ابوجا، نائیجیریا — نائیجیریا کے موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2021 کے محرک سیم ایفینی اونوئیگبو کو موسمیاتی تبدیلی کی وکالت اور عملی اقدامات میں خدمات کے اعتراف میں سولر انرجی سوسائٹی آف نائیجیریا کی فیلوشپ سے نوازا گیا ہے۔
یہ اعزاز 43 ویں نیشنل سولر انرجی فورم اور کانفرنس میں دیا گیا، جہاں اونوئیگبو کو دیگر نمایاں نائیجیری شخصیات کے ہمراہ نوازا گیا۔ اس خبر کی تصدیق 26 اور 28 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹوں سے ہوتی ہے۔

موسمیاتی قانون سازی اور شمسی توانائی کی وکالت کا اعتراف
اونوئیگبو نائیجیریا کے ایوان نمائندگان کے سابق رکن ہیں اور اس وقت گلوب لیجسلیٹرز انٹرنیشنل کے صدر ہیں، جو 99 سے زیادہ ممالک کے اراکین پارلیمان کا نیٹ ورک ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2021 کی تحریک پیش کی تھی، جس نے نائیجیریا میں موسمیاتی حکمرانی کے لیے قانونی اور ادارتی ڈھانچہ قائم کیا۔
سولر انرجی سوسائٹی آف نائیجیریا کے صدر ڈاکٹر سنی اکپوئیبو کے مطابق، یہ ایکٹ معیشت کے مختلف شعبوں میں موسمیاتی اقدامات کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے اور موسمیاتی لچک، کم کاربن ترقی اور خالص صفر اخراج کی جانب منتقلی کے لیے ملک کے عزم کو آگے بڑھاتا ہے۔
اونوئیگبو نے ڈاکٹر اکپوئیبو کو تشکری خط میں اس فیلوشپ کو نائیجیریا، افریقہ اور دنیا بھر میں موسمیاتی اقدامات میں اپنی خدمات کا اعتراف قرار دیا۔
موسمیاتی قانون کو عملی اقدامات میں بدلنا
اس اعزاز پر اپنے ردعمل میں اونوئیگبو نے کہا کہ یہ فیلوشپ صرف ماضی کی خدمات کا اعتراف نہیں بلکہ زیادہ ذمہ داری کی دعوت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سوسائٹی کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید گہرا کریں گے اور ایسے اقدامات کی حمایت کریں گے جو شمسی توانائی کے استعمال کو بڑھائیں، موسمیاتی حکمرانی کو مضبوط کریں اور صاف توانائی کی منتقلی کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی فوائد کو عام کریں۔
انہوں نے موسمیاتی قانون سازی کو عملی اقدامات میں بدلنے، نائیجیریا کی توانائی کی منتقلی کو تیز کرنے اور خالص صفر اخراج کی راہ کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
نائیجیریا کے لیے شمسی توانائی کیوں اہم ہے
نائیجیریا کو توانائی تک رسائی کے چیلنجز کا سامنا ہے، اور فورم سے متعلق رپورٹوں میں پائیدار ترقی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جن میں شمسی توانائی بھی شامل ہے، پر نئی توجہ کا ذکر ہے۔
اونوئیگبو نے شمسی توانائی کو اس منتقلی کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ اس سے کم سہولت یافتہ اور غیر سہولت یافتہ کمیونٹیز تک بجلی پہنچ سکتی ہے، سبز صنعت کو فروغ مل سکتا ہے، روزگار پیدا ہو سکتے ہیں اور کاربن کا اخراج کم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صاف توانائی کی جانب منتقلی کو صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی موقع اور آنے والی نسلوں کے تئیں ذمہ داری بھی سمجھا جانا چاہیے۔
اہم نکات
- کون: سیم ایفینی اونوئیگبو، نائیجیریا کے موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2021 کے محرک اور گلوب لیجسلیٹرز انٹرنیشنل کے صدر۔
- کیا: سولر انرجی سوسائٹی آف نائیجیریا کی فیلوشپ۔
- کہاں: 43 ویں نیشنل سولر انرجی فورم اور کانفرنس، نائیجیریا۔
- کیوں: موسمیاتی تبدیلی کی وکالت اور عملی اقدامات اور شمسی توانائی میں خدمات کا اعتراف۔
- آگے کیا: اونوئیگبو نے شمسی توانائی کے استعمال، موسمیاتی حکمرانی اور صاف توانائی کی منتقلی پر مزید کام کا عزم ظاہر کیا۔
عمومی سوالات
سیم ایفینی اونوئیگبو کون ہیں؟
وہ نائیجیریا کے ایوان نمائندگان کے سابق رکن، موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2021 کے محرک اور گلوب لیجسلیٹرز انٹرنیشنل کے صدر ہیں، جو 99 سے زیادہ ممالک کے اراکین پارلیمان کا نیٹ ورک ہے۔
انہیں کون سی فیلوشپ ملی ہے؟
انہیں سولر انرجی سوسائٹی آف نائیجیریا کی فیلوشپ 43 ویں نیشنل سولر انرجی فورم اور کانفرنس میں دی گئی۔
نائیجیریا کا موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2021 کیا ہے؟
یہ وہ قانون ہے جس کی تحریک اونوئیگبو نے پیش کی تھی اور جس نے نائیجیریا میں موسمیاتی حکمرانی کے لیے قانونی اور ادارتی ڈھانچہ قائم کیا، جس میں موسمیاتی لچک، کم کاربن ترقی اور خالص صفر اخراج کی منتقلی شامل ہے۔
نائیجیریا کے لیے شمسی توانائی کیوں اہم ہے؟
اونوئیگبو کے مطابق، شمسی توانائی کم سہولت یافتہ اور غیر سہولت یافتہ کمیونٹیز تک بجلی پہنچا سکتی ہے، سبز صنعت کو فروغ دے سکتی ہے، روزگار پیدا کر سکتی ہے اور کاربن کا اخراج کم کر سکتی ہے، ایسے وقت میں جب نائیجیریا کو توانائی تک رسائی کے چیلنجز درپیش ہیں۔
اونوئیگبو نے آگے کیا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے؟
انہوں نے سولر انرجی سوسائٹی آف نائیجیریا کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید گہرا کرنے اور ایسے اقدامات کی حمایت کا عزم ظاہر کیا جو شمسی توانائی کے استعمال کو بڑھائیں، موسمیاتی حکمرانی کو مضبوط کریں اور صاف توانائی کی منتقلی کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی فوائد فراہم کریں۔
مزید موسمیاتی خبریں وتن نیوز انٹرنیشنل پر پڑھیں۔



























