اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف نہیں لڑیں گے اور وہ ان کے بھائی ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بھی صوبے کی قیادت شریک نہیں ہوئی، جس پر انہوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
اہم نکات
- شیری رحمان کے دعوے کے مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے طالبان کے خلاف جنگ لڑنے سے انکار کیا ہے۔
- ان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھیں اور بات چیت میں دہشت گردی کا معاملہ سرفہرست تھا۔
- ان کے بقول مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کہ افغانستان سے ایک شخص ہدایات دے رہا تھا۔
- انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت مذاکراتی اجلاس میں موجود نہیں تھی۔
- ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کبھی ریاست کے خلاف نہیں کھڑی ہوئی۔
شیری رحمان سینیٹ میں: مذاکرات کی ناکامی پر سوال
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ وہ مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھیں اور مذاکرات میں دہشت گردی کا معاملہ بات چیت کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا۔ ان کے بقول ان کے لیے دہشت گردی سرخ لکیر ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کہ ایک شخص افغانستان سے ہدایات دے رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی نبیل گبول نے بھی اسی نکتے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ افغانستان سے آنے والی ہدایات تھیں۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت مذاکراتی اجلاس میں شریک نہیں ہوئی تھی اور وزیرِ اعلیٰ یا ان کے نمائندوں کو مذاکرات میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ ان کے بقول تحریکِ انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے سچے دل سے کوشش کی، تاہم خیبر پختونخوا سے کوئی نمائندہ نہیں آیا۔

وزیرِ اعلیٰ کے مؤقف سے متعلق دعویٰ
شیری رحمان نے ایوان میں دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف نہیں لڑیں گے اور وہ طالبان کے بھائی ہیں۔ یہ دعویٰ ان کی اپنی تقریر میں سامنے آیا اور اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے صدر آصف علی زرداری تک پیپلز پارٹی کے لیے تلخ سفر رہا ہے اور ان کے قائدین نے قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کبھی ریاست کے خلاف نہیں کھڑی ہوئی، جبکہ تحریکِ انصاف کی ترجیح صرف بانی چیئرمین کو باہر نکالنا ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال کا پس منظر
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال اور صوبے کے انتظامی معاملات کئی روز سے قومی سیاست میں زیرِ بحث ہیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد بھی بحث کے لیے پیش کی گئی تھی۔ سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی تحریکِ انصاف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات ایوان کے سامنے رکھیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
ملک بھر کی مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔



























