LIVE
اہم خبر
ڈافنی کاروانا گیلیزیا صحافتی ایوارڈ 2026: دس فائنلسٹ کے ناموں کا اعلانکاپ31 سے قبل انطالیہ میں پیپلز کلائمیٹ سمٹ: 100 سے زائد تنظیموں کی شرکتشکاگو میں نوجوانوں کے لیے یوتھ کلائمیٹ ایکشن فنڈ کا آغازدنیا کے آٹھ شاندار سیاحتی مقامات: مالدیپ سے سوئٹزرلینڈ تک مکمل گائیڈاحمدآباد میں پہلا نیٹ زیرو گربا: فضلے کے خلاف زیرو ویسٹ مہماینتھروپک نے سنگاپور میں دفتر کھولا، حکومت کے ساتھ اے آئی حفاظت پر معاہدہیریوان میں کاپ17: حیاتیاتی تنوع بچانے کا عالمی اجلاس، تیاریاں آخری مرحلے میںجنوبی افریقہ کی پائیدار فیشن تحریک: کوڑے سے رن وے تک کا سفربرطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم: 2016 کے بریکزٹ ریفرنڈم میں روس کی مداخلت ہوئیون پلس 16 کی آج چین میں لانچ، 9000 ایم اے ایچ بیٹری اور 200 میگا پکسل کیمرہسینیٹ میں دہشت گردی پر بحث: شیری رحمان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعلق بڑا دعویٰ کر دیاپاکستانی فلم ’واخری‘ کی عالمی پرواز: فرانس اور برطانیہ سمیت چار ممالک میں نمائش کا اعلانوزیرِ خزانہ کی بنکاک میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتروسی وزیرِ داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات — سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیالبی بی این جے کاپ1 کی کوریج کے لیے ای جے این کی دس صحافیوں کو فیلوشپ کی پیشکشواشک، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: پانچ دہشت گرد ہلاک، چار زخمیسعودی کابینہ کا حوثیوں کو سخت انتباہ: بار بار حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گےکیمبرج میں کھانے کے فضلے کی ہفتہ وار کلیکشن 23,000 سے زائد مزید گھروں تک پھیل گئیآئی آر ای این اے: 2050 تک قابلِ تجدید بجلی 38.2 ٹیراواٹ تک بڑھانا ہو گیپاک فوج کا ہائپر سونک میزائل فتح ٹو ای آر کا کامیاب تجربہڈافنی کاروانا گیلیزیا صحافتی ایوارڈ 2026: دس فائنلسٹ کے ناموں کا اعلانکاپ31 سے قبل انطالیہ میں پیپلز کلائمیٹ سمٹ: 100 سے زائد تنظیموں کی شرکتشکاگو میں نوجوانوں کے لیے یوتھ کلائمیٹ ایکشن فنڈ کا آغازدنیا کے آٹھ شاندار سیاحتی مقامات: مالدیپ سے سوئٹزرلینڈ تک مکمل گائیڈاحمدآباد میں پہلا نیٹ زیرو گربا: فضلے کے خلاف زیرو ویسٹ مہماینتھروپک نے سنگاپور میں دفتر کھولا، حکومت کے ساتھ اے آئی حفاظت پر معاہدہیریوان میں کاپ17: حیاتیاتی تنوع بچانے کا عالمی اجلاس، تیاریاں آخری مرحلے میںجنوبی افریقہ کی پائیدار فیشن تحریک: کوڑے سے رن وے تک کا سفربرطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم: 2016 کے بریکزٹ ریفرنڈم میں روس کی مداخلت ہوئیون پلس 16 کی آج چین میں لانچ، 9000 ایم اے ایچ بیٹری اور 200 میگا پکسل کیمرہسینیٹ میں دہشت گردی پر بحث: شیری رحمان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعلق بڑا دعویٰ کر دیاپاکستانی فلم ’واخری‘ کی عالمی پرواز: فرانس اور برطانیہ سمیت چار ممالک میں نمائش کا اعلانوزیرِ خزانہ کی بنکاک میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتروسی وزیرِ داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات — سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیالبی بی این جے کاپ1 کی کوریج کے لیے ای جے این کی دس صحافیوں کو فیلوشپ کی پیشکشواشک، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: پانچ دہشت گرد ہلاک، چار زخمیسعودی کابینہ کا حوثیوں کو سخت انتباہ: بار بار حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گےکیمبرج میں کھانے کے فضلے کی ہفتہ وار کلیکشن 23,000 سے زائد مزید گھروں تک پھیل گئیآئی آر ای این اے: 2050 تک قابلِ تجدید بجلی 38.2 ٹیراواٹ تک بڑھانا ہو گیپاک فوج کا ہائپر سونک میزائل فتح ٹو ای آر کا کامیاب تجربہ
ماحولیات

یریوان میں کاپ17: حیاتیاتی تنوع بچانے کا عالمی اجلاس، تیاریاں آخری مرحلے میں

News Desk 6شائع شدہ 14 اکتوبر، 2026
یریوان میں کاپ17: حیاتیاتی تنوع بچانے کا عالمی اجلاس، تیاریاں آخری مرحلے میں
Share this story

آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں کاپ17 یریوان کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ 13 اکتوبر کو آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے میریڈین ایکسپو سینٹر کا دورہ کیا، جہاں حیاتیاتی تنوع کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریقین کا 17واں اجلاس 19 تا 30 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوگا۔ حکام کے مطابق تیاریوں کے تمام شعبوں میں کام مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ یہ اجلاس کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کا پہلا عالمی جائزہ ہوگا، جس میں دنیا کے 196 فریق ممالک شریک ہوں گے۔

اہم نکات

  • کاپ17 یریوان 19 تا 30 اکتوبر 2026 کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں ہوگا؛ اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کنونشن کے 196 فریق ممالک شریک ہوں گے۔
  • یہ اجلاس کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کا پہلا عالمی جائزہ ہوگا؛ اس کے ساتھ حیاتیاتی تحفظ اور رسائی و منافع میں اشتراک کے پروٹوکولوں کے اجلاس بھی ہوں گے۔
  • 13 اکتوبر کو وزیر اعظم نکول پاشینیان نے میریڈین ایکسپو سینٹر کا معائنہ کیا؛ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق کام تمام شعبوں میں شیڈول کے مطابق مکمل ہو رہا ہے۔
  • 16 اکتوبر کو قائدین کی سربراہ کانفرنس اور 27 تا 28 اکتوبر کو وزارتی اعلیٰ سطحی اجلاس ہوگا۔
  • سب سے بڑا امتحان فنڈنگ کا ہوگا: 2030 تک سالانہ 200 ارب ڈالر کا ہدف، جب کہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی مضر سبسڈیاں فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
  • سی بی ڈی سیکریٹریٹ کے مطابق آدھے سے کم قومی اہداف راستے پر ہیں؛ ترقی پذیر ممالک پیشگوئی کے قابل اور قرض سے پاک فنڈنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کا دورہ: تیاریاں مکمل ہونے کے قریب

وزیر اعظم کے دفتر کی اطلاع کے مطابق نکول پاشینیان نے 13 اکتوبر کو یریوان کے میریڈین ایکسپو سینٹر کا دورہ کیا، جہاں کاپ17 کے انعقاد کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ ان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور یریوان کے میئر تگران اوینیان بھی تھے۔ وزیر اعظم نے کانفرنس کے اجلاسوں، وفود کے کام، میڈیا، تکنیکی خدمات اور دیگر شعبوں کے لیے مختص علاقوں کا دورہ کیا اور انفراسٹرکچر و تکنیکی سہولیات کا جائزہ لیا۔

حکام نے وزیر اعظم کو بتایا کہ تیاریوں کا کام تمام شعبوں میں مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ مؤثر بین ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے کاپ17 کا انعقاد اعلیٰ معیار پر ہونا چاہیے۔ آرمینیا 2028 تک اس کنونشن کی صدارت بھی سنبھالے گا، جو ملک کے لیے ایک اہم بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔

کاپ17 یریوان کے موقع پر آرمینیا کی جھیل سیوان اور اس کے قدرتی مناظر
جھیل سیوان، آرمینیا کا سب سے بڑا میٹھے پانی کا ذخیرہ، ملک کے ان قدرتی ماحولیاتی نظاموں کی علامت ہے جن کی حفاظت کاپ17 کے ایجنڈے پر ہے

کاپ17 یریوان کے ایجنڈے پر سب سے بڑا سوال: فنڈنگ

یریوان میں ہونے والے مذاکرات کا سب سے متنازع موضوع وسائل کی فراہمی ہوگا۔ کنمنگ-مونٹریال فریم ورک کے ہدف 19 کے تحت حکومتیں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے لیے سالانہ کم از کم 200 ارب ڈالر ملکی اور بین الاقوامی، سرکاری اور نجی ذرائع سے فراہم کرنے پر متفق ہوئی تھیں۔ ترقی پذیر ملکوں کے لیے بین الاقوامی حیاتیاتی تنوع کی فنڈنگ 2030 تک سالانہ کم از کم 30 ارب ڈالر تک پہنچانی ہے، جب کہ 2025 تک کا عبوری ہدف سالانہ 20 ارب ڈالر تھا۔

تاہم دستیاب فنڈنگ ناکافی ہے، اور پیچیدہ درخواست کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی رکاوٹیں حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ترقی پذیر ملکوں کی رسائی محدود کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے مطابق وسائل کی فراہمی یریوان میں سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا موضوع ہو سکتا ہے، کیونکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں پر دیرینہ اختلافات ہیں۔ ترقی پذیر ممالک امیر ملکوں سے پیشگوئی کے قابل سرکاری فنڈنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کے قرضوں کا بوجھ نہ بڑھائے۔

200 ارب ڈالر کا ہدف اور ترقی پذیر ملکوں کا مطالبہ

12 اکتوبر کو جاری ایک سرکاری بیان میں جنوبی افریقہ نے عالمی برادری سے کہا کہ صرف پیش رفت کا جائزہ لینے سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کو تیز کیا جائے۔ جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت جنگلات، ماہی گیری اور ماحولیات کے نائب وزیر نریندر سنگھ کریں گے۔ جنوبی افریقہ نے حیاتیاتی تنوع کی فنڈنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، نفاذ کی معاونت اور منصفانہ منافع میں اشتراک کو اپنی مذاکراتی ترجیحات قرار دیا ہے، اور قرض پیدا نہ کرنے والی، گرانٹ پر مبنی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔

2.6 ٹریلین ڈالر کی مضر سبسڈیاں

بزنس فار نیچر کے مطابق سالانہ کم از کم 2.6 ٹریلین ڈالر کی سرکاری اخراجات، جو عالمی مجموعی پیداوار کا تقریباً 2.5 فیصد ہیں، مٹی، آبی وسائل اور ماحولیاتی نظاموں کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ فطرت کی حفاظت پر خرچ ہونے والے ہر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 30 ڈالر ایسی سرگرمیوں میں جاتے ہیں جو ماحول کو تباہ کرتی ہیں۔ ہدف 18 کے تحت حکومتیں 2030 تک ماحول کے لیے مضر مراعات میں سالانہ کم از کم 500 ارب ڈالر کی کمی پر متفق ہوئی تھیں، لیکن صرف 5 فیصد ممالک نے اس عزم کے لیے جامع قومی اہداف بنائے ہیں۔ 6 اکتوبر کو 130 سے زائد کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں، جن میں بی این پی پاریباس ایسٹ مینجمنٹ، دانون، ایچ اینڈ ایم گروپ اور ریبو بینک شامل ہیں، نے حکومتوں سے کہا کہ وہ حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچانے والی سبسڈیوں کی اصلاح تیز کریں۔

کاپ17 یریوان کے ایجنڈے میں جنگلات کے تحفظ کی اہمیت، دلیجان کے خزاں زدہ جنگلات
دلیجان کے خزاں زدہ جنگلات، آرمینیا کے ان خشکی ماحولیاتی نظاموں کی مثال ہیں جن کے تحفظ کے لیے 2030 تک کے عالمی اہداف طے کیے گئے ہیں

30-بائے-30 کا ہدف: وعدے اور حقیقت میں فاصلہ

سب سے زیادہ توجہ کا مرکز 2030 تک دنیا کی کم از کم 30 فیصد خشکی، اندرونی پانیوں اور سمندری علاقوں کے مؤثر تحفظ کا ہدف ہے، جسے 30-بائے-30 کہا جاتا ہے۔ دسمبر 2022 میں منظور ہونے والے اس تاریخی معاہدے میں 2030 کے لیے 23 اہداف طے کیے گئے تھے، جن میں تباہ شدہ ماحولیاتی نظاموں کی بحالی، آلودگی میں کمی اور خطرے سے دوچار انواع کا تحفظ شامل ہے۔

تاہم سی بی ڈی سیکریٹریٹ کے جائزے کے مطابق عالمی پیش رفت اہداف کے حصول کے لیے ناکافی ہے، جس سے خوراک کی سلامتی، میٹھے پانی کی فراہمی اور معاشی استحکام پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ سی بی ڈی کی ایگزیکٹو سیکرٹری ایسٹریڈ شومیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ تمام اہداف پر پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن نفاذ اس رفتار اور پیمانے پر نہیں ہو رہا جو درکار ہے۔ ان کے مطابق عالمی فریم ورک سے ہم آہنگ جن قومی اہداف کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے آدھے سے بھی کم اس وقت راستے پر ہیں، اور سب سے بڑے خلا حیاتیاتی تنوع کی فنڈنگ، مضر سبسڈیوں کی اصلاح اور پائیدار کھپت میں ہیں۔

ہدف2030 کا مطلوبہ معیارموجودہ صورت حال
30-بائے-30 (خشکی و اندرونی پانی)30 فیصدوعدوں پر مکمل عمل کی صورت میں بھی تقریباً 27 فیصد
30-بائے-30 (سمندر)30 فیصدمتوقع شرح صرف 12 فیصد
مؤثر سمندری تحفظہدف کا حصہصرف تقریباً 3.5 فیصد سمندر مؤثر طور پر محفوظ
فنڈنگ (ہدف 19)سالانہ 200 ارب ڈالردستیاب فنڈنگ ناکافی، خلا برقرار
مضر مراعات میں کمی (ہدف 18)سالانہ 500 ارب ڈالر کی کٹوتیصرف 5 فیصد ممالک نے جامع قومی اہداف بنائے

کیمپین فار نیچر کے ستمبر کے جائزے کے مطابق حکومتوں کے موجودہ وعدے، اگر مکمل طور پر نافذ بھی ہوں، تو 2030 تک دنیا کی تقریباً 27 فیصد خشکی اور اندرونی پانی تحفظ میں آئیں گے، جب کہ سمندروں کے لیے متوقع شرح صرف 12 فیصد ہے۔ اس وقت تقریباً 20 فیصد خشکی اور 10 فیصد عالمی سمندر تحفظ کے لیے نامزد ہیں، لیکن صرف تقریباً 3.5 فیصد سمندر مؤثر طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ محفوظ علاقوں کا اعلان کرنا اور ان کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا دو الگ باتیں ہیں۔

کاروباری اداروں، نوجوانوں اور مقامی برادریوں کی آواز

کاپ17 میں نجی شعبے کی فنڈنگ کا امتحان بھی ہوگا۔ فروری 2025 میں قائم ہونے والے کالی فنڈ کا مقصد جینیاتی وسائل پر ڈیجیٹل تسلسلی معلومات سے تجارتی فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں سے چندہ لینا ہے، تاکہ تحفظ اور منصفانہ منافع میں اشتراک کی حمایت ہو سکے۔ لیکن اگست تک اس فنڈ کو صرف دو کمپنیوں کے چندے ملے تھے، جن کی مجموعی رقم 6 ہزار ڈالر تھی۔ یریوان میں مذاکرات کار کمپنیوں کی شرکت بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کریں گے کہ مالی فوائد ترقی پذیر ملکوں، مقامی آبادیوں اور مقامی برادریوں تک پہنچیں۔

بنگلہ دیش کی نوجوانوں کی تنظیم یوتھ نیٹ گلوبل نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ فریم ورک کے مالیاتی وعدوں کے نفاذ کے لیے واضح، وقت پر مبنی اور جواب دہ روڈ میپ بنایا جائے، اور بین الاقوامی فنڈنگ براہ راست ان برادریوں تک پہنچے جو جنگلات، دلدلوں، دریاؤں اور ساحلی ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت کر رہی ہیں۔ تنظیم نے ہدف 23 کے تحت صنفی مساوات، قدرتی وسائل تک خواتین کی مساوی رسائی اور فیصلہ سازی میں ان کی بامعنی شرکت پر بھی زور دیا ہے۔ مقامی آبادیوں اور مقامی برادریوں کے حقوق بھی ایجنڈے پر ہوں گے، کیونکہ محفوظ علاقوں کی توسیع ان برادریوں کے حقوق، ثقافت اور معاشی سلامتی کو متاثر کیے بغیر ہونی چاہیے جنہوں نے تاریخی طور پر قدرتی ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت کی ہے۔

خلاصہ

کاپ17 یریوان دنیا کے حیاتیاتی تنوع کے مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہوگا۔ تیاریاں مکمل ہونے کے قریب ہیں، قائدین کی سربراہ کانفرنس اور وزارتی اجلاس کا شیڈول طے ہے، اور مذاکرات کا ایجنڈا واضح ہے: فنڈنگ کا خلا پُر کرنا، مضر سبسڈیوں کی اصلاح، اور 2030 کے اہداف کی طرف تیز پیش رفت۔ اگر یریوان میں حکومتیں قابل اعتماد مالیاتی انتظامات اور پیمائش کے قابل جواب دہی پر متفق ہو جاتی ہیں تو فطرت کے تحفظ کی عالمی کوشش کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ اسی موضوع پر مزید ماحولیاتی خبروں کے لیے زمین کے ماحولیاتی نظاموں پر ہماری رپورٹ بھی پڑھیں اور تازہ ترین اردو خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھتے رہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

کیمبرج میں کھانے کے فضلے کی ہفتہ وار کلیکشن 23,000 سے زائد مزید گھروں تک پھیل گئیماحولیات

کیمبرج میں کھانے کے فضلے کی ہفتہ وار کلیکشن 23,000 سے زائد مزید گھروں تک پھیل گئی

کیمبرج میں کھانے کے فضلے کی ہفتہ وار کلیکشن 23,000 سے زائد مزید گھروں تک بڑھا دی گئی ہے اور اب یہ سہولت 90,000 سے زائد گھرانوں تک پہنچ گئی ہے — شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کھانے کے فضلے کی ری سائیکلنگ باورچی خانے کے بچے کھچے کھانے کو بجلی اور کھاد میں

مزید پڑھیں
آئی آر ای این اے: 2050 تک قابلِ تجدید بجلی 38.2 ٹیراواٹ تک بڑھانا ہو گیماحولیات

آئی آر ای این اے: 2050 تک قابلِ تجدید بجلی 38.2 ٹیراواٹ تک بڑھانا ہو گی

بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آئی آر ای این اے) نے 13 اکتوبر 2026 کو خبردار کیا ہے کہ عالمی توانائی کی منتقلی "دباؤ میں ہے" — اور کہا ہے کہ قابلِ تجدید بجلی کی نصب شدہ صلاحیت کو آج کے 5.2 ٹیراواٹ سے 2050 تک تقریباً 38.2 ٹیراواٹ تک بڑھانا ہو گا تاکہ

مزید پڑھیں
عالمی کلائماتھن ڈیز 2026: شہر شہریوں کو موسمیاتی مسائل کے حل کار بنا رہے ہیںماحولیات

عالمی کلائماتھن ڈیز 2026: شہر شہریوں کو موسمیاتی مسائل کے حل کار بنا رہے ہیں

اس ہفتے موسمیاتی کارروائی مذاکراتی ہالوں میں نہیں بلکہ سٹی ہالوں، یونیورسٹیوں کے کمروں اور مقامی مراکز میں ہو رہی ہے۔ 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک دنیا بھر کے شہر گلوبل کلائماتھن ڈیز میں شریک ہو رہے ہیں — شہریوں کے خیال سازی کے پروگراموں کی ایک ہم آہنگ لہر، جہاں عام شہری اپنے

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ڈافنی کاروانا گیلیزیا صحافتی ایوارڈ 2026: دس فائنلسٹ کے ناموں کا اعلان
نمایاں خبر

ڈافنی کاروانا گیلیزیا صحافتی ایوارڈ 2026: دس فائنلسٹ کے ناموں کا اعلان

یورپی پارلیمان نے ڈافنی کاروانا گیلیزیا صحافتی ایوارڈ 2026 کے دس فائنلسٹ کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سال 27 یورپی ممالک سے ریکارڈ 344 اندراجات موصول ہوئے جن میں سے دس بہترین تحقیقات کا انتخاب کیا گیا۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر 2026 کی شام اسٹراسبرگ میں ہوگا اور فاتح کو بیس ہزار یورو کی انعامی رقم دی جائے گی۔

مکمل خبر پڑھیں
ایکویالٹی فنڈ کی پہلی صحافتی فیلوشپ: گلوبل ساؤتھ کے صحافیوں سے درخواستوں کا آغاز
گرین جرنلزم

ایکویالٹی فنڈ کی پہلی صحافتی فیلوشپ: گلوبل ساؤتھ کے صحافیوں سے درخواستوں کا آغاز

کینیڈا۔ ایکویالٹی فنڈ نے اپنی پہلی صحافتی فیلوشپ کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ یہ فیلوشپ گلوبل ساؤتھ کے ان صحافیوں کے لیے ہے جو عالمی بحرانوں کے مقامی حل پر صنفی نقطہ نظر کے ساتھ رپورٹنگ کرتے ہیں — اور موسمیاتی بحران بھی انہی بحرانوں میں شامل ہے۔ یہ فیلوشپ کینیڈین جرنلسٹس فار

مکمل خبر پڑھیں
ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ
گرین جرنلزم

ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027 کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں۔ یہ آٹھ ماہ کا پروگرام امریکہ کے دس مقامی اور علاقائی صحافیوں کو ان کی اپنی کمیونٹی میں موسمیاتی حلول پر رپورٹنگ کے لیے فی کس 7500 ڈالر معاوضہ

مکمل خبر پڑھیں
یونیسکو: 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل، صحافت کی حفاظت کا مطلب سیارے کی حفاظت
گرین جرنلزم

یونیسکو: 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل، صحافت کی حفاظت کا مطلب سیارے کی حفاظت

آگاہی مضمون: موسمیاتی رپورٹنگ جدید صحافت کا ایک خطرناک ترین میدان ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے حملوں، دھمکیوں اور بعض صورتوں میں قتل کا سامنا ہوتا ہے — اور پریس کی حفاظت سیارے کی حفاظت کی شرط ہے۔ جو صحافی غیر قانونی

مکمل خبر پڑھیں
پوئنٹر موسمیاتی صحافت انعام: واشنگٹن پوسٹ کی «فلڈز اباو» تحقیق کو اعزاز
گرین جرنلزم

پوئنٹر موسمیاتی صحافت انعام: واشنگٹن پوسٹ کی «فلڈز اباو» تحقیق کو اعزاز

واشنگٹن – واشنگٹن پوسٹ کی سیلاب کے بڑھتے خطرے پر جامع تحقیق «فلڈز اباو» نے موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹنگ میں نمایاں کارکردگی کے لیے پہلا پوئنٹر صحافتی انعام جیت لیا ہے۔ یہ انعام سائنسی بنیادوں پر مبنی موسمیاتی صحافت کے لیے قائم کیا گیا ایک نیا اعزاز ہے، جس کا اعلان پوئنٹر انسٹی ٹیوٹ نے

مکمل خبر پڑھیں
رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز
گرین جرنلزم

رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز

لیچے: موسمیاتی تبدیلی پر یورپی بحیرہ روم مرکز (سی ایم سی سی) نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے "فیوچر آف دی پلینٹ" ڈیسک اور اسکائی ٹی جی 24 کے ڈپٹی ایڈیٹر اِن چیف دانیئل موریٹی کو موسمیات اور پائیداری پر سائنسی صحافت کے 2026 کے رومیو باسولی انعام کا فاتح قرار دیا ہے۔ یہ انعام

مکمل خبر پڑھیں
2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل
گرین جرنلزم

2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل

یورپی پارلیمنٹ نے 2026 کے ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام کے لیے دس تحقیقات شارٹ لسٹ کر لی ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نقصانات اور گرین انویسٹمنٹ فنڈز کی تحقیقات شامل ہیں۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر کو سٹراسبرگ میں ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔