ایران کی معروف انسانی حقوق کی وکیل نسرین ستودہ کو 2026 کا واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام دیا گیا ہے۔ یہ انعام انہیں انسانی حقوق کے لیے ان کی طویل مدتی خدمات اور عظیم ذاتی خطرات کے باوجود جاری جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ستودہ، جو ایران کی ممتاز انسانی حقوق کی کارکنوں میں سے ایک ہیں، کو ان کی وکالت کے دوران بارہا گرفتار کیا گیا اور طویل قید کی سزا سنائی گئی۔
انسانی حقوق کے لیے نسرین ستودہ کی جدوجہد
- نسرین ستودہ ایران کی ایک سرکردہ انسانی حقوق کی کارکن ہیں جنہیں ان کی وکالت کے دوران بارہا گرفتار کیا گیا اور طویل قید کی سزا سنائی گئی۔
- انہوں نے ایران میں لازمی حجاب قوانین اور سزائے موت کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی ہے۔
- 2012 میں، انہیں یورپی پارلیمنٹ کے معتبر سخاروف انعام سے بھی نوازا گیا تھا، حالانکہ اس وقت وہ جیل میں تھیں اور ذاتی طور پر ایوارڈ وصول نہیں کر سکیں۔
- 2019 میں، انہیں 33 سال قید اور 148 کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی، جس کی ایک بڑی وجہ ان خواتین کا دفاع کرنا تھا جنہوں نے ایران کے لازمی حجاب قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام کی اہمیت اور پس منظر
واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام یورپ اور دیگر علاقوں میں انسانی حقوق کے دفاع میں نمایاں سول سوسائٹی کی کوششوں کو تسلیم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ انعام 60,000 یورو مالیت کا ہے اور اسے کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی (PACE) چارٹر 77 فاؤنڈیشن کے تعاون سے پیش کرتی ہے۔ یہ انعام ان افراد اور تنظیموں کو سراہتا ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس سال کے انعام کے لیے دیگر نامزدگیاں
اس سال کے واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام کے لیے نسرین ستودہ کے علاوہ دو دیگر قابل ذکر نامزدگیاں بھی شامل تھیں۔ یہ نامزدگیاں بھی انسانی حقوق کے شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔
- ایران-امریکی صحافی اور خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ماسیح علینژاد، جو ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
- ہنگری کی انسانی حقوق کی وکیل مارٹا پارداوی، جنہوں نے اپنے ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔
نسرین ستودہ کا انسانی حقوق کے لیے کردار
نسرین ستودہ خواتین کے حقوق، سیاسی قیدیوں کے حقوق کے تحفظ اور سزائے موت کے خاتمے کے لیے اپنی پرعزم جدوجہد کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد کارکنوں، صحافیوں، مذہبی اقلیتوں کے اراکین اور سزائے موت پانے والے افراد کی نمائندگی کی ہے، اکثر ریاستی جبر اور خطرات کے باوجود۔
قید کے دوران بھی جدوجہد جاری رکھی
نسرین ستودہ نے جیل میں قید کے دوران بھی انسانی حقوق کے لیے اپنی وکالت اور جدوجہد جاری رکھی۔ 2020 میں، انہوں نے تہران کی ایون جیل میں نظر بندی کے حالات اور وہاں موجود سیاسی قیدیوں کی ابتر صورتحال کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ اسی سال، وہ متبادل نوبل انعام (رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ) کے فاتحین میں شامل تھیں اور انہیں جیل میں ہی اس اہم ایوارڈ کے بارے میں علم ہوا۔
ایران میں خواتین کے حقوق کی ایک نمایاں آواز
ایران میں 2022 کی ملک گیر ‘خاتون، زندگی، آزادی’ احتجاجی تحریک کے دوران، نسرین ستودہ ایک بار پھر ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے ایک نمایاں اور بااثر آواز بن کر سامنے آئیں۔ ان کی آواز نے مظاہرین کی حمایت کی اور ان کے حقوق کی وکالت کی۔
بار بار گرفتاریاں اور رہائی کا سلسلہ
ان کی دہائیوں پر محیط وابستگی ریاستی پابندیوں اور جبر کے خلاف پائیدار مزاحمت کی علامت ہے۔ انہیں بار بار گرفتار کیا گیا اور طویل قید کی سزا سنائی گئی، جس میں اپریل 2026 کی گرفتاری بھی شامل تھی۔ تاہم، مئی 2026 میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جو ان کی مسلسل جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔
کونسل آف یورپ کا اعتراف اور ستائش
کونسل آف یورپ نے نسرین ستودہ کے انسانی حقوق کے لیے غیر متزلزل عزم اور ان کی جرات کو سراہا ہے۔ ان کی خدمات کو عظیم ذاتی خطرات کے باوجود جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ملک میں تبدیلی اور انصاف کی خواہاں ہیں۔
نتیجہ
نسرین ستودہ کو واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام 2026 سے نوازا جانا ایک اہم اور حوصلہ افزا واقعہ ہے۔ یہ انعام ان کی جرات، استقامت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی لازوال جدوجہد کا ایک مضبوط اعتراف ہے۔ ان کی خدمات دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے حقوق کے لیے لڑنے والے افراد کے لیے ایک الہام کا ذریعہ ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
نسرین ستودہ کو کون سا انعام دیا گیا ہے؟
انہیں 2026 کا واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام دیا گیا ہے۔
یہ انعام کس نے دیا ہے؟
یہ انعام کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی (PACE) نے چارٹر 77 فاؤنڈیشن کے تعاون سے دیا ہے۔
انعام کی رقم کتنی ہے؟
انعام کی مالیت 60,000 یورو ہے۔
نسرین ستودہ کس ملک سے تعلق رکھتی ہیں؟
وہ ایران سے تعلق رکھتی ہیں۔
نسرین ستودہ کو کون سا انعام دیا گیا ہے؟
انہیں 2026 کا واکلاو ہیول انسانی حقوق انعام دیا گیا ہے۔
یہ انعام کس نے دیا ہے؟
یہ انعام کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی (PACE) نے چارٹر 77 فاؤنڈیشن کے تعاون سے دیا ہے۔
انعام کی رقم کتنی ہے؟
انعام کی مالیت 60,000 یورو ہے۔
نسرین ستودہ کس ملک سے تعلق رکھتی ہیں؟
وہ ایران سے تعلق رکھتی ہیں۔






















