نومبر میں جب عالمی رہنما کوپ 31 (COP31) کے لیے ترکیہ کے شہر انطالیہ میں جمع ہوں گے تو دنیا کے بیشتر لوگ یہ مذاکرات انہی صحافیوں کی نظر سے دیکھیں گے جو وہاں سے رپورٹنگ کریں گے۔ یہ کوریج کس معیار کی ہے اور کتنے محفوظ ماحول میں ہو رہی ہے، یہ سوال اب خود ایک خبر بن چکا ہے۔
ایک شعبہ جو اب ہر موضوع سے جڑا ہے
جون میں عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر یونیسکو اور یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم (OSCE) کے نمائندہ برائے آزادیِ صحافت نے صحافیوں کے لیے ایک عملی رہنما کتابچہ “Reporting the Environment: A Practical Manual for Journalists” جاری کیا۔ یونیسکو کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور آلودگی اب محض سائنسی خبریں نہیں رہیں۔ یہ موضوعات صحت، خوراک، پانی، رہائش، نقل مکانی، روزگار، سلامتی، ٹیکنالوجی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق عوامی بحث پر بھی تیزی سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔
یہ کتابچہ ان مسائل کا احاطہ کرتا ہے جن سے ماحولیاتی رپورٹر روزانہ دوچار ہوتے ہیں، جیسے غلط اور گمراہ کن معلومات، جھوٹا توازن، ڈیجیٹل سیکیورٹی، قانونی دھمکیاں، ذرائع کا تحفظ، حل پر مبنی رپورٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا اثر۔
یونیسکو کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے ابلاغ و اطلاعات ماریا گیبریل کہتی ہیں: “آج چیلنج صرف ماحولیاتی تبدیلی نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگوں کو اس تبدیلی کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی حاصل ہو۔”
رپورٹنگ کی قیمت
یونیسکو نے اپنی ورلڈ ٹرینڈز رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2009 سے 2023 کے دوران 89 ممالک میں ماحولیاتی موضوعات کی کوریج کرنے والے کم از کم 749 صحافیوں، میڈیا اداروں اور رپورٹنگ ٹیموں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل ہو چکے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق توانائی، زمین، کان کنی اور جنگلات کی کٹائی جیسے موضوعات پر خبروں میں اکثر طاقتور مفادات داؤ پر لگے ہوتے ہیں۔
OSCE کے نمائندہ برائے آزادیِ صحافت سفیر یان براتھو کے بقول: “جب ماحولیاتی صحافی آزادانہ اور محفوظ طریقے سے رپورٹنگ نہیں کر پاتے تو معاشرے جوابدہی کے اپنے اہم ترین ذرائع میں سے ایک سے محروم ہو جاتے ہیں۔”
یونیسکو نے خبردار بھی کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، گرین واشنگ اور گمراہ کن دعووں کے ذریعے پھیلنے والی ماحولیاتی غلط معلومات معاشرے میں بے اعتمادی کو جنم دے رہی ہیں۔
لوگ اب خبر کہاں سے لیتے ہیں
رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2026 کے مطابق پہلی بار عالمی سطح پر پلیٹ فارمز خبروں کے ذریعے کے طور پر ٹیلی وژن اور نیوز ویب سائٹس و ایپس، دونوں سے زیادہ مقبول ہو گئے ہیں۔ رپورٹ 2025 کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتی ہے، اور لوگوں کا ردِعمل “بے چینی، لاتعلقی اور بدگمانی” سے لے کر نئے ذرائع اور انداز کو اپنانے تک پھیلا ہوا ہے۔
لاتعلقی موسمیاتی رپورٹنگ کے لیے خاص طور پر بڑا خطرہ ہے۔ یونیسکو کا کتابچہ یہی سوال اٹھاتا ہے کہ نیوز روم ماحولیاتی بحرانوں کی رپورٹنگ اس طرح کیسے کریں کہ قارئین مغلوب اور بیزار نہ ہو جائیں۔ اس کا جواب شواہد، سیاق و سباق اور جوابدہی پر مبنی صحافت ہے۔
مل کر کام کرنے کی راہ
کچھ ادارے اس صورتحال کا مقابلہ مشترکہ کوششوں سے کر رہے ہیں۔ 2019 میں کولمبیا جرنلزم ریویو اور دی نیشن کی جانب سے قائم کیے گئے ادارے کورنگ کلائمیٹ ناؤ (Covering Climate Now) کا کہنا ہے کہ 60 ممالک میں اس کے 500 سے زائد نیوز اور میڈیا شراکت دار ہیں۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ جب تک نیوز ادارے اپنی موسمیاتی کوریج کو نمایاں طور پر بہتر نہیں کرتے، اس بحران سے نمٹنے کے لیے درکار عوامی شعور اور سیاسی عزم پیدا ہی نہیں ہو سکے گا۔ ادارہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس اشتراک کو جاری رکھنے کے لیے اسے اضافی فنڈنگ کی تلاش ہے۔
اس کے 2026 کے صحافتی ایوارڈز کے لیے 1,200 سے زائد انٹریز موصول ہوئیں، جن کا فیصلہ 30 سے زائد ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 120 صحافیوں کے پینل نے کیا۔ بڑے منصوبوں کے زمرے میں فاتحین میں 11 ممالک کے 14 نیوز رومز کا ایک مشترکہ منصوبہ بھی شامل تھا، جس کی قیادت انٹرنیوز کے ارتھ جرنلزم نیٹ ورک نے کی۔ اس منصوبے میں جائزہ لیا گیا کہ ایشیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کس طرح توانائی اور پانی استعمال کرتے ہیں، اور اکثر اس کی قیمت موسمیاتی لحاظ سے کمزور آبادیوں کو چکانی پڑتی ہے۔
انطالیہ کیوں اہم ہے
کوپ 31 کانفرنس 9 سے 20 نومبر تک انطالیہ ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگی۔ ترکیہ اس کی میزبانی کر رہا ہے اور کوپ کی صدارت بھی اسی کے پاس ہے، جبکہ آسٹریلیا مذاکرات کا صدر ہے۔ اس سے پہلے 5 سے 8 اکتوبر تک فجی میں پری کوپ اجلاس ہوگا۔
غریب ممالک کے صحافیوں کے لیے اکثر پہلی رکاوٹ مذاکرات تک پہنچنا ہی ہوتی ہے۔ ارتھ جرنلزم نیٹ ورک اور اسٹینلے سینٹر فار پیس اینڈ سیکیورٹی کی قیادت میں کام کرنے والی کلائمیٹ چینج میڈیا پارٹنرشپ کے مطابق وہ 2007 سے اب تک کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے 550 سے زائد صحافیوں کو اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات تک پہنچا چکی ہے۔ کوپ 31 کے لیے، جو اس پروگرام کا 19واں دور ہے، پہلی بار ان آزاد “کریئیٹر صحافیوں” کو بھی فیلوشپ کا اہل قرار دیا گیا جو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے موسمیاتی کوریج براہِ راست لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
وطن نیوز 26 ستمبر کو آئی ایف جے کے موسمیاتی رپورٹنگ کے مفت آن لائن کورس پر رپورٹ شائع کر چکا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کوپ 31 کب اور کہاں ہو رہی ہے؟
9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کے انطالیہ ایکسپو سینٹر میں۔ پری کوپ اجلاس 5 سے 8 اکتوبر تک فجی میں ہوگا۔
صحافی کوپ 31 کے لیے ایکریڈیٹیشن کیسے حاصل کرتے ہیں؟
میڈیا ایکریڈیٹیشن اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے یو این ایف سی سی سی (UNFCCC) کے آن لائن رجسٹریشن سسٹم کے ذریعے ہوتی ہے۔
کیا صحافی اب بھی کوپ 31 میڈیا فیلوشپ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں؟
نہیں۔ کلائمیٹ چینج میڈیا پارٹنرشپ کی کوپ 31 فیلوشپ کے لیے درخواستیں 17 جون 2026 کو بند ہو گئی تھیں، اور منتظمین کے مطابق فیصلوں سے ستمبر کے اوائل میں آگاہ کیا جانا تھا۔
ذرائع
- یونیسکو، “New UNESCO and OSCE RFoM manual strengthens environmental journalism amid rising disinformation”: https://www.unesco.org/en/articles/new-unesco-and-osce-rfom-manual-strengthens-environmental-journalism-amid-rising-disinformation
- رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم، ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2026: https://reutersinstitute.politics.ox.ac.uk/digital-news-report/2026
- کورنگ کلائمیٹ ناؤ، About: https://coveringclimatenow.org/about/
- کورنگ کلائمیٹ ناؤ، The 2026 Covering Climate Now Journalism Awards: https://coveringclimatenow.org/projects/the-2026-ccnow-journalism-awards/
- ارتھ جرنلزم نیٹ ورک، COP31 Climate Change Media Partnership Reporting Fellowship for Journalists: https://earthjournalism.net/opportunities/cop31-climate-change-media-partnership-reporting-fellowship-for-journalists

















