برقی فیریاں دنیا کے مصروف ترین چھوٹے سمندری سفری نظاموں میں سے ایک کی صورت بدل سکتی ہیں: بین الاقوامی بحری تنظیم آئی ایم او کے ایک نئے مطالعے کے مطابق ترکیہ کی بحیرۂ مرمرہ میں چلنے والی فیریوں کا نظام ہائبرڈ اور مکمل برقی جہازوں کی طرف منتقل ہو کر 2050 تک اپنی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 63 فیصد کمی کر سکتا ہے۔ مطالعے میں کہا گیا ہے کہ برقی عمل کی راہ میں کوئی بڑی تکنیکی رکاوٹ نہیں ہے، اور اس تبدیلی سے تقریباً نصف ارب یورو کے صحت و ماحول کے نقصانات بھی بچائے جا سکتے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً 1100 روزگار بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
مطالعے میں کیا جائزہ لیا گیا
یہ مطالعہ ترکیہ کی وزارت نقل و حمل و انفراسٹرکچر کی پہل پر آئی ایم او کے گرین وائیج 2050 پروگرام کے تعاون سے کیا گیا۔ اس میں بحیرۂ مرمرہ کی 26 بندرگاہوں پر چلنے والی 67 رول آن رول آف اور رول آن رول آف مسافر فیریوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ نظام ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ مسافروں اور ستر لاکھ گاڑیوں کو سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
محققین کو معلوم ہوا کہ تمام جائزے میں شامل رول آن رول آف اور رول آن رول آف مسافر فیریوں کے لیے بیٹری سے چلنے والی برقی اور ہائبرڈ مشینری تکنیکی طور پر ممکن ہے۔ مطالعے میں ہائبرڈ اور مکمل برقی جہازوں کے امتزاج کو اخراج میں کمی اور اخراجات کے درمیان بہترین منصوبہ قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت ڈیزل کے موجودہ استعمال کے مقابلے میں 2050 تک سالانہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً 63 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔
برقی فیریاں: بہترین منصوبہ
مطالعے کے مطابق پورے نظام کو مکمل برقی جہازوں میں بدلنے سے 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 84 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ اگر ترکیہ کا بجلی کا نظام 2053 کے خالص صفر اخراج کے ہدف کے مطابق ماحول دوست بن جائے تو یہ کمی 95 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برقی فیریوں کا ماحولیاتی فائدہ صرف جہازوں پر نہیں بلکہ انہیں چلانے والی بجلی کے ذرائع پر بھی منحصر ہے۔
اس تبدیلی سے مقامی فضائی آلودگی بھی کم ہو گی اور صحت و ماحول کے نقصانات کی مد میں مجموعی طور پر تقریباً 492 ملین یورو کے اخراجات بچائے جا سکتے ہیں۔ بہترین ہائبرڈ برقی منصوبے کے تحت درکار سرمایہ کاری سے 2050 تک ہر سال اوسطاً تقریباً 1100 روزگار پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں جہاز سازی اور پرانے جہازوں کی اصلاح کے کام شامل ہیں۔ یہ تمام کام زیادہ تر ترک جہاز ساز کارخانوں میں ہوں گے۔ فیریوں کی بجلی کاری ترکیہ کی جہاز سازی کی مضبوط روایت سے فائدہ اٹھائے گی، صاف ٹیکنالوجی کی صنعتوں کو فروغ دے گی اور درآمد شدہ بحری ایندھن پر انحصار کم کرے گی۔
مطالعے کے مطابق بڑے پیمانے پر اس تبدیلی کی راہ میں اصل چیلنج جہاز خود نہیں بلکہ ساحلوں پر چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ، ابتدائی سرمایہ کاری، مربوط توانائی کی منصوبہ بندی اور ملک کا انتظامی و قانونی نظام ہیں۔
آگے کا راستہ: چارجنگ، تجرباتی منصوبے اور پالیسی
ان نتائج کو عملی شکل دینے کے لیے مطالعے میں حکومت، بلدیاتی اداروں، بندرگاہوں، فیری چلانے والی کمپنیوں اور توانائی کے شعبے کے مشترکہ اقدام کی سفارش کی گئی ہے۔ ترجیحی اقدامات میں بندرگاہوں پر ساحلی چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ اور ہائی وولٹیج گرڈ کے رابطے بڑھانا، بندرگاہوں کو کم کاربن بجلی کی فراہمی یقینی بنانا، ہدفی مالی ترغیبات اور اخراج کی بنیاد پر بندرگاہی فیسیں متعارف کرانا، بجلی کاری کو نقل و حمل اور توانائی کی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا، سرکاری فیریوں کی خرید میں ماحولیاتی معیارات شامل کرنا، اور تفصیلی جائزوں اور تجرباتی منصوبوں کی حمایت کرنا شامل ہیں۔
ترکیہ کی وزارت نقل و حمل و انفراسٹرکچر اب بحیرۂ مرمرہ میں پہلا تجرباتی بجلی کاری منصوبہ آگے بڑھانا چاہتی ہے تاکہ مطالعے میں بتائے گئے تکنیکی، ماحولیاتی اور تجارتی فوائد کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔
دنیا بھر میں برقی فیریوں کی لہر
بحیرۂ مرمرہ کا مطالعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیٹری سے چلنے والی فیریاں تجربات سے نکل کر دنیا بھر میں معمول کے نظام کا حصہ بن رہی ہیں۔ 16 اکتوبر 2026 کو بحری جریدے میرین لاگ نے اطلاع دی کہ ایسٹونیا کی پہلی مکمل برقی فیری پولینڈ کے کرسٹ ایس اے کارخانے میں بنائی جائے گی: 95 میٹر لمبا یہ جہاز 3 میگا واٹ گھنٹے کی بیٹری سے چلے گا، وِرتسو سے کوئواستو کے راستے پر 380 مسافروں اور 110 مسافر گاڑیوں کو سفر کرائے گا، اور 2028 کے آخر میں چلنا شروع کر دے گا۔ امریکہ کی ریاست لوزیانا کے محکمۂ نقل و حمل و ترقی نے 14 اکتوبر 2026 کو ہائبرڈ برقی فیری ہولی بیچ کی رونمائی کی، جو 49.7 ملین ڈالر کے دو جہازوں کے منصوبے کا پہلا جہاز ہے اور 1964 میں بنی ایک فیری کی جگہ لے گا؛ بحری ذرائع کے مطابق دسمبر 2026 میں اس کا باقاعدہ آپریشن شروع ہو جائے گا۔ اسی طرح ٹورنٹو اپنے پرانے فیری نظام کو برقی جہازوں سے بدلنے کے پروگرام پر آگے بڑھ رہا ہے، جس کا پہلا جہاز 2026 کے آخر میں ملنے کی توقع ہے۔
یہ تمام منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ مختصر سمندری راستوں کی بجلی کاری، یعنی سمندر، آبنائے اور دریاؤں کے پار لوگوں اور سامان کی ماحول دوست نقل و حمل، تیزی سے پھیل رہی ہے۔ صاف نقل و حمل اور موسمیاتی حلول کی مزید خبروں کے لیے اردو میں وطن نیوز ملاحظہ کریں۔
اہم نکات
- 63 فیصد — ڈیزل کے موجودہ استعمال کے مقابلے میں 2050 تک بحیرۂ مرمرہ کے فیری نظام کے اخراج میں بہترین ہائبرڈ برقی منصوبے کے تحت متوقع کمی۔
- 67 — 26 بندرگاہوں پر چلنے والی رول آن رول آف اور رول آن رول آف مسافر فیریاں جن کا جائزہ لیا گیا؛ یہ نظام سالانہ تقریباً ڈھائی کروڑ مسافروں اور ستر لاکھ گاڑیوں کو سفر کراتا ہے۔
- 492 ملین یورو — صحت و ماحول کے نقصانات کی مد میں بچائے جا سکنے والے تخمینی مجموعی اخراجات۔
- 1100 — 2050 تک ہر سال پیدا ہونے والے متوقع روزگار، جن میں زیادہ تر ترک جہاز ساز کارخانوں میں ہوں گے۔
- 95 فیصد — مکمل برقی نظام کے ساتھ اخراج میں ممکنہ کمی اگر ترکیہ کا بجلی کا نظام 2053 کے خالص صفر اخراج کے ہدف کے مطابق ماحول دوست بن جائے۔
نتیجہ
آئی ایم او کا مطالعہ برقی فیریوں کے حق میں ٹھوس اعداد پیش کرتا ہے: اخراج میں نمایاں کمی، صاف ہوا، کروڑوں یورو کے بچائے گئے نقصانات اور ہر سال ہزار سے زائد روزگار۔ مطالعے کے مطابق ٹیکنالوجی تیار ہے — اب اصل کام چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے، مالی وسائل اور مربوط منصوبہ بندی کا ہے۔ اگر بحیرۂ مرمرہ کا پہلا تجرباتی منصوبہ ماڈل کے مطابق نتائج دے تو دنیا بھر کے فیری چلانے والوں کو سمندر کے پار ماحول دوست سفر کا ایک عملی نمونہ مل جائے گا۔























