LIVE
اہم خبر
پاکستان نے پہلا مقامی فضا سے فضا میزائل فاز کامیابی سے آزما لیاخیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کا جائزہ، وزیراعظم نے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کر دیکراچی میں عالمی ثقافتی میلہ جاری: ڈیڑھ سو ممالک کے فنکار، تھیٹر، موسیقی اور فلم کی رونقکلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیںاین فیلڈ میں ایک ہزار گھروں میں ری سائیکل شدہ کیڈیوں کا تجربہ، خوراک کے ضیاع کی ری سائیکلنگ بڑھانے کی کوششانتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیےترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیاآرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیقسہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسالآذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغازبرطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سختپشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زورفو بوجیے کو چین کے لویس پلیٹو کی بحالی پر 2026 کا وولوو ماحولیاتی انعام ملامہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہیدقطر کے گیس ٹینکر پر خلیج میں حملہ، عملہ محفوظ مگر حملہ آور کا معمہ برقرارپیرس میں نیٹ ورک نیچر ویک کا آغاز، فطرت پر مبنی حل موسمیاتی عمل کے مرکز میںلاہور میں سموگ کی نئی لہر؛ اے کیو آئی 535 تک پہنچا، دنیا بھر میں پہلا نمبراسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کر لیفلپائن میں موسمیاتی شعور ہفتہ 2026 کے لیے حکومت کی ملک گیر تیاریمیسا نے نوجوانوں کے 11 موسمیاتی منصوبوں کو 40 ہزار ڈالر دیےپاکستان نے پہلا مقامی فضا سے فضا میزائل فاز کامیابی سے آزما لیاخیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کا جائزہ، وزیراعظم نے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کر دیکراچی میں عالمی ثقافتی میلہ جاری: ڈیڑھ سو ممالک کے فنکار، تھیٹر، موسیقی اور فلم کی رونقکلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیںاین فیلڈ میں ایک ہزار گھروں میں ری سائیکل شدہ کیڈیوں کا تجربہ، خوراک کے ضیاع کی ری سائیکلنگ بڑھانے کی کوششانتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیےترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیاآرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیقسہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسالآذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغازبرطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سختپشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زورفو بوجیے کو چین کے لویس پلیٹو کی بحالی پر 2026 کا وولوو ماحولیاتی انعام ملامہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہیدقطر کے گیس ٹینکر پر خلیج میں حملہ، عملہ محفوظ مگر حملہ آور کا معمہ برقرارپیرس میں نیٹ ورک نیچر ویک کا آغاز، فطرت پر مبنی حل موسمیاتی عمل کے مرکز میںلاہور میں سموگ کی نئی لہر؛ اے کیو آئی 535 تک پہنچا، دنیا بھر میں پہلا نمبراسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کر لیفلپائن میں موسمیاتی شعور ہفتہ 2026 کے لیے حکومت کی ملک گیر تیاریمیسا نے نوجوانوں کے 11 موسمیاتی منصوبوں کو 40 ہزار ڈالر دیے
پاکستان

خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کا جائزہ، وزیراعظم نے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کر دی

News Desk 2شائع شدہ 3 نومبر، 2026
خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کا جائزہ، وزیراعظم نے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کر دی
Share this story

اسلام آباد میں 3 نومبر 2026 کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج، جس کی مالیت 160 ارب روپے ہے، پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں قومی اور داخلی سلامتی کے امور زیر غور آئے اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی۔

اہم نکات

  • وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں اعلی سطح اجلاس کی صدارت کی۔
  • خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں اب تک اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
  • اجلاس میں 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
  • بارہ اضلاع میں امن و امان کی صورت حال اور ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کی کارکردگی زیر غور آئی۔
  • وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کی۔

خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد کا جائزہ

اجلاس میں اعلی عسکری و سول حکام اور وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے مختلف شعبوں میں اب تک اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر کام کہاں تک پہنچا ہے اور اس کی رفتار کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بارہ اضلاع میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کی اب تک کی کارکردگی پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکام، صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے مزید بہتر بنائے جائیں تاکہ ترقیاتی کاموں اور امن کی بحالی کی کوششیں ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے میں ترقیاتی کام
خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔

پیکیج کا پس منظر

خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان اکتوبر 2026 میں پشاور میں ہونے والے اعلی سطح اجلاسوں کے دوران کیا گیا تھا۔ اس پیکیج کا مقصد ضم شدہ اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنا اور عوام کو بنیادی سہولتیں پہنچانا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا نے بتایا تھا کہ اس رقم کا بڑا حصہ ان علاقوں پر خرچ ہوگا جو ماضی میں محروم رہے ہیں۔

صوبے کو اس وقت دہشت گردی، بے روزگاری، کمزور انفراسٹرکچر اور ناکافی عوامی خدمات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ امن کی بحالی اور ترقیاتی کاموں کو ساتھ ساتھ چلانا ضروری ہے تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آ سکے۔

صوبے کے لیے آئندہ اقدامات

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی پیکیج کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے وفاق اور صوبے کے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو موثر کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے امور بھی اجلاس میں زیر بحث آئے۔

اجلاس کی تفصیلات ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ پیکیج کے تحت منصوبوں کی تفصیل اور ان کی تکمیل کے مراحل کے بارے میں مزید معلومات آئندہ دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔

متعلقہ خبریں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں
نمایاں خبر

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶ کے لیے درخواستیں کھل گئی ہیں جو بدلتی آب و ہوا میں افریقہ کے کسانوں اور برادریوں کے خوراک اگانے، بانٹنے اور حاصل کرنے کی رپورٹنگ کو سراہتے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶ کے لیے درخواستیں کھل گئی ہیں جو بدلتی آب و ہوا میں افریقہ کے کسانوں اور برادریوں کے خوراک اگانے، بانٹنے اور حاصل کرنے کی رپورٹنگ کو سراہتے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع

یو این او ایچ آر ایل ایل ایس نے 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے مکمل مالی مدد یافتہ صحافتی فیلوشپ کھول دی ہے، جس کے تحت منتخب صحافی 25 سے 27 مارچ 2027 کو دوحہ میں دوحہ پروگرام برائے عمل کے وسط مدتی جائزے کی کوریج کریں گے۔ درخواستیں 30 نومبر 2026 کو بند ہوں گی۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔