عالمی سمندروں نے گزشتہ سال ریکارڈ توڑ گرمی جذب کی ہے، جو انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنے، سطح بلند ہونے اور زندگی کے لیے کم سازگار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سمندروں میں حرارت کا اضافہ
گزشتہ سال 23 زیٹا جولز (zettajoules) گرمی سمندروں میں جذب ہوئی، جو کہ انسانیت کے اس سال کے کل توانائی کے استعمال سے تقریبا 40 گنا زیادہ ہے۔ یہ حرارت کا یہ بے پناہ اضافہ زمین پر زندگی کے لیے بنیادی طور پر اہم سمندری پانی میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کے باعث ہوا ہے۔
- 23 زیٹا جولز گرمی گزشتہ سال سمندروں میں جذب ہوئی۔
- یہ مقدار انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے 40 گنا زیادہ ہے۔
- سمندروں کا درجہ حرارت، سطح اور زندگی کے لیے سازگاری متاثر ہوئی۔
- یہ انکشاف مرکیٹر اوقیانوس انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
سمندر کی سطح میں اضافہ اور تیزابیت
کوپرنیکس اوقیانوس اسٹیٹ رپورٹ کے مطابق، 1999 سے اب تک سمندر کی سطح میں سالانہ اوسطاً 3.8 ملی میٹر کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2012 سے 2025 کے درمیان یہ شرح بڑھ کر 4.2 ملی میٹر سالانہ ہو گئی ہے۔ گزشتہ 40 سال میں عالمی سمندر 17 فیصد زیادہ تیزابی ہو گیا ہے۔
- 1999 سے سمندر کی سطح میں سالانہ 3.8 ملی میٹر کا اضافہ۔
- 2012-2025 کے دوران شرح بڑھ کر 4.2 ملی میٹر سالانہ ہوئی۔
- گزشتہ 40 سال میں سمندر 17 فیصد زیادہ تیزابی ہوا۔
- یہ تبدیلیاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نتیجہ ہیں۔
سمندروں کی حالت پر ماحولیاتی اثرات
مرکیٹر اوقیانوس انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر جنرل پیئر بہاریل نے کہا کہ “سمندر ہماری آنکھوں کے سامنے تبدیل ہو رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “سمندر کا گرم ہونا، سطح کا بلند ہونا اور ماحولیاتی نظام کا انحطاط اہم اور طویل مدتی تبدیلیوں کی علامات ہیں۔”
یورپ میں سمندری لہریں
یورپ، جو عالمی اوسط سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، بحیرہ روم اور بحیرہ اسود میں ریکارڈ توڑ سمندری لہروں کا شکار رہا ہے۔ ان سمندروں میں بلند درجہ حرارت سطح کے گہرے نیچے تک برقرار رہا اور بعض اوقات ایک مہینے سے زیادہ وقت تک جاری رہا۔
- یورپ عالمی اوسط سے دوگنی تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔
- بحیرہ روم اور بحیرہ اسود میں ریکارڈ سمندری لہریں دیکھی گئیں۔
- بلند درجہ حرارت گہرے سمندر میں بھی محسوس کیا گیا۔
- بعض لہریں ایک مہینے سے زائد عرصے تک جاری رہیں۔
سمندروں میں گرمی کے اثرات
بحیرہ روم میں سمندر کی سطح میں اضافے میں واضح تیزی دیکھی گئی ہے، حالانکہ مشرقی حصے میں یہ اضافہ غیر متوازن رہا۔ رپورٹ کے مطابق، بحیرہ روم کا پورا علاقہ فی دہائی 0.32C کے حساب سے گرم ہوا ہے، جس سے سمندری لہروں میں اضافہ ہوا ہے۔
زیٹا جولز کی وضاحت
جول (Joule) حرارت کی پیمائش کا وہ یونٹ ہے جو ایک واٹ کے آلے کو ایک سیکنڈ کے لیے چلانے کے لیے درکار بجلی کی مقدار کے برابر ہے۔ ایک زیٹا جول ایک ارب ٹریلین جول کے برابر ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی یورپ شدید گرمی کی لہروں اور جنگلات کی آگ کے بعد غیر معمولی طور پر گرم ستمبر کا تجربہ کر رہا ہے۔
سمندری گرمی اور زمینی درجہ حرارت
اینجل بورجا، جو ایک سمندری ماہر ماحولیات ہیں، نے کہا کہ ان اثرات کو کئی سالوں سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ یقینی طور پر بڑھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے معاشرہ کم اہمیت دیتا ہے۔” گرم ساحلی پانی رات کے دوران حرارت کا اضافہ کرتے ہیں، جس سے زمینی درجہ حرارت کو کم ہونے سے روکا جاتا ہے۔
نتیجہ
عالمی سمندروں میں ریکارڈ گرمی کا جذب ہونا ایک تشویشناک رجحان ہے جو زمین کے ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ، سمندری تیزابیت میں بڑھوتری، اور سمندری لہروں میں شدت جیسے عوامل نہ صرف سمندری حیات کے لیے بلکہ انسانی معاشروں کے لیے بھی خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ صورتحال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور پائیدار توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو انتباہات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور سمندروں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ سمندر زمین کی آب و ہوا کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی صحت کا براہ راست تعلق انسانی بقا سے ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سمندروں میں ریکارڈ گرمی کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ سمندروں نے گزشتہ سال انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے 40 گنا زیادہ حرارت جذب کی، جس سے ان کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔
سمندر کی سطح میں اضافے کی کیا وجہ ہے؟
سمندر کی سطح میں اضافہ بنیادی طور پر سمندر کے پانی کے گرم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے (توسیع کی وجہ سے) اور گلیشیئرز اور برف کی چادروں کے پگھلنے سے ہوتا ہے۔
سمندری تیزابیت میں اضافے کے کیا اثرات ہیں؟
سمندری تیزابیت میں اضافہ سمندری حیات، خاص طور پر سیپ والے جانوروں اور مرجان کی چٹانوں کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ ان کے خول اور کنکال کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔
کیا یہ صورتحال انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہے؟
جی ہاں، سمندروں میں ریکارڈ گرمی سمندری ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتی ہے، ماہی گیری کو متاثر کر سکتی ہے، اور سمندر کی سطح میں اضافے سے ساحلی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے اور سمندروں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معاہدوں پر زور دیا جا رہا ہے۔

















