نیویارک: کورنیل یونیورسٹی میں مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے کی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے سات فرٹرنٹی اراکین کے ساتھ نرمی برتنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
مبینہ جرم اور ابتدائی تحقیقات
یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا جب ایک طالبہ نے دعویٰ کیا کہ اسے نشہ آور دوا دی گئی اور سات گھنٹے تک مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ طالبہ کے وکلاء کے مطابق، چی فی فرٹرنٹی کے صرف دو اراکین کو یونیورسٹی سے نکالا گیا، جبکہ باقی سات کے خلاف کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ دیگر کو مضمون لکھنے، ورکشاپس میں شرکت کرنے یا مختصر معطلی جیسی سزائیں دی گئیں۔
- اکتوبر 2024 میں کورنیل یونیورسٹی میں اجتماعی عصمت دری کا مبینہ واقعہ پیش آیا۔
- متاثرہ طالبہ نے دعویٰ کیا کہ اسے نشہ آور دوا دی گئی اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
- چی فی فرٹرنٹی کے سات اراکین کو مبینہ طور پر ملوث پایا گیا۔
- یونیورسٹی انتظامیہ نے صرف دو اراکین کو نکالا، جبکہ دیگر کو معمولی سزائیں دی گئیں۔
سول مقدمہ اور عوامی ردعمل
ستمبر 2026 کے اوائل میں، طالبہ نے یونیورسٹی اور مبینہ حملہ آوروں کے خلاف سول مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے کے منظر عام پر آنے کے بعد، خاص طور پر متاثرہ طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے افراد کے ساتھ نرمی برتنے پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے نے خوب توجہ حاصل کی اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھا۔
ضلعی اٹارنی کا دوبارہ جائزہ
28 ستمبر 2026 کو، ٹامپکنز کاؤنٹی کے ضلعی اٹارنی میتھیو وین ہاؤٹن نے اعلان کیا کہ ان کا دفتر اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ طالبہ، جو اس وقت 20 سال کی تھی، نے اپنے مقدمے میں ایسے الزامات عائد کیے ہیں جو دو سال قبل پولیس کو دیے گئے بیان سے نمایاں طور پر مختلف تھے۔
اٹارنی کا مؤقف اور وضاحت
وین ہاؤٹن نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے اپنے دفتر کے اس فیصلے کا دفاع کیا کہ ابتدائی طور پر فوجداری الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2024 میں طالبہ کے بیان میں اسے زبردستی نشہ آور دوا دینے یا اجتماعی عصمت دری کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
- نومبر 2024 میں، متاثرہ طالبہ نے پولیس کو بیان دیا جس میں اس نے رضاکارانہ طور پر منشیات کے استعمال اور جنسی تعلق کا ذکر کیا۔
- بیان میں اجتماعی عصمت دری یا زبردستی نشہ آور دوا دینے کا کوئی الزام شامل نہیں تھا۔
- وین ہاؤٹن کے مطابق، ان کا دفتر اس وقت کے بیان کی بنیاد پر فیصلہ کرنے پر مجبور تھا۔
- سول مقدمہ ستمبر 2026 میں دائر کیا گیا، جو ابتدائی بیان سے تقریبا دو سال بعد تھا۔
نئے شواہد اور تحقیقات کا دائرہ
وین ہاؤٹن نے مزید کہا کہ انہیں متاثرہ طالبہ کے وکلاء کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تاکہ وہ اپنے ابتدائی بیان کی درستگی یا فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد انہوں نے خود وکلاء سے رابطہ کیا تاکہ بیان اور مقدمے کے الزامات کے درمیان فرق کو سمجھا جا سکے۔
گرینڈ جیوری کے لیے کیس کی تیاری
ضلعی اٹارنی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایک سینئر خاتون پراسیکیوٹر کو گرینڈ جیوری کے لیے کیس تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ صدمے سے نکلنے کا عمل ہر فرد کے لیے ذاتی اور مختلف ہوتا ہے۔
- وین ہاؤٹن نے ایک سینئر خاتون پراسیکیوٹر کو کیس تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
- گرینڈ جیوری کے سامنے شواہد پیش کیے جائیں گے۔
- ان کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے بعض اوقات کیسز کو دوبارہ کھولنا پڑتا ہے۔
- نئے شواہد کی فراہمی پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
متاثرہ طالبہ کا بیان اور یونیورسٹی کی پالیسی
وین ہاؤٹن نے ایک تفصیلی خلاصہ بھی جاری کیا جس میں طالبہ کی جانب سے یونیورسٹی پولیس کو فراہم کردہ چھ صفحات پر مشتمل بیان شامل تھا۔ اس بیان میں مبینہ طور پر زیادتی کے واقعات کی تفصیلات شامل تھیں۔ تاہم، ابتدائی تحقیقات میں ان الزامات کی بنیاد پر فوجداری کارروائی کے لیے ناکافی شواہد پائے گئے۔ یونیورسٹی کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
نتیجہ
کورنیل یونیورسٹی میں مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا آغاز ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی دباؤ اور نئے شواہد کی صورت میں انصاف کے حصول کے لیے ماضی کے فیصلوں پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ متاثرہ طالبہ کے لیے یہ ایک نازک مرحلہ ہے اور امید ہے کہ تحقیقات شفاف اور منصفانہ ہوں گی۔
اس معاملے نے امریکی یونیورسٹیوں میں جنسی تشدد اور اس کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے واقعات میں متاثرین کو مکمل انصاف ملے اور ذمہ داروں کو ان کے اعمال کی سزا ہو۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے معاملات میں زیادہ حساسیت اور تیزی سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
مبینہ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ کب پیش آیا؟
مبینہ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا۔
کتنے فرٹرنٹی اراکین کو ملوث پایا گیا؟
چی فی فرٹرنٹی کے سات اراکین کو مبینہ طور پر ملوث پایا گیا۔
تحقیقات دوبارہ کیوں شروع کی گئیں؟
مبینہ حملہ آوروں کے ساتھ نرمی برتنے پر عوامی ردعمل اور متاثرہ طالبہ کی جانب سے سول مقدمے میں نئے الزامات عائد کرنے کی وجہ سے تحقیقات دوبارہ شروع کی گئیں۔
ضلعی اٹارنی نے ابتدائی طور پر فوجداری الزامات عائد نہ کرنے کی کیا وجہ بتائی؟
ضلعی اٹارنی میتھیو وین ہاؤٹن کے مطابق، نومبر 2024 میں متاثرہ طالبہ کے بیان میں اجتماعی عصمت دری یا زبردستی نشہ آور دوا دینے کا کوئی الزام شامل نہیں تھا، اور اس نے رضا
ابتدائی تحقیقات کے بعد یونیورسٹی نے کیا کارروائی کی تھی؟
یونیورسٹی نے چی فی فرٹرنٹی کے صرف دو اراکین کو نکالا تھا، جبکہ دیگر کو مضمون لکھنے، ورکشاپس میں شرکت کرنے یا مختصر معطلی جیسی سزائیں دی گئیں۔






















