اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق قرارداد بحث کے لیے پیش کر دی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت جاری اجلاس میں وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان بھی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ صدارتی فرمان صدر آصف علی زرداری نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی کابینہ کی سفارش پر 11 اکتوبر کو جاری کیا تھا۔
اہم نکات
- اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد بحث کے لیے پیش کر دی گئی۔
- وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قرارداد ایوان میں پیش کی، جبکہ ایمرجنسی کا صدارتی فرمان بھی قومی اسمبلی میں رکھا گیا۔
- وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے کے غور و خوض کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی تھی۔
- اعظم نذیر تارڑ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
- اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کی کارروائی بھی معطل کر دی گئی۔
قرارداد کی توثیق پر بحث
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان سے استدعا کی کہ وقفۂ سوالات معطل کیا جائے، جس کے بعد ایوان میں وقفۂ سوالات کی کارروائی معطل کر دی گئی۔ وزیرِ پارلیمانی امور نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں بحث کے لیے پیش کی۔
ایوان میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان بھی پیش کیا گیا۔ آئین کے تحت ایمرجنسی کے صدارتی فرمان کی پارلیمنٹ سے توثیق ضروری ہوتی ہے، اور اسی آئینی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں لایا گیا۔
وفاقی وزیرِ قانون کا موقف
اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ تھا۔
وزیرِ قانون نے ایوان میں کہا کہ کچھ ارکان نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر منتخب حکومت کو باہر پھینک دیا گیا ہے، تاہم حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر کیا گیا۔

پس منظر
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ 11 اکتوبر کو ہوا تھا، جس کے بعد صوبے کے انتظامی امور گورنر فیصل کریم کنڈی سنبھال رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کو آئینی حمایت حاصل ہو جائے گی۔ مزید قومی خبریں اور تازہ ترین صورتحال وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔



























