امریکی جریدے بلومبرگ کی ایک تازہ رپورٹ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک نئے دور کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے خلیج فارس کی جانب تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا اور دس ہزار اضافی ملاح و میرینز روانہ کر دیے گئے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی کارروائی کے حتمی وقت یا فیصلے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔
اہم نکات
- بلومبرگ کی رپورٹ: صدر ٹرمپ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا اشارہ دے چکے ہیں
- خلیج فارس کی جانب تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا اور دس ہزار اضافی ملاح و میرینز روانہ کر دیے گئے
- امریکی وزیر دفاع کا اسرائیل کا اچانک دورہ، سعودی عرب سے بعض سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کی واپسی کا حکم
- ایران نئے حملوں کے امکان کے پیش نظر تیاری کر رہا ہے اور خطے میں جوابی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے
- رواں سال برینٹ خام تیل کی قیمت میں اسی فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے
- کسی نئی کارروائی کے حتمی فیصلے یا وقت کی تصدیق نہیں ہوئی، سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا ہوا ہے
خلیج میں فوجی تیاریاں کیا ہیں؟
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے خلیج فارس میں اپنے کمانڈروں کو زیادہ عسکری اختیارات دینے کے لیے ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا روانہ کیا ہے، جس کے ساتھ تقریباً دس ہزار اضافی ملاح اور میرینز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس اضافے کے بعد خطے میں امریکی طیارہ بردار بیڑوں کی تعداد تین ہو جائے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بعض امریکی فوجی اڈوں پر تعینات اہلکاروں کی تعداد کم کی گئی ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں ایرانی جوابی حملوں سے شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اسی ہفتے امریکی وزیر دفاع نے اسرائیل کا اچانک دورہ بھی کیا اور وہاں کی قیادت سے ملاقات کی۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات بعض سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کی واپسی کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھا دیے ہیں اور دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے اور توانائی کی تنصیبات کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

انتخابات کیوں اہم ہیں؟
رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات متوقع ہیں، جبکہ امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے، جن میں ایوان نمائندگان کی تمام نشستوں، سینیٹ کی متعدد نشستوں اور کئی ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب ہوگا۔ بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق امریکی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں، اور یہ صورتحال حکمران جماعت کے لیے کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج بھی بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد سے نئی کانگریس کے اقتدار سنبھالنے تک کا عرصہ سب سے زیادہ حساس ہوگا۔ خلیجی ممالک کے بعض حکام کو خدشہ ہے کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو اس کی شدت پہلے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا دوبارہ آغاز توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے، کیونکہ خلیج فارس سے توانائی کی ترسیل میں خلل کے باعث رواں سال برینٹ خام تیل کی قیمت میں اسی فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
ایران کا ردعمل اور سفارت کاری کا امکان
رپورٹ کے مطابق ایران وسط مدتی انتخابات کے آس پاس ایک نئی امریکی بمباری کی مہم کے لیے تیاری کر رہا ہے اور خطے میں جوابی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ تہران کے مؤقف سے واقف ذرائع کے مطابق تنازع سے نکلنے کا واحد راستہ ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں فریق اپنی کامیابی کا دعویٰ کر سکیں۔
دوسری جانب امریکی صدر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کا معاملہ مکمل طور پر حل کرنا پڑ سکتا ہے یا ایران سے معاہدہ بھی ہو سکتا ہے، اور ایرانی فریق معاہدہ چاہتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اس ہفتے کہا ہے کہ اگر اس بات کا معتبر ثبوت ملے کہ امریکہ واقعی منصفانہ، باوقار اور مستقل حل چاہتا ہے تو ایران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے، تاہم فی الحال پیش رفت کی زیادہ امید نہیں ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی بڑی کارروائی کا حتمی فیصلہ یا اس کے وقت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، اور حالیہ سفارتی کوششیں بھی اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ خطے کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات توانائی کی منڈی، عالمی تجارت اور عام شہریوں کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































