کمانڈ تحقیقات میں شامل۔
- معاہدے کی خلاف ورزی کو طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔
- UNC نے استحکام برقرار رکھنے کا عزم کیا۔
کم یو جونگ کا 2015 کے واقعے کا حوالہ
کم یو جونگ نے بدھ کو اپنے بیان میں 2015 کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنوبی کوریا نے اسے کشیدگی بڑھانے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا تھا اور اب بھی وہی کر رہا ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا کہ وہ اپنے کیے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہے۔
نتیجہ
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی علاقے میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اور تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کا معافی کا مطالبہ اور شمالی کوریا کا اسے سازش قرار دینا خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی مداخلت کے باوجود، جزیرہ نما کوریا میں صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
یہ واقعہ حالیہ برسوں میں دونوں کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے۔ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال کے علاقائی امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
بارودی سرنگ کے دھماکے کب ہوئے؟
بارودی سرنگ کے دھماکے 21 ستمبر کو غیر فوجی علاقے (DMZ) میں ہوئے۔
کتنے فوجی زخمی ہوئے؟
تین جنوبی کوریائی فوجی اس واقعے میں زخمی ہوئے۔
شمالی کوریا کا اس واقعے پر کیا کہنا ہے؟
شمالی کوریا نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اسے جنوبی کوریا کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی سازش قرار دیا ہے۔
کیا یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے؟
جنوبی کوریا کے مطابق، یہ 1953 کے جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔


















