ایران نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کے وفد کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی تھی۔ یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایران کا موقف
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، تہران میں ایک نامعلوم ذریعے نے بتایا کہ ‘نیویارک میں ایرانی وفد کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔’ یہ بیان امریکی صدر کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ وہ جلد ہی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔
- ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اپنے موقف کو واضح کر دیا ہے۔
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی بحالی کی توقع ظاہر کی تھی۔
- ایران کا کہنا ہے کہ اس کے خیالات اور پوزیشنز قطری ثالث کے ذریعے امریکہ کو واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔
- ایرانی وفد منگل کو تہران واپس لوٹے گا۔
ہرمز آبنائے کی بندش اور شرائط
ایران نے سات شرائط پیش کی ہیں جن کے تحت وہ جنگ کے خاتمے اور ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھولنے پر غور کر سکتا ہے۔ یہ آبنائے ایک اہم بحری راستہ ہے جس سے پہلے جنگ کے دوران دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کا بہاؤ ہوتا تھا۔
- سات دن کی جنگ بندی، بشمول لبنان۔
- ایران کے غیر ملکی اثاثوں کو آزاد کرنا۔
- ایران کے تیل کے شعبے پر عائد پابندیاں ختم کرنا۔
- امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ۔
قطری ثالثی میں مذاکرات
اطلاعات کے مطابق، قطر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات آج ہی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی نمائندوں اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان اسی طرح کی بات چیت کے چند دن بعد یہ پیش رفت ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل اور دیگر پیش رفت
صدر ٹرمپ نے ہفتہ کو ایران کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ پیر کو ایندھن کی معیشت کے بارے میں نئے اقدامات کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
- ٹرمپ نے ایران کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
- نئے ایندھن کی معیشت کے اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔
- ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں جنگ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
امریکی سیاست میں دیگر اہم واقعات
امریکی سیاست میں دیگر اہم واقعات میں ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، ٹیکساس کے ایک ریپبلکن کی جانب سے عوامی پھانسی کا مطالبہ، اور بین الاقوامی بچوں کے اغوا کے معاملات پر ویزا پابندیوں کا اعلان شامل ہے۔
مارجری ٹیلر گرین کا بیان
مارجری ٹیلر گرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مشتبہ تارکین وطن کا قافلہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ریپبلکن پارٹی کا منصوبہ ہے۔
- ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے استعفیٰ دے دیا۔
- ٹیکساس کے ریپبلکن نے عوامی پھانسی کا مطالبہ کیا۔
- بین الاقوامی بچوں کے اغوا پر ویزا پابندیاں عائد۔
- مارجری ٹیلر گرین کا تارکین وطن کے قافلے پر بیان۔
نتیجہ
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔ ایران نے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں، جبکہ امریکہ نے ان کو مسترد کر دیا ہے۔ قطری ثالثی کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کے لچکدار رویے پر ہوگا۔
ہرمز آبنائے کی بندش خطے میں تیل کی رسد اور عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط، جن میں جنگ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے، ان کے حل کے لیے اہم ہیں۔ تاہم، امریکی صدر کے سخت موقف کے باعث فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع کم ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں؟
ایران کا کہنا ہے کہ اس کے وفد کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، حالانکہ امریکی صدر نے مذاکرات کی بحالی کی توقع ظاہر کی ہے۔
ہرمز آبنائے کی کیا اہمیت ہے؟
ہرمز آبنائے ایک اہم بحری راستہ ہے جس سے پہلے جنگ کے دوران دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کا بہاؤ ہوتا تھا۔
ایران نے امریکہ کے لیے کیا شرائط رکھی ہیں؟
ایران نے سات شرائط رکھی ہیں جن میں سات دن کی جنگ بندی، غیر ملکی اثاثوں کی آزادی، تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
کیا قطر مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے؟
جی ہاں، اطلاعات کے مطابق قطر دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔
امریکی سیاست میں حالیہ دیگر اہم واقعات کیا ہیں؟
دیگر اہم واقعات میں ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، اور بین الاقوامی بچوں کے اغوا کے معاملات پر ویزا پابندیوں کا اعلان شامل ہے۔






















