آسٹریلیا نے قابل تجدید توانائی کے میدان میں اپنی ہی سرمایہ کاری کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ آسٹریلیا قابل تجدید توانائی سرمایہ کاری ریکارڈ 2026 کے پہلے نو مہینوں میں قائم ہوا، جب پانچ گیگا واٹ سے زیادہ کے بڑے پیمانے پر شمسی اور ہوا سے چلنے والی توانائی کے منصوبوں نے حتمی سرمایہ کاری کا فیصلہ حاصل کر لیا ہے، جو کسی بھی مکمل سال کے پچھلے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ آسٹریلیا کے کلین انرجی ریگولیٹر نے 14 اکتوبر کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار میں اس تاریخی پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی توانائی میں تبدیلی اب حقیقی رفتار پکڑ چکی ہے۔
آسٹریلیا قابل تجدید توانائی سرمایہ کاری ریکارڈ: شمسی اور ہوا کے اعداد و شمار کی کہانی
کلین انرجی ریگولیٹر کے مطابق یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 تک 5,358 میگا واٹ کے یوٹیلٹی پیمانے کے ہوا اور شمسی منصوبے حتمی سرمایہ کاری کے مرحلے پر پہنچے۔ اس سے پہلے ایک مکمل سال کا سب سے بڑا اعداد 2018 میں 4,884 میگا واٹ تھا، جبکہ 2025 میں یہ صرف 2,124 میگا واٹ تھا۔
صرف ستمبر کی سہ ماہی میں 2.1 گیگا واٹ کے منصوبوں نے یہ فیصلہ حاصل کیا، جو اب تک کی مضبوط ترین سہ ماہیوں میں سے ایک ہے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کرس بووین کے مطابق یہ بجلی تقریباً 12 لاکھ گھروں کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سہ ماہی میں ہوا کی توانائی 1.1 گیگا واٹ رہی جو اب تک کی سب سے بڑی سہ ماہی ہے، جبکہ شمسی توانائی 1.0 گیگا واٹ رہی، اس سے پہلے سال کی دوسری سہ ماہی میں شمسی توانائی نے 2 گیگا واٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
شمسی توانائی اب تک 3.5 گیگا واٹ پر ہے، جو پچھلے سالانہ شمسی ریکارڈ سے تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ حکومت کے مطابق 2022 میں موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک بڑے پیمانے کے منصوبوں میں تقریباً 17 گیگا واٹ کے حتمی سرمایہ کاری کے فیصلے ہو چکے ہیں۔
اس تیزی کی وجوہات کیا ہیں؟
حکومتی امدادی اسکیمیں منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ وفاقی صلاحیت سرمایہ کاری اسکیم کے تحت ٹینڈر 8 میں جون میں 4.2 گیگا واٹ / 16.1 گیگا واٹ گھنٹے کے بیٹری اسٹوریج کے منصوبے دیے گئے۔ ٹینڈر 9، جو بجلی کی پیداوار کے لیے ہے، 5 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کے منصوبے تلاش کر رہا ہے اور اس کے نتائج نومبر میں متوقع ہیں۔
15 اکتوبر کو آسٹریلین رینیویبل انرجی ایجنسی (ارینا) نے اپنے سولر سن شاٹ پروگرام کا تیسرا دور کھولا، جس میں بڑے پیمانے کے شمسی پلانٹس کے آلات کی مقامی تیاری کے لیے 250 ملین آسٹریلین ڈالر (تقریباً 175 ملین امریکی ڈالر) مختص کیے گئے ہیں۔
ستمبر کی سہ ماہی میں جن منصوبوں کے نام سامنے آئے ان میں فور سائٹ گروپ کا مغربی آسٹریلیا میں 130 میگا واٹ کا کونڈینن ونڈ فارم کا پہلا مرحلہ، ایٹموس رینیویبلز کا 470 میگا واٹ کا پیرون مام مارنگ ونڈ فارم، اور کوپن ہیگن انفرا اسٹرکچر پارٹنرز کی جانب سے کوئنزلینڈ میں 408 میگا واٹ کے گوارا بایا ونڈ فارم اور متعلقہ بیٹری کی خریداری شامل ہے، جس سے اس منصوبے کو مالی بندش حاصل ہوئی۔ اسکواڈرن انرجی اور ونڈ لیب کا بنگابان ونڈ فارم بھی اس سنگ میل پر پہنچا۔
بجلی کا نظام اور چھتوں پر شمسی توانائی بھی بڑھ رہی ہے
یہ سرمایہ کاری کے فیصلے بجلی کے نظام میں بڑھتی ہوئی پائپ لائن کو مضبوط کر رہے ہیں۔ نیشنل الیکٹریسٹی مارکیٹ چلانے والے آسٹریلین انرجی مارکیٹ آپریٹر نے مالی سال 2026 میں 9.1 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی اور اسٹوریج کو بجلی کے نظام سے جوڑا، جو ایک ریکارڈ ہے، جبکہ منسلک منصوبوں کی پائپ لائن 53 گیگا واٹ سے بڑھ کر 75.4 گیگا واٹ ہو گئی۔
چھوٹے پیمانے کی مارکیٹ بھی بڑھ رہی ہے: حکومت کے مطابق تیسری سہ ماہی میں 894 میگا واٹ چھتوں کی شمسی توانائی نصب ہوئی اور اس سال اب تک 2.8 گیگا واٹ، جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے سے 45 فیصد زیادہ ہے۔ سستے گھریلو بیٹری پروگرام کے تحت منظور شدہ گھریلو بیٹری کی صلاحیت ستمبر کے آخر تک 15.3 گیگا واٹ گھنٹے پر پہنچ گئی، جو 2025 کے آخر میں 5 گیگا واٹ گھنٹے تھی۔
اہم نکات
اہم نکات
- 5,358 میگا واٹ یوٹیلٹی پیمانے کی ہوا اور شمسی توانائی جنوری سے ستمبر 2026 تک حتمی سرمایہ کاری کے مرحلے پر پہنچی — کسی بھی مکمل سال کے ریکارڈ سے زیادہ (ماخذ: کلین انرجی ریگولیٹر)۔
- اس میں 3.5 گیگا واٹ شمسی توانائی ہے، جو پچھلے سالانہ شمسی ریکارڈ سے تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔
- صرف ستمبر کی سہ ماہی میں 2.1 گیگا واٹ منصوبوں نے یہ مرحلہ طے کیا، جو اب تک کی مضبوط ترین سہ ماہیوں میں سے ایک ہے۔
- آسٹریلیا کے قانونی اہداف میں 2030 تک 82 فیصد قابل تجدید بجلی اور 2005 کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 43 فیصد کمی شامل ہے۔
- کلین انرجی فنانس کارپوریشن کے سابق سربراہ کے مطابق ان اہداف کے لیے 2030 تک تقریباً 29 گیگا واٹ بڑے پیمانے کی قابل تجدید توانائی درکار ہوگی۔
موسمیات کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
حتمی سرمایہ کاری کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ رقم مختص ہو چکی ہے — منصوبہ تعمیر اور بجلی کے نظام سے جڑنے کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ آسٹریلیا، جو دنیا کے بڑے فوسل ایندھن کے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، نے 2030 تک 82 فیصد قابل تجدید بجلی اور 2005 کے مقابلے میں 43 فیصد اخراج میں کمی کے قانونی اہداف طے کر رکھے ہیں۔ آزاد تجزیوں کے مطابق موجودہ سرمایہ کاری کی رفتار حوصلہ افزا تو ہے، لیکن منصوبوں کی تعمیر اور رابطے میں لگنے والے وقت کو دیکھتے ہوئے اسے برقرار رکھنا اور تیز کرنا ہوگا۔
وزیر نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ مہینے قومی بجلی کے نظام میں قابل تجدید توانائی نے فوسل ایندھن سے زیادہ بجلی پیدا کی — یہ ایک ایسے ملک کے لیے علامتی سنگ میل ہے جو طویل عرصے سے کوئلے پر انحصار کرتا آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں آسٹریلیا کی قابل تجدید توانائی کے معاہدوں کے بارے میں مزید جانیں: ایٹموس رینیویبلز کی بائیوا سے تقریباً ایک گیگا واٹ کے شمسی اور ہوا کے منصوبوں کی خریداری۔























