اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ اور حکومت سے مذاکرات کی ناکامی پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی کے ایک رہنما نے مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کو لانگ مارچ کے منصوبے سے لاعلم رکھا گیا تھا۔
اہم نکات
- کور کمیٹی اجلاس میں ایک رہنما نے لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو ٹھہرایا۔
- ذرائع کے مطابق بیشتر شرکا نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار محمود خان اچکزئی کو قرار دیا۔
- اجلاس میں بیرسٹر سیف کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
- مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے کور کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کر لیا گیا۔
کور کمیٹی اجلاس میں کیا باتیں ہوئیں
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایک اہم رہنما نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ مردان سے سی ایم ہاؤس کیوں گئے تھے۔ اس کے جواب میں ایک اور رہنما نے کہا کہ شرکا کی تعداد کم تھی، اسی لیے وزیراعلیٰ نے مردان میں قیام نہیں کیا۔
اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سہیل آفریدی نے قیادت کو لانگ مارچ کے منصوبے سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا تھا۔ ایک رہنما کے مطابق اسی وجہ سے مارچ کی ناکامی کی ذمہ داری ان پر عائد کی گئی۔ یہ تمام باتیں ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات ہیں، پارٹی کی جانب سے ان کی باقاعدہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مذاکرات کی ناکامی پر ذمہ داری کا سوال
ذرائع کے مطابق اجلاس کے بیشتر شرکا کی رائے میں حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار محمود خان اچکزئی کو قرار دیا گیا۔ شرکا کا ماننا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں رکاوٹ انہی کی طرف سے آئی۔

قابل ذکر ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی گزشتہ دنوں مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران متعدد نکات پر اتفاق ہو چکا تھا، مگر مسودے میں بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔
کور کمیٹی کے ایک رکن نے اجلاس میں بیرسٹر سیف کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جس پر ارکان نے غور کیا۔
آئندہ کا لائحہ عمل اور پس منظر
ذرائع کے مطابق مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے کور کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے، جو آج رات منعقد ہو گا۔ اس اجلاس میں پارٹی کی آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر وہ کبھی میڈیا سے گفتگو نہیں کرتے۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ رواں ماہ کے اوائل میں خیبر پختونخوا سے روانہ ہوا تھا، جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل بھی جاری رہا، تاہم بات چیت کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ ملک کی سیاسی صورتحال پر مزید تازہ خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔



























