آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں کاپ17 یریوان کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ 13 اکتوبر کو آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے میریڈین ایکسپو سینٹر کا دورہ کیا، جہاں حیاتیاتی تنوع کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریقین کا 17واں اجلاس 19 تا 30 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوگا۔ حکام کے مطابق تیاریوں کے تمام شعبوں میں کام مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ یہ اجلاس کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کا پہلا عالمی جائزہ ہوگا، جس میں دنیا کے 196 فریق ممالک شریک ہوں گے۔
اہم نکات
- کاپ17 یریوان 19 تا 30 اکتوبر 2026 کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں ہوگا؛ اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کنونشن کے 196 فریق ممالک شریک ہوں گے۔
- یہ اجلاس کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کا پہلا عالمی جائزہ ہوگا؛ اس کے ساتھ حیاتیاتی تحفظ اور رسائی و منافع میں اشتراک کے پروٹوکولوں کے اجلاس بھی ہوں گے۔
- 13 اکتوبر کو وزیر اعظم نکول پاشینیان نے میریڈین ایکسپو سینٹر کا معائنہ کیا؛ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق کام تمام شعبوں میں شیڈول کے مطابق مکمل ہو رہا ہے۔
- 16 اکتوبر کو قائدین کی سربراہ کانفرنس اور 27 تا 28 اکتوبر کو وزارتی اعلیٰ سطحی اجلاس ہوگا۔
- سب سے بڑا امتحان فنڈنگ کا ہوگا: 2030 تک سالانہ 200 ارب ڈالر کا ہدف، جب کہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی مضر سبسڈیاں فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
- سی بی ڈی سیکریٹریٹ کے مطابق آدھے سے کم قومی اہداف راستے پر ہیں؛ ترقی پذیر ممالک پیشگوئی کے قابل اور قرض سے پاک فنڈنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم کا دورہ: تیاریاں مکمل ہونے کے قریب
وزیر اعظم کے دفتر کی اطلاع کے مطابق نکول پاشینیان نے 13 اکتوبر کو یریوان کے میریڈین ایکسپو سینٹر کا دورہ کیا، جہاں کاپ17 کے انعقاد کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ ان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور یریوان کے میئر تگران اوینیان بھی تھے۔ وزیر اعظم نے کانفرنس کے اجلاسوں، وفود کے کام، میڈیا، تکنیکی خدمات اور دیگر شعبوں کے لیے مختص علاقوں کا دورہ کیا اور انفراسٹرکچر و تکنیکی سہولیات کا جائزہ لیا۔
حکام نے وزیر اعظم کو بتایا کہ تیاریوں کا کام تمام شعبوں میں مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ مؤثر بین ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے کاپ17 کا انعقاد اعلیٰ معیار پر ہونا چاہیے۔ آرمینیا 2028 تک اس کنونشن کی صدارت بھی سنبھالے گا، جو ملک کے لیے ایک اہم بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔

کاپ17 یریوان کے ایجنڈے پر سب سے بڑا سوال: فنڈنگ
یریوان میں ہونے والے مذاکرات کا سب سے متنازع موضوع وسائل کی فراہمی ہوگا۔ کنمنگ-مونٹریال فریم ورک کے ہدف 19 کے تحت حکومتیں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے لیے سالانہ کم از کم 200 ارب ڈالر ملکی اور بین الاقوامی، سرکاری اور نجی ذرائع سے فراہم کرنے پر متفق ہوئی تھیں۔ ترقی پذیر ملکوں کے لیے بین الاقوامی حیاتیاتی تنوع کی فنڈنگ 2030 تک سالانہ کم از کم 30 ارب ڈالر تک پہنچانی ہے، جب کہ 2025 تک کا عبوری ہدف سالانہ 20 ارب ڈالر تھا۔
تاہم دستیاب فنڈنگ ناکافی ہے، اور پیچیدہ درخواست کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی رکاوٹیں حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ترقی پذیر ملکوں کی رسائی محدود کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے مطابق وسائل کی فراہمی یریوان میں سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا موضوع ہو سکتا ہے، کیونکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں پر دیرینہ اختلافات ہیں۔ ترقی پذیر ممالک امیر ملکوں سے پیشگوئی کے قابل سرکاری فنڈنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کے قرضوں کا بوجھ نہ بڑھائے۔
200 ارب ڈالر کا ہدف اور ترقی پذیر ملکوں کا مطالبہ
12 اکتوبر کو جاری ایک سرکاری بیان میں جنوبی افریقہ نے عالمی برادری سے کہا کہ صرف پیش رفت کا جائزہ لینے سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کو تیز کیا جائے۔ جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت جنگلات، ماہی گیری اور ماحولیات کے نائب وزیر نریندر سنگھ کریں گے۔ جنوبی افریقہ نے حیاتیاتی تنوع کی فنڈنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، نفاذ کی معاونت اور منصفانہ منافع میں اشتراک کو اپنی مذاکراتی ترجیحات قرار دیا ہے، اور قرض پیدا نہ کرنے والی، گرانٹ پر مبنی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔
2.6 ٹریلین ڈالر کی مضر سبسڈیاں
بزنس فار نیچر کے مطابق سالانہ کم از کم 2.6 ٹریلین ڈالر کی سرکاری اخراجات، جو عالمی مجموعی پیداوار کا تقریباً 2.5 فیصد ہیں، مٹی، آبی وسائل اور ماحولیاتی نظاموں کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ فطرت کی حفاظت پر خرچ ہونے والے ہر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 30 ڈالر ایسی سرگرمیوں میں جاتے ہیں جو ماحول کو تباہ کرتی ہیں۔ ہدف 18 کے تحت حکومتیں 2030 تک ماحول کے لیے مضر مراعات میں سالانہ کم از کم 500 ارب ڈالر کی کمی پر متفق ہوئی تھیں، لیکن صرف 5 فیصد ممالک نے اس عزم کے لیے جامع قومی اہداف بنائے ہیں۔ 6 اکتوبر کو 130 سے زائد کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں، جن میں بی این پی پاریباس ایسٹ مینجمنٹ، دانون، ایچ اینڈ ایم گروپ اور ریبو بینک شامل ہیں، نے حکومتوں سے کہا کہ وہ حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچانے والی سبسڈیوں کی اصلاح تیز کریں۔

30-بائے-30 کا ہدف: وعدے اور حقیقت میں فاصلہ
سب سے زیادہ توجہ کا مرکز 2030 تک دنیا کی کم از کم 30 فیصد خشکی، اندرونی پانیوں اور سمندری علاقوں کے مؤثر تحفظ کا ہدف ہے، جسے 30-بائے-30 کہا جاتا ہے۔ دسمبر 2022 میں منظور ہونے والے اس تاریخی معاہدے میں 2030 کے لیے 23 اہداف طے کیے گئے تھے، جن میں تباہ شدہ ماحولیاتی نظاموں کی بحالی، آلودگی میں کمی اور خطرے سے دوچار انواع کا تحفظ شامل ہے۔
تاہم سی بی ڈی سیکریٹریٹ کے جائزے کے مطابق عالمی پیش رفت اہداف کے حصول کے لیے ناکافی ہے، جس سے خوراک کی سلامتی، میٹھے پانی کی فراہمی اور معاشی استحکام پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ سی بی ڈی کی ایگزیکٹو سیکرٹری ایسٹریڈ شومیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ تمام اہداف پر پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن نفاذ اس رفتار اور پیمانے پر نہیں ہو رہا جو درکار ہے۔ ان کے مطابق عالمی فریم ورک سے ہم آہنگ جن قومی اہداف کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے آدھے سے بھی کم اس وقت راستے پر ہیں، اور سب سے بڑے خلا حیاتیاتی تنوع کی فنڈنگ، مضر سبسڈیوں کی اصلاح اور پائیدار کھپت میں ہیں۔
| ہدف | 2030 کا مطلوبہ معیار | موجودہ صورت حال |
|---|---|---|
| 30-بائے-30 (خشکی و اندرونی پانی) | 30 فیصد | وعدوں پر مکمل عمل کی صورت میں بھی تقریباً 27 فیصد |
| 30-بائے-30 (سمندر) | 30 فیصد | متوقع شرح صرف 12 فیصد |
| مؤثر سمندری تحفظ | ہدف کا حصہ | صرف تقریباً 3.5 فیصد سمندر مؤثر طور پر محفوظ |
| فنڈنگ (ہدف 19) | سالانہ 200 ارب ڈالر | دستیاب فنڈنگ ناکافی، خلا برقرار |
| مضر مراعات میں کمی (ہدف 18) | سالانہ 500 ارب ڈالر کی کٹوتی | صرف 5 فیصد ممالک نے جامع قومی اہداف بنائے |
کیمپین فار نیچر کے ستمبر کے جائزے کے مطابق حکومتوں کے موجودہ وعدے، اگر مکمل طور پر نافذ بھی ہوں، تو 2030 تک دنیا کی تقریباً 27 فیصد خشکی اور اندرونی پانی تحفظ میں آئیں گے، جب کہ سمندروں کے لیے متوقع شرح صرف 12 فیصد ہے۔ اس وقت تقریباً 20 فیصد خشکی اور 10 فیصد عالمی سمندر تحفظ کے لیے نامزد ہیں، لیکن صرف تقریباً 3.5 فیصد سمندر مؤثر طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ محفوظ علاقوں کا اعلان کرنا اور ان کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا دو الگ باتیں ہیں۔
کاروباری اداروں، نوجوانوں اور مقامی برادریوں کی آواز
کاپ17 میں نجی شعبے کی فنڈنگ کا امتحان بھی ہوگا۔ فروری 2025 میں قائم ہونے والے کالی فنڈ کا مقصد جینیاتی وسائل پر ڈیجیٹل تسلسلی معلومات سے تجارتی فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں سے چندہ لینا ہے، تاکہ تحفظ اور منصفانہ منافع میں اشتراک کی حمایت ہو سکے۔ لیکن اگست تک اس فنڈ کو صرف دو کمپنیوں کے چندے ملے تھے، جن کی مجموعی رقم 6 ہزار ڈالر تھی۔ یریوان میں مذاکرات کار کمپنیوں کی شرکت بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کریں گے کہ مالی فوائد ترقی پذیر ملکوں، مقامی آبادیوں اور مقامی برادریوں تک پہنچیں۔
بنگلہ دیش کی نوجوانوں کی تنظیم یوتھ نیٹ گلوبل نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ فریم ورک کے مالیاتی وعدوں کے نفاذ کے لیے واضح، وقت پر مبنی اور جواب دہ روڈ میپ بنایا جائے، اور بین الاقوامی فنڈنگ براہ راست ان برادریوں تک پہنچے جو جنگلات، دلدلوں، دریاؤں اور ساحلی ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت کر رہی ہیں۔ تنظیم نے ہدف 23 کے تحت صنفی مساوات، قدرتی وسائل تک خواتین کی مساوی رسائی اور فیصلہ سازی میں ان کی بامعنی شرکت پر بھی زور دیا ہے۔ مقامی آبادیوں اور مقامی برادریوں کے حقوق بھی ایجنڈے پر ہوں گے، کیونکہ محفوظ علاقوں کی توسیع ان برادریوں کے حقوق، ثقافت اور معاشی سلامتی کو متاثر کیے بغیر ہونی چاہیے جنہوں نے تاریخی طور پر قدرتی ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت کی ہے۔
خلاصہ
کاپ17 یریوان دنیا کے حیاتیاتی تنوع کے مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہوگا۔ تیاریاں مکمل ہونے کے قریب ہیں، قائدین کی سربراہ کانفرنس اور وزارتی اجلاس کا شیڈول طے ہے، اور مذاکرات کا ایجنڈا واضح ہے: فنڈنگ کا خلا پُر کرنا، مضر سبسڈیوں کی اصلاح، اور 2030 کے اہداف کی طرف تیز پیش رفت۔ اگر یریوان میں حکومتیں قابل اعتماد مالیاتی انتظامات اور پیمائش کے قابل جواب دہی پر متفق ہو جاتی ہیں تو فطرت کے تحفظ کی عالمی کوشش کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ اسی موضوع پر مزید ماحولیاتی خبروں کے لیے زمین کے ماحولیاتی نظاموں پر ہماری رپورٹ بھی پڑھیں اور تازہ ترین اردو خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھتے رہیں۔


























