اسلام آباد — وزارت اطلاعات و نشریات نے انگور اڈہ سرحدی واقعے پر افغان وزارت دفاع کے بیان کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا ہے۔ وزارت کے مطابق حقائق اس کے برعکس ہیں جو افغان جانب سے پیش کیے گئے، اور فائرنگ کا آغاز افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی حدود میں موجود غیر مسلح شہریوں پر ہوا۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان بیانیہ گمراہ کن ہے اور اسے مسترد کیا جاتا ہے۔
اہم نکات
- وزارت اطلاعات و نشریات نے انگور اڈہ واقعے پر افغان وزارت دفاع کے بیان کو من گھڑت قرار دیا۔
- وزارت کے مطابق افغان فورسز نے پاکستانی جانب شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولے برسائے۔
- واقعے میں ایک شہری جاں بحق ہوا جبکہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔
- وزارت کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا اور افغان جانب کی سات چوکیاں تباہ کر دیں۔
- افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی جانب سے ڈرون حملے کیے گئے، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا
رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ منگل کی رات زیریں جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پیش آیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق سرحد پار سے کی گئی فائرنگ اور مارٹر گولہ باری کی زد میں ایک مکان اور بازار کا علاقہ آیا، جس سے ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے اس واقعے پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے بغیر کسی اشتعال کے ڈرون کے ذریعے انگور اڈہ بازار اور صوبہ پکتیکا میں کمشنر کے دفتر کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں افغان فورسز نے پاکستانی فوجی اڈے پر جوابی کارروائی کی۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فورسز نے ہی پہلے پاکستانی جانب شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ شروع کی۔
پاکستان کا جواب اور سرکاری موقف
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں افغان جانب کی سات چوکیاں تباہ ہوئیں اور افغان فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی یہ کارروائی ان کے پراکسی سرپرستوں کی ہدایات پر مبنی طریقہ کار کا تسلسل تھی۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ سچ جھوٹ پر غالب آتا ہے اور حقائق کو مسخ کر کے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

خیبر پختونخوا کے گورنر نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی خودمختاری کا دفاع پوری قوت سے کرے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحد پر تعینات پاکستانی دستے ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی مزید جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
انگور اڈہ کی اہمیت اور سرحدی صورتحال
انگور اڈہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ اور تجارتی راستہ ہے، جہاں سے عام آمد و رفت اور تجارت ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا اثر براہ راست مقامی آبادی، تاجروں اور سرحد پار آنے جانے والوں پر پڑتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس سرحدی پٹی پر وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جن کی بنیادی وجوہات میں سرحدی انتظام اور انسداد دہشت گردی سے متعلق اختلافات شامل ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی حفاظت سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے، اور دونوں جانب سے ذمہ دارانہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ سرحدی امن کے لیے مؤثر رابطہ کاری بھی ناگزیر ہے۔ وطن نیوز کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔































