اروناچل پردیش میں ٹکراؤ کی تصدیق کے بعد انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ انڈیا کی سرحدی فورس کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اروناچل پردیش کے کئی مقامات پر انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور یہ صورتحال تاحال جاری ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سرکاری سطح پر اروناچل پردیش میں حالیہ ٹکراؤ کا کھلے عام اعتراف کیا گیا ہے۔
اہم نکات
- انڈو تبتن بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اروناچل پردیش کے کئی مقامات پر انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ کی تصدیق کی ہے۔
- سربراہ کے مطابق حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال اب بھی جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں فورسز تعینات ہیں۔
- رپورٹوں کے مطابق جولائی سے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں دونوں افواج آمنے سامنے ہیں۔
- دونوں ملکوں کے کور کمانڈروں کے درمیان 6 ستمبر کو مذاکرات بھی ہوئے تھے، تاہم مقامی سطح پر کشیدگی برقرار ہے۔
- تاحال ان حالیہ ٹکراؤوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
- بارڈر فورس نے شوریہ کمانڈو ٹیموں، ڈرونز اور زیر زمین پناہ گاہوں کے ذریعے سرحدی تیاریاں مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اروناچل پردیش میں ٹکراؤ کی تازہ صورتحال
انڈیا کی شمال مشرقی سرحدوں کی نگرانی کرنے والی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے راجستھان کے شہر الور میں فورس کی ایک سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس میں کئی مقامات پر ٹکراؤ کا سامنا ہوا اور یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔
انھوں نے اس صورتحال سے نمٹنے میں فورس کی نئی شوریہ کمانڈو ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ جلد ہی شوریہ کمانڈوز کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دی جائے گی۔ چین کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ حال ہی میں تشکیل دی گئی شوریہ کمانڈو فورس بہترین کام کر رہی ہے اور وہاں شوریہ کمانڈوز نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے اروناچل کے کئی سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں انڈین فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔
تاکسنگ اور اسافیلا: جولائی سے جاری کشیدگی
رپورٹوں کے مطابق اروناچل پردیش کے ضلع اپر سوبنسری میں تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کا علاقہ گزشتہ جولائی سے کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ روزنامہ دی ہندو نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جولائی میں کسی وقت ماجا کے مقام پر انڈین اور چینی افواج آمنے سامنے آ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مختصر کشیدگی کے بعد دونوں جانب کے فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ وہاں پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے انڈیا اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔
یہ صورتحال 11 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس، جس میں چینی صدر بھی شریک ہوئے تھے، اور جولائی کے بعد سرحدی تنازع پر ہونے والے اعلیٰ سطح کے تین مذاکراتی ادوار کے باوجود برقرار رہی۔
جدید آلات، ڈرونز اور مذاکرات کا راستہ
آئی ٹی بی پی کے سربراہ نے کہا کہ چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا اب شاید زیادہ مشکل ہو گیا ہے، اس لیے فورس کو جدید آلات کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ڈرونز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈرونز کے ذریعے ایک چھوٹا ملک بھی بڑی طاقت کو چیلنج کر سکتا ہے، اور اس کی مثال یوکرین اور ایران کے حالیہ تجربات میں دیکھی جا سکتی ہے۔
فورس ہر سرحدی بٹالین میں ڈرون پلاٹون قائم کر رہی ہے، ڈرون اور ڈرون شکن نظاموں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور آئندہ چوکیوں پر زیر زمین پناہ گاہیں تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ فورس نے ’اسٹرائیک‘ نامی تربیتی کورس بھی شروع کیا ہے جسے 2027 کے آخر تک پوری فورس مکمل کر لے گی۔
دوسری جانب سفارتی اور عسکری سطح پر رابطے بھی جاری ہیں۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر گشت اور دیگر معاملات کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے مقامی فوجی کمانڈروں کے درمیان متعدد ملاقاتوں کے بعد 6 ستمبر کو دونوں ملکوں کے کور کمانڈروں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد کی اصل حد کے بارے میں دونوں ملکوں کے مختلف تصورات ہی گشت کے دوران ٹکراؤ کی بنیادی وجہ بنتے ہیں۔
2020 میں وادی گلوان میں ہونے والے خونریز تصادم کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہی ہے، اور اروناچل پردیش میں تازہ ٹکراؤ نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا مذاکرات کا راستہ مقامی سطح کی کشیدگی کو مکمل طور پر ختم کر سکے گا یا نہیں۔ عالمی خبروں کی مزید تفصیل کے لیے وطن نیوز کا عالمی صفحہ ملاحظہ کریں۔






























