جنوبی افریقہ میں پائیدار فیشن اب محض نعرہ نہیں رہا بلکہ ایک زندہ تحریک بن چکا ہے۔ دس اکتوبر 2026 کو گوٹینگ کے کواماگیش اسپننگ ایرینا میں ہونے والی ہیٹ آن دی اسٹریٹ تقریب میں اینجن ایکسٹریم کوتور کلیکشن کی رونمائی نے یہ ثابت کر دیا کہ پرانے کپڑے، بوتلوں کے ڈھکن، فضلے سے نکالا گیا کپڑا اور ری سائیکل شدہ ملبوسات بھی ہائی فیشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اہم نکات
- دس اکتوبر 2026 کو گوٹینگ کے کواماگیش اسپننگ ایرینا میں ہیٹ آن دی اسٹریٹ تقریب کے دوران اینجن ایکسٹریم کوتور کلیکشن کی رونمائی ہوئی۔
- کلیکشن جنوبی افریقی ڈیزائنر کارلو گبسن نے تیار کی؛ مواد میں پیراشوٹ کا پرانا کپڑا، پرانی جینز، 1975 کی فوجی جرسی، بوتلوں کے ڈھکن اور ری سائیکل شدہ کارپوریٹ ملبوسات شامل ہیں۔
- اسپنرز، مکینکس اور اسٹریٹ کلچر سے متاثرہ یہ کلیکشن اپ سائیکلنگ اور سرکلر فیشن کی نمایاں مثال ہے۔
- ٹوِگ سسٹین ایبل فیشن ایوارڈز 2026 کے لیے نامزدگیاں 14 اکتوبر کو بند ہوئیں؛ فاتحین کا اعلان 19 نومبر کو کیپ ٹاؤن میں ہوگا۔
- چینج میکر ایوارڈ کے فاتح کو ایک لاکھ رینڈ کا کیش انعام دیا جائے گا۔
- سندیسو کھومالو اور لوکھانیو مدینگی جیسے ڈیزائنر عالمی سطح پر جنوبی افریقہ کے پائیدار فیشن کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
گیراج سے رن وے تک: ہیٹ آن دی اسٹریٹ کی دھوم
جنوبی افریقہ کی موٹرنگ ثقافت دنیا بھر میں منفرد ہے۔ مکینکس، اسپنرز اور پٹرول ہیڈز نے اپنی پہچان، لباس اور انداز خود تخلیق کیے ہیں۔ اسی ثقافت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اینجن نے ایکسٹریم کوتور کلیکشن تیار کروائی جسے دس اکتوبر کو کواماگیش اسپننگ ایرینا میں رونمائی کے موقع پر پیش کیا گیا۔ تقریب میں دھواں، گھومتی گاڑیاں اور فیشن ایک ہی منظر میں اکٹھے ہوئے۔
اینجن کے مطابق اس منصوبے کا مقصد گیراج کے کپڑوں کو فیشن کے قالب میں ڈھالنا نہیں تھا بلکہ یہ تسلیم کرنا تھا کہ گیراج کی اپنی فیشن، اپنی پہچان اور اپنا انداز پہلے سے موجود ہے۔ اس کلیکشن کے ذریعے ان کمیونٹیز کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی جنہوں نے اسے متاثر کیا۔
مواد کی کہانی: کوڑے سے کپڑا
کلیکشن کی تیاری شکاگو میں مقیم جنوبی افریقی فنکار، فیشن ڈیزائنر اور سرگرم کارکن کارلو گبسن کو سونپی گئی۔ ان کے بقول کوئی بھی مواد محض مواد نہیں ہوتا بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے اور چیلنج یہ ہے کہ اس کے لیے نیا مستقبل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کوڑے کے ڈھیر سے نکالا گیا کپڑا، پیراشوٹ کا پرانا کپڑا، پرانی جینز اور 1975 کی فوجی جرسی استعمال کی۔
ماحولیاتی اثرات کو کم رکھنے کے لیے جینز کے ٹکڑوں پر براہِ راست پرنٹنگ کی گئی بجائے اس کے کہ روایتی رنگائی کی جاتی جو پانی اور کیمیکلز کا بھاری استعمال مانگتی ہے۔ گبسن کے مطابق پائیدار فیشن کا کوئی کامل جواب نہیں، اصل بات یہ ہے کہ کم خریدا جائے، سوچ سمجھ کر انتخاب کیا جائے اور کپڑوں سے طویل عمر کی توقع رکھی جائے۔ کلیکشن کی تیاری میں ایک فیشن ڈیزائن انٹرن اور مقامی درزیوں کو بھی شامل کیا گیا تاکہ مقامی ہنر اور روزگار کو فروغ ملے۔

پائیدار فیشن کا جنوبی افریقی چہرہ
جنوبی افریقہ میں پائیدار فیشن کی تحریک کئی دھاروں میں بہہ رہی ہے۔ ٹوِگ ایک غیر منفعتی میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کی بنیاد 2018 میں رکھی گئی اور جو پائیدار فیشن اور ٹیکسٹائل ڈیزائن کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے فیشن اور طرزِ زندگی نیٹ ورک کا رکن ہے اور پائیدار ترقی کے بارہویں ہدف یعنی ذمہ دار کھپت اور پیداوار کی حمایت کرتا ہے۔
ٹوِگ سسٹین ایبل فیشن ایوارڈز کے ذریعے ڈیزائنرز، کاریگروں، خوردہ فروشوں، طلبہ اور رابطہ کاروں سمیت فیشن کے پورے نظام میں کام کرنے والوں کی خدمات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس سال چینج میکر، ٹرانس سیزنل ڈیزائن، آرٹیزنل فیشن، پین افریقن اور ٹیسٹ میکر جیسے زمرے شامل ہیں اور بہترین مجموعی امیدوار کو ایک لاکھ رینڈ کا کیش انعام ملے گا۔
ڈیزائنرز کی عالمی نمائندگی
سندیسو کھومالو کا برانڈ قدیم طرزوں، ہاتھ کی بنائی، کڑھائی اور نڈیبیلے و زولو ورثے سے متاثر ڈیزائنوں کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ خواتین کے بااختیار بنانے کے کام میں بھی سرگرم ہیں۔ لوکھانیو مدینگی بھی بین الاقوامی پائیدار فیشن مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان ڈیزائنرز کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ افریقی ورثہ اور جدید پائیداری ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
تیز فیشن بمقابلہ پائیدار فیشن
تیز فیشن اور پائیدار فیشن کے درمیان فرق صرف قیمت کا نہیں بلکہ سوچ کا ہے۔ درج ذیل جدول دونوں کے بنیادی فرق واضح کرتا ہے:
| پہلو | تیز فیشن | پائیدار فیشن |
|---|---|---|
| پیداوار کا چکر | تیز، موسمی رجحانات کے پیچھے | سست، موسمی حدود سے آزاد ڈیزائن |
| مواد | نیا اور سستا مواد | ری سائیکل شدہ اور اپ سائیکل مواد |
| پانی اور کیمیکل | رنگائی میں بھاری استعمال | براہِ راست پرنٹنگ، کم پانی کا استعمال |
| کپڑے کی عمر | مختصر، جلد فضلہ | طویل، مرمت اور دوبارہ استعمال ممکن |
| فضلے کا انجام | کوڑے کے ڈھیر | کوڑا بھی نیا مواد بن جاتا ہے |

خلاصہ
کواماگیش کی ہیٹ آن دی اسٹریٹ تقریب اور ٹوِگ ایوارڈز دونوں ایک ہی پیغام دیتے ہیں: فیشن کی تبدیلی صرف ڈیزائنرز کے بس کی بات نہیں بلکہ پورے نظام کی ذمہ داری ہے۔ کم خریدنا، سوچ سمجھ کر چننا اور پرانے کپڑوں کو نئی زندگی دینا ہی پائیدار فیشن کا اصل راستہ ہے۔ پائیدار طرزِ زندگی پر ہماری مزید رپورٹس یہاں پڑھیں اور وطن نیوز اردو کی تازہ ترین خبریں دیکھیں۔






















