استنبول کی ایک عدالت نے مقبول ترک کامیڈین دینیز گوکتاش کو صدر رجب طیب ایردوان کی توہین کے جرم میں 19 ماہ قید کی سزا سنائی ہے، تاہم جیل میں گزارے گئے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں ملک سے باہر سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلہ اور سزا
استنبول کی ایک عدالت نے کامیڈین دینیز گوکتاش کو صدر رجب طیب ایردوان کی توہین کے الزام میں 19 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ تاہم، عدالت نے انہیں جیل میں گزارے گئے تقریباً 90 دن کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کورٹ میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
- کامیڈین دینیز گوکتاش پر صدر رجب طیب ایردوان کی توہین کا الزام تھا۔
- عدالت نے انہیں 19 ماہ قید کی سزا سنائی۔
- جیل میں گزارے گئے وقت کے باعث انہیں رہا کر دیا گیا۔
- ملک سے باہر سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
الزامات اور دفاع
استغاثہ نے گوکتاش کے خلاف 12 سال تک کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ایک اسٹینڈ اپ کامیڈی روٹین میں صدر ایردوان کو ‘شرمیلے آمر’ قرار دے کر ان کی توہین کی۔ گوکتاش نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ‘آمر’ کوئی توہین نہیں بلکہ ایک سیاسی تشریح ہے۔
کامیڈین کا موقف
دینیز گوکتاش نے عدالت میں اپنے دفاع میں کہا کہ ان کے تبصرے میں کوئی مجرمانہ عنصر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘آمر’ ایک سیاسی تجزیہ ہے، توہین نہیں۔ تاہم، ترکی میں صدر کو ناراض کرنا ایک سنگین معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
- گوکتاش نے صدر ایردوان کو ‘شرمیلے آمر’ کہا تھا۔
- استغاثہ نے 12 سال تک کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔
- کامیڈین نے اپنے تبصرے کو سیاسی تشریح قرار دیا۔
گرفتاری اور قید کا تجربہ
دینیز گوکتاش کو جولائی میں تعطیلات سے واپس آنے پر استنبول ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں بتایا کہ تنہائی میں 88 دن گزارنے کے باوجود انہوں نے اپنا حس مزاح برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی سے تین مہینے کم ہو گئے ہیں، لیکن انہوں نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے، لہذا وہ اپنی زندگی میں تین مہینے کا اضافہ کر لیں گے۔
- گوکتاش کو جولائی میں استنبول ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔
- وہ تقریباً 90 دن تک جیل میں رہے۔
- انہوں نے تنہائی کے دوران بھی حس مزاح برقرار رکھا۔
- سگریٹ نوشی چھوڑنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ طور پر کہا کہ وہ اپنی زندگی میں تین ماہ کا اضافہ کر لیں گے۔
رہائی اور حامیوں کا ردعمل
گوکتاش کو پیر کی رات 21:45 مقامی وقت پر رہا کیا گیا۔ انہیں جیل کے باہر ان کے والدین اور دوستوں سمیت دیگر حامیوں نے خوش آمدید کہا۔ ان کے ایک ساتھی کامیڈین فراٹ اکسال نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے بہت خوش ہیں اور انہیں منصفانہ ٹرائل کی امید نہیں تھی۔
آگے کا راستہ
گوکتاش نے رہائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان سے دوبارہ مل کر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکی کی جیلوں میں ہزاروں دیگر افراد قید ہیں جنہیں اپنے خیالات کی وجہ سے سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ سب جلد آزادی حاصل کریں گے۔
- گوکتاش کو پیر کی رات 21:45 پر رہا کیا گیا۔
- ان کے والدین اور دوستوں نے ان کا استقبال کیا۔
- ساتھی کامیڈین فراٹ اکسال نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔
- گوکتاش نے دیگر قیدیوں کی آزادی کی بھی امید ظاہر کی۔
ملک میں سیاسی صورتحال
دینیز گوکتاش کا کیس ترکی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، حکومت کے مخالفین کو دبانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ملک میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلباء اور دیگر افراد کو بھی ان کے خیالات کی وجہ سے قید کیا گیا ہے۔
دیگر قیدی
گوکتاش کی رہائی کے باوجود، ترکی میں بہت سے دیگر افراد اب بھی جیلوں میں ہیں۔ ان میں صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، طلباء، LGBTQ+ کارکن اور استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو جیسے سیاسی رہنما شامل ہیں۔
- گوکتاش کا کیس ملک میں سیاسی دباؤ کا حصہ ہے۔
- ترکی میں صحافیوں اور کارکنوں کو قید کیا جا رہا ہے۔
- استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو بھی زیر حراست ہیں۔
نتیجہ
دینیز گوکتاش کی رہائی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن یہ ترکی میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے جاری خدشات کو کم نہیں کرتی۔ ان کا کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صدر ایردوان کی حکومت مخالف آوازوں کو کس حد تک برداشت کرتی ہے۔
گوکتاش نے اپنی رہائی کے بعد دیگر قیدیوں کی آزادی کے لیے آواز اٹھا کر ایک اہم پیغام دیا ہے۔ ان کی واپسی اسٹیج پر ہوگی، لیکن ان کا یہ تجربہ انہیں معاشرے میں مزید فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کامیڈین دینیز گوکتاش پر کیا الزام تھا؟
دینیز گوکتاش پر صدر رجب طیب ایردوان کی توہین کا الزام تھا۔
انہیں کتنی سزا سنائی گئی؟
انہیں 19 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، لیکن جیل میں گزارے گئے وقت کے باعث رہا کر دیا گیا۔
کیا ان پر سفری پابندی ہے؟
جی ہاں، انہیں ملک سے باہر سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔
ان کے کیس کا اپیل کورٹ میں کیا ہوگا؟
اپیل کورٹ اس کیس میں حتمی فیصلہ کرے گی۔
گوکتاش نے اپنے بیان کو کیا کہا؟
گوکتاش نے اپنے بیان کو سیاسی تشریح قرار دیا اور کہا کہ یہ توہین نہیں تھی۔






















