لندن — برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پہلی بار کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ انہیں “واضح جواب” ملا ہے کہ روس نے 2016 کے بریکزٹ ریفرنڈم میں مداخلت کی تھی۔ یہ بات انہوں نے “دی ریسٹ از پولیٹکس” پاڈکاسٹ کے اتوار 11 اکتوبر کو جاری ہونے والے انٹرویو میں کہی، اور یہ اس ایک دہائی پرانے سوال کا کسی برطانوی وزیراعظم کی جانب سے پہلا کھلا اعتراف ہے۔
اہم نکات
- اینڈی برنہم جولائی 2026 میں برطانیہ کے وزیراعظم بنے ہیں۔
- پاڈکاسٹ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ آنے پر انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا روس نے 2016 کے ریفرنڈم میں مداخلت کی، اور انہیں واضح جواب ملا کہ “ہاں، مداخلت ہوئی تھی”۔
- وہ پہلے برطانوی وزیراعظم ہیں جنہوں نے کھلے عام ایسے شواہد کے وجود کا دعویٰ کیا ہے۔
- انہوں نے مداخلت کی نوعیت یا اس کے شواہد کی تفصیل نہیں بتائی۔
- روس نے ماضی میں بریکزٹ میں مداخلت کی تردید کی ہے؛ لندن میں روسی سفارت خانے نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
- 2016 میں برطانوی عوام نے 52 فیصد کے مقابلے میں 48 فیصد ووٹوں سے یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
برنہم نے انٹرویو میں کیا کہا؟
خبر رساں اداروں کے مطابق وزیراعظم برنہم نے انٹرویو میں کہا کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ آتے ہی انہوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ “کیا 2016 کے ریفرنڈم میں روس کی جانب سے مداخلت ہوئی تھی؟ اور مجھے واضح جواب ملا کہ ہاں، ہوئی تھی”۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ بات “واضح طور پر ریکارڈ پر” لانا ضروری ہے تاکہ جرمنی اور فرانس کے ووٹرز سمجھ سکیں کہ “اس سیاست کا کچھ حصہ ہمارے دشمنوں یعنی روس کے ذریعے ہوا بھرا جا رہا ہے”۔
برنہم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس ہفتے برلن میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی سے درپیش خطرے پر بات کی، اور کہا کہ “جرمن سیاست میں روس سے غلط اور فریب پر مبنی معلومات یقینی طور پر پھیل رہی ہیں”۔

ماضی کی حکومتیں کیا کہتی رہیں؟
برنہم کے اس بیان کو سابق وزیراعظم بورس جانسن کے موقف سے ہٹ کر دیکھا جا رہا ہے، جنہوں نے 2020 میں کہا تھا کہ ریفرنڈم میں روسی مداخلت کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ اسی سال پارلیمان کی انٹیلی جنس اور سلامتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حکومت روسی سرکاری میڈیا اور “ٹرول” اکاؤنٹس کے ممکنہ اثرات کا مکمل جائزہ لینے میں ناکام رہی تھی، اور وزرا نے ماسکو کی سرگرمیوں کا مکمل تخمینہ مانگنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
برنہم نے گزشتہ ماہ اپنی جماعت کے سالانہ اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ برطانیہ مستقبل میں یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت پر غور کر سکتا ہے، جس کے بعد ان کے تازہ بیان کو بریکزٹ کے معاملے پر نئی بحث کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
حزب اختلاف اور دیگر جماعتوں کا ردعمل
برطانوی میڈیا کے مطابق قدامت پسند جماعت کے نائب رہنما ایلکس برگرٹ نے کہا کہ ان کی جماعت برنہم حکومت کی جانب سے کیے گئے کسی بھی نئے انتظام کو واپس لے گی۔ ریفارم یو کے کے امیدوار میٹ گڈون نے لیبر حکومت پر ریفرنڈم کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ برنہم کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے سیاسی عمل میں خلل ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں عوام کو بہتر طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ
وزیراعظم برنہم کا بیان ایک دہائی سے زیرِ بحث سوال پر پہلا واضح وزیراعظمی موقف ہے، لیکن انہوں نے مداخلت کی نوعیت یا شواہد کی تفصیل نہیں بتائی، اور روس نے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت اس دعوے کی حمایت میں مزید تفصیلات سامنے لاتی ہے، اور آیا یہ بیان برطانیہ کے یورپ سے تعلقات پر جاری بحث کو کس رخ دے گا۔ مزید برطانوی خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھتے رہیں۔























