کراچی — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بغیر صوبوں سے متعلق کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ ان کے بقول وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بخوبی جانتے ہیں کہ صوبوں کے متعلق صدر اور پیپلز پارٹی کا کیا موقف ہے، اور یہ موقف واضح ہے کہ صوبوں سے جڑے تمام فیصلے آئینی اور قانونی راستے سے ہی ہوں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے ماضی میں ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقے سے ہی ایمرجنسی کے فیصلے کیے، اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں بھی یہی اصول برقرار رہے گا۔
اہم نکات
- بلاول بھٹو زرداری: صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بغیر صوبوں سے متعلق کوئی کام نہیں ہوسکتا۔
- پیپلز پارٹی کا موقف: نئے صوبے صرف آئینی اور قانونی طریقے سے بنائے جاسکتے ہیں۔
- جہاں صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے موجود ہے، وہاں پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی — چیئرمین پی پی پی کا سوال۔
- گلگت بلتستان میں گھر گھر یہ مطالبہ موجود ہے کہ اسے صوبے کا درجہ دیا جائے۔
- دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق ہو جائے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج ختم ہوسکتا ہے۔
- سانحہ کارساز کی انیسویں برسی پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
بلاول بھٹو کا بیان: صدر کے دستخط اور صوبوں کا معاملہ
بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبوں سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے صدر مملکت کے دستخط ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ صوبوں کے معاملے پر صدر آصف زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا فیصلہ صاف ہے کہ آئینی اور قانونی طریقے سے صوبے بن سکتے ہیں۔ ان کے بقول اگر نئے صوبوں کے قیام کو محض سیاسی شوشا نہیں سمجھا جاتا تو جہاں اتفاق رائے موجود ہے، وہاں صوبوں کے قیام کی راہ میں رکاوٹ کیوں ڈالی جارہی ہے۔

نئے صوبے اور گلگت بلتستان کا مطالبہ
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں گھر گھر یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اسے صوبے کا درجہ دیا جائے۔ ان کے بقول وہاں صوبے کے قیام پر اتفاق رائے موجود ہے، اس کے باوجود اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جارہا۔
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ آئین کی روشنی میں طے ہونا چاہیے، اور پیپلز پارٹی اس اصول پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی اپیل
میڈیا سے گفتگو کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی انیسویں برسی کے موقع پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر سے خضدار تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا جارہا ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پورے معاشرے کو متحد ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو جائے اور اس پر عمل درآمد کے لیے تیار ہو تو خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کی جاسکتی ہے۔ ان کے بقول اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی گئی ہے تاکہ جمہوری نظام میں بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔
چیئرمین پی پی پی نے مزید کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے کسی کو قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔



























